islami hakiyat

حکایات:حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ظالم بادشاہ

EjazNews

اللہ تعالیٰ کے ایک نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام گزرے ہیں جو اللہ کے دوست تھے کافروں نے ان کو آگ میں ڈالا تھا لیکن اللہ کے حکم سے زندہ سلامت رہے۔
جب کافروں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت ستایا تو خدا کے حکم سے اپنی بیوی حضرت سارہ ؓ کو اپنے ساتھ لے کر ہجرت کر کے ملک شام کی طرف چلے راستے میں ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں پہنچے لوگوں نے اس ظالم بادشاہ سے کہا کہ ایک شخص یہاں آیا ہے اس کے ساتھ ایک بڑی خوبصورت عورت ہے اس ظالم بادشاہ نے ابراہیم علیہ السلام کو بلا بھیجا اورآپ سے دریافت کیا کہ یہ تمہارے ہمراہ کون عورت ہے (چونکہ ، یہ ظالم ، جب کسی شخص کی بیوی اس کے ہمراہ ہوتی تو خاوند کو مروا کر اس کی بیوی چھین لیتا اور اگر اس کے ساتھ باپ یا بھائی ہوتا تو چھوڑ دیتا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا اُختی یہ میری بہن ہے بادشاہ کے پاس سے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی حضرت سارہ ؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:
”اے سارہ ؓ میرے اور تیرے علاوہ روئے زمین پر کوئی مومن نہیں ہے اس ظالم بادشاہ نے تمہارے متعلق دریافت کیا تو میں نے تم کو اپنی بہن بتایا ہے تو تم میری بات کو نہ جھٹلانا۔“(بخاری)
اس ظالم نے سپاہی بھیج کر حضرت سارہ ؓ کو اپنے دربار میں بلایا جب اس ظالم نے حضرت سارہ ؓ کو دیکھا تو وہ حضرت سارہ ؓ کی طرف لپکا اور دست درازی کاارادہ کیا۔ اس پارسا سارہؓ کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس ظالم پر عذاب نازل فرمایا وہ اس سزا میں تڑپنے لگا۔ ہاتھوں میں کپکپی پیدا ہو گئی اور مرگی والے کی طرح ہاتھ پاﺅں مارنے لگا۔
حضرت سارہ ؓ کی اس کرامت کو دیکھ کر بولا ”ادعی اللہ لی ولا اضرک“۔ تم میرے چھٹکارے کے لئے خدا سے دعا کرو میں تمہیں نہیں ستاﺅں گا۔
حضرت سارہ ؓ نے یہ خیال کیا کہ اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اس عورت نے مار ڈالا۔ اس ظالم کے لئے دعا کی اور وہ اچھا ہوگیا۔
اچھا ہونے کے بعد پھر اپناقول اور اقرار بھول گیا اور چھیڑ خانی کرنے لگا اور شرارت پر اتر آیا پھر اس کو عذاب الٰہی نے پکڑ لیا۔ اور پہلے سے زیادہ اس کی بری حالت ہو گئی۔ پھر عاجزی کرنے لگا اور دعا کی درخواست کی حضرت سارہؓ کی دعا سے وہ اچھا ہوگیا۔
اسی طرح تین دفعہ ہوا آخر میں عاجز ہو کر اپنے ملازم کو بلا کر کہا ”انکم لم تاتونی بانسان“ تم میرے پاس کسی انسان کو نہیں لائے۔ بلکہ یہ کوئی بھوت ہے، اسے یہاں سے لے جاﺅ۔فاخذمھا ھاجر؟ پس بادشاہ نے سارہ کی خدمت کے لئے ہاجرہ کو دے کر دونوں کو رخصت کر دیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچیں تو اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔ اشارہ سے فرمایا، کیا حال ہے؟
سارہ نے کہا رد اللہ کید انکا فر فی نحرہ واحدم ھا جر الخ۔ اللہ نے اس کافر کے فریب کو اسی پر لٹا دیا ہے اور خدمت کے لئے ایک لونڈی ہاجرہ کو دیا ہے۔ (بخاری)
ملک شام پہنچنے کے بعد حضرت اسحق علیہ السلام پیدا ہوئے اور ان کے صاحبزادے حضرت یعقوب علیہ السلام انہی دونوں سے بنی اسرائیل اور بنی اسرائیل کے انبیاءہوئے۔
یہ بڑی نیک اور مبارک خاتون تھیں جن کی نسل سے ہزاروں نبی پیدا ہوئے۔
ان سے تم عبرت حاصل کرو کہ پارسا عورتوں کی اللہ کس طرح حفاظت فرماتا ہے اور خاوند کی فرمانبرداری کی وجہ سے کس طرح مصیبتوں کو دور کرتا ہے اورصبر کرنے سے اللہ تعالیٰ اولاد صالح دیتا ہے۔ ان کی نیکی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ قیامت تک ان کا نام روشن رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  کفل کی رہنما خاتون کا ذکر خیر