aramko

آرامکو کمپنی کی تیل تنصیبات پر حملہ:امریکہ کا ایران پر الزام، ایران کا انکار، سعودی عرب تحقیقات کر رہا ہے

EjazNews

سعودی اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ آرامکو تیل تنصیبات پر حملوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ ایرانی تھا۔اردو نیوز کے مطابق ریاض میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرنل المالکی نے کہا ہے کہ بقیق اور خریص میں تیل تنصیبات پر ہونے والے نقصانات کے علاوہ استعمال ہونے والا اسلحہ بہت جلد میڈیا کو دکھایا جائے گا۔کرنل المالکی نے مزید کہا کہ عالمی میڈیا کو متاثرہ تنصیبات کا دورہ بھی کرایا جائے گا۔انہوں کہا ہے کہ آرامکو کی تیل تنصیبات پر بڑا حملہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے تفتیشی ادارے تحقیق کر رہے ہیں، ابھی حتمی نتائج تک نہیں پہنچے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب اپنے مفادات اور شہریوں و مقیم غیر ملکیوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔ ترکی المالکی نے تیل تنصیبات پر حملہ کرنے والے ڈرون کی مختلف تصاویر دکھا کر بتایا کہ یہ ابابیل نامی ایرانی ساختہ ڈرونز ہیں۔دہشت گردوں نے آرامکو کی تیل سپلائی لائن کو نشانہ بناکر سعودی عرب ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق اتحادی افواج نے چھ ڈرون کا سراغ لگالیا ہے۔جبکہ دہشت گرد حوثی ملیشیا ایرانی ساختہ اسلحہ معصوم شہریوں کے خلاف استعمال کررہی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ یاد کریں جب ایران نے ڈورن یہ کہتے ہوئے مار گرایا تھا کہ یہ ان کے فضائی حدود میں تھا جبکہ حقیقت میں یہ اس کی حدود کے قریب بھی نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ جانتے ہوئے کہ یہ ایک سفید جھوٹ ہے، اپنی بنائی گئی کہانی پر قائم رہا۔ اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا سعودی عرب پر ہونے والے حملوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم دیکھیں گے؟امریکہ نے سعودی عرب میں ہفتے کو آرامکو پلانٹ پر کیے جانے والے حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے دعوے کے ثبوت میں سیٹلائٹ تصاویر اور انٹیلی جنس معلومات بھی جاری کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  غداروں کی لسٹ میں ایک اور کشمیری شامل


جبکہ گزشتہ روز ایران نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔ ڈرون حملوں کی ذمہ داری یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے قبول کی تھی ۔
العربیہ نیٹ کے مطابق امریکی ذ مہ دارں کا کہنا ہے کہ شواہد اس بات کا پتہ دے رہے ہیں کہ یہ حملے کروز میزائل کے ذریعے کیے گئے اور ان کے لیے عراق یا ایران کی سرزمین استعمال ہوئی۔ امریکی حکام کی مطابق معلومات سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ حملہ یمن سے ڈرون کے ذریعے نہیں کیا گیا۔ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کے دوران آرامکو کے دو پلانٹس کے اندر 17 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ سعودی اور امریکی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ گذشتہ روز آرامکو کی تیل کی تنصیبات پر حملے میں ایران یا عراق سے میزائل تو نہیں داغے گئے تھے؟

یہ بھی پڑھیں:  چین سے باہر اٹلی دنیا میں سب سے زیادہ کرونا وائرس سے متاثر ہے