shafa inquiry

توہین مذہب کا الزام: گھوٹکی میں حالات کشیدہ

EjazNews

گھوٹکی میں ایک سکول کے طالب علم نے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے سکول پرنسپل پر مبینہ طور پر توہین مذہب کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد سکول کے طالب علم کے والد عبدالعزیز راجپوت نے سندھ پبلک سکول کے پرنسپل کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ دائر کردیا تھا۔مبینہ طور پر توہین مذہب کی اطلاع کے بعد پرنسپل کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے جبکہ مظاہرین نے فوری طور پر پرنسپل کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔مظاہرین نے ہڑتال کی کال دے دی جس کے بعد تمام کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے جبکہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشتعل افراد نے اقلیتی برادری کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچایا جبکہ اُس سکول میں بھی توڑ پھوڑ کی جہاں پرنسپل پر مبینہ طور پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا۔بعد ازاں یہ مظاہرے گھوٹکی سے نکل کر اطراف کے اضلاع میرپور ماتھیلو اور عادل پور تک پھیل گئے تھے، جہاں مظاہرین نے سڑکوں کو بلاک کردیا۔سماجی کارکن ستار زنگیجو کے مطابق مشتعل مظاہروں کی وجہ سے ہندو برادری کے افراد اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔علاوہ ازیں پولیس نے صورتحال پر قابو پالیا تھا جبکہ اپنی مدد اور علاقے میں اقلیتی برادری کے تحفظ اور ان کی املاک کے تحفظ کے لیے رینجرز کی اضافی نفری بھی طلب کی گئی تھی۔
ڈان نیوز کے مطابق آئی جی سکھر جمیل احمد نے تمام مقدمات گھوٹکی کے ایک تھانے میں سرکار کی مدعیت میں درج کیے گئے۔مشتعل مظاہرین کے خلاف مقدمات تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295، 147 اور 149 کے تحت درج کیے گئے۔ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) جمیل احمد کا کہنا تھا کہ دفعہ 295 کو اس لیے شامل کیا گیا ہے کیونکہ مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کے دوران ہندو برادری کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچایا۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے یہ ایف آئی آر 45 افراد کے خلاف درج کی جس میں 22 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 23 افراد نامعلوم ہیں۔
علاوہ ازیں سڑک بلاک کرنے پر 150 افراد کے خلاف ایک علیحدہ مقدمہ درج کیا گیا، جس میں 27 افراد کے نام درج کیے گئے ہیں جبکہ 123 افراد نامعلوم ہیں۔
تیسرا مقدمہ توڑ پھوڑ اور املاک کی چوری سے متعلق ہے جو مجموعی طور پر 34 افراد کے خلاف درج کیا گیا، جس میں 23 افراد کو نامزد کیا گیا جبکہ 11 افراد نامعلوم ہیں۔
دوسری جانب پولیس نے ہنگامہ آرائی کے دوران توڑ پھوڑ کا شکار ہونے والے سکول کی انتظامیہ سے کہا کہ ایسے لوگوں کے خلاف علیحدہ مقدمہ درج کروائیں جنہوں نے عمارت کے انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا۔دوسری جانب سول سوسائٹی نے ہندو برادری سے اظہار یکجہتی کے لیے امن زندہ باد ریلی کا بھی انعقاد کیا تھا۔
قبل ازیں جمعیت علمائے پاکستان (جے یو پی) اور سنی تحریک (ایس ٹی) کے مقامی رہنماؤں نے واقع کی شدید الفاظ میں مذمت کی جبکہ اس واقع کی شفاف انکوائری کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پولیس نے سکول پرنسپل کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراطلاعات کی وضاحتیں