Flu

زور سے چھینک نہ مارئیے

EjazNews

نزلہ ہو گیا، عام طور پر ہم زور دار چھینک مارتے ہیں ۔ ناک بند ہونے کی صورت میں رومال رکھا اور پوری طاقت سے چھینک مار دی ، ناک کے کھلتے ہی سکون مل جاتا ہے۔ لیکن آپ نے کبھی ناک بہتے بچوں کو دیکھا جو قمیض کے کالر یا آس پاس کی کسی چیز سے صاف کرتے ہیں ناک کا بند ہونا خطرناک ہے اور زور سے چھینک مارنا اس سے بھی خطرناک ہے ۔ دراصل اس بیماری کی صورت میں ناک کے اندرونی حصے میں جھلیوں پر سوزش ہو جاتی ہے۔ نزلے کی موجودگی اور سوزش کی وجہ سے راستہ تنگ ہو جاتا ہے جس سے سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے۔لیکن ناک کا یہ حصہ بیکٹریا اور وائرس کے لیے انتہائی موضوع ہے۔ یہ یہاں پروان چڑھتے رہتے ہیں اور مادہ پڑے پڑے جب ٹھوس ہو جائے پھر یہ گلے کے راستے باہر نکلتا ہے ۔ ایسی صورت میں کھانسی ہو سکتی ہے۔ دائمی کھانسی کا تعلق بھی دل کے امراض سے ہے۔ زیادہ زور سے چھینک مارنے سے آنکھ کے اندرونی زیری حصے متاثر ہو سکتے ہیں۔ پھیپھڑوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے اور یہ بھی زخمی ہو سکتے ہیں اس لیے ایسی صورت میں زور سے چھینک مارنے پر جسم کے کئی حصوں پر دباﺅ تقریباً 10گنا بڑھ جاتا ہے۔ 10گنا اضافی دباﺅ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے میں بہترین علاج یہ ہے کہ آپ اپنی ناک کو صاف رکھیے ۔ اندر مواد کو جمنے سے گریز کیجئے اور اس کا قدرتی علاج کیجئے۔

یہ بھی پڑھیں:  مصر میں ساڑھے تین ہزار سال پرانی دریافت چار سو ڈنکے اور موہنجو داڑو کی تہذیب آج بھی چھپی ہوئی ہے