aimag baig

انہوں نےبہت جلد وہ شہرت حاصل کی، جو بعض افراد کو عمر بھر کی ریاضت کے بعد بھی نصیب نہیں ہوتی:آئمہ بیگ

EjazNews

آئمہ بیگ جن کا پورا نام ’’آئمہ نور العین بیگ‘‘ ہے نے اپنے کیرئیر کا آغاز 2015ء میں ایک کامیڈی شو سے کیا اور پھر کچھ ہی عرصے بعد مزاحیہ شو کو خیر باد کہہ کر انہوں نے اپنی پوری توجہ گائیکی کی طرف دی اور بہت ہی جلد انہوں نےوہ شہرت حاصل کی، جو بعض افراد کو عمر بھر کی ریاضت کے بعد بھی نصیب نہیں ہوتی۔ انھیں بہترین پرفارمنس پر ’’لکس سٹائل ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ وہ اُردو کے علاوہ انگریزی میں بھی اچھا گا لیتی ہیں۔ آئمہ کی کامیابی کا سفر تیزی سے شروع ہوا اور تیزی ہی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ان سے کی گئی بات چیت ملاحظہ کیجئے۔
س : اپنے خاندان، ابتدائی تعلیم و تربیت کے متعلق کچھ بتائیں؟
ج : میرا تعلق ایک پنجابی فیملی سے ہے۔ جائے پیدایش رحیم یار خان ہے۔ والد صاحب الیکٹریکل انجینئر ہیں۔ جب چند ماہ کی تھی، تو ہم لاہور منتقل ہوئے اور پھر وہاں سے عمان جا بسے۔ دراصل والد صاحب کے کام کی نوعیت ایسی تھی کہ ہم مختلف ملکوں، شہروں کا سفر ہی کرتے رہے۔ جن دنوں ابّا دبئی میں تھے، تو ان کا اپنا میوزک بینڈ تھا، لیکن اپنے والد یعنی میرے دادا کی وجہ سے وہ اس فیلڈ میں اپنا کیرئیر نہیں بنا سکے۔ماما اردو سپیکنگ تھیں۔ میری بہت خوش گفتار اور خوش مزاج سی والدہ نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہوا تھا، اس لیے ہمارے گھر میں زیادہ تر انگریزی ہی بولی جاتی تھی۔مَیں نے سکول آف کِری ایٹو آرٹس (School of Creative Arts) سے فلم اور ٹیلی ویژن میں بیچلرز کیا۔ اور رہی بات تربیت کی، تو والدین نے تعلیم کے ساتھ ہماری تربیت پر بھی ہمیشہ بہت فوکس رکھا۔
س : کتنے بہن بھائی ہیں، آپ کانمبر کون سا ہے، آپس میں کیسی دوستی ہے؟
ج : ہم تین بہنیں، دو بھائی ہیں۔ ایک بھائی نے ابو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ،انجینئرنگ کی فیلڈ منتخب کی اور ماشاء اللہ الیکٹریکل انجینئر ہے۔ بہنوں میں سے ایک بہن ڈاکٹر ہے، دوسری نے بزنس مینجمنٹ پڑھی۔مَیں چوتھے نمبر پر ہوں اور مجھ سے چھوٹا ایک بھائی ہے۔اگرچہ ہم سب بہن بھائی اکٹھے پلے بڑھے، مگر میری بڑے بھائی سے زیادہ دوستی ہے۔ چونکہ وہ بھی انسٹرومنٹ پلیئر ہے، تو ہمیں جب بھی موقع ملتا ہے، ہم گٹار اور کی بورڈ بجاتے، گاتے اور خُوب انجوائے کرتے ہیں۔
س : بچپن کیسا گزرا…؟
ج : مَیں بچپن میں انتہائی شرارتی تھی۔ ماما مجھ پر کڑی نظر رکھتیں،کیوں کہ مَیں اکثر بجلی کے سوئچ میں ہاتھ ڈال دیتی یا پھرٹیرس پر چلی جاتی تھی اور سب سے چُھپ کر گانے بھی گاتی تھی۔میرا بچپن بہت شرارتیں کرتے، ہنستے مسکراتے اور گانے گاتے ہوئے ہی گزرا ہے۔
س : اہل خانہ کس نام سے پکارتے ہیں؟
ج : میرا پورا نام آئمہ نورالعین بیگ ہے۔ اصل میں’’ آئمہ ‘‘نام ماما نے رکھا تھا اور’’ نورالعین ‘‘ابّا نے۔چونکہ نام لمبا ہے، تو سب مجھے آئمہ ہی کہتے ہیں۔
س: امّی، ابّو سے کبھی ڈانٹ پڑی؟
ج:(ہنستے ہوئے) نہیں ،کبھی بھی نہیں ۔ماما سرطان کے عارضے میں مبتلا تھیں، چھے سال تک اُن کا علاج چلا، پھر وہ ہمیشہ کے لیے صحت یاب ہوکر اللہ کے پاس چلی گئیں۔ ان کی کیموتھراپی ہوتی تھی، اس کے باوجود کبھی ان کے برتائو میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ ہماری رول ماڈل تھیں۔ ہم سب بہن بھائی ابّا کی نسبت ماما سے زیادہ قریب تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اِک اِک قدم پر سپورٹ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  بپسی سدھوا:پاکستانی نژاد انگریزی ناول نگار
آئمہ بیگ

س : کیسے پتا چلا کہ آپ میں ایک اچھی گلوکارہ بننے کی صلاحیت موجود ہے؟
ج : اصل میں میری بہن نعتیں پڑھتی تھیں اور والد اکثر گھر میں گنگناتے رہتے، تو انھیں دیکھ کر مجھے گانے کا شوق ہوا۔ چھے برس کی تھی، تو کمرا بند کر کے گانے کی پریکٹس کرتی۔ اسکول گئی، تو وہاں گانوں کے مقابلوں میں حصّہ لیا۔ کالج گئی، تو وہاں بھی پرفارم کیا۔ یونی ورسٹی میں قدم رکھا، تو میری ملاقات موسیقار خاور جاوید سے ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے گانا سُنا، تو بہت سراہا۔ اور وہیں سے مجھے اندازہ ہوا کہ میرے اندر تو ایک اچھی گلوکارہ چُھپی ہے۔ سو، اُسی گلوکارہ کی تلاش میں خاور صاحب سے کہا کہ مجھے اِسی فیلڈ سے اپنا مستقبل وابستہ کرنا ہے۔ ابتدا میں انہوں نے میرے دو گانے ریکارڈ کیے، جن کا فیڈ بیک توقع سے بڑھ کر ملا۔ اس کے بعد گاہے بہ گاہے مختلف پروجیکٹس ملتے رہے۔ تاہم، کیریئر کا باقاعدہ آغاز 2015ء میں ایک چینل پر نشر ہونے والے کامیڈی شو سے بطور معاون میزبان کیا۔اُس کے بعد موسیقی کے ایک پروگرام میں تین گانے گائے، جو سُپرہٹ رہے۔ اسی دوران ایک معروف صحافی کے ساتھ مِل کر، جو والد کے دوست بھی ہیں، ایک گانا گیا، جس سے ہونے والی آمدنی سرطان کے ایک نجی اسپتال کے مریضوں کو عطیہ کردی۔ بہرحال، اب تک کئی فلموں، ڈراموں کے لیے گا چُکی ہوں اور مزید بھی گارہی ہوں، لیکن میری منزل ابھی بہت دُور ہے۔یہ بتاتی چلوں کہ ابتدا میں، مَیں ابّا کے سامنے بالکل نہیں گاتی تھی، حالاں کہ وہ سخت مزاج نہیں تھے، بس میرے حوالے سے کچھ زیادہ ہی حسّاس تھے، تو مَیں بھی تھوڑا محتاط رہتی تھی۔
س : خاندان میں سے کسی اور کو بھی موسیقی سے شغف ہے؟
ج : نہیں،مَیں اپنے خاندان کی پہلی لڑکی ہوں، جو اس شعبے سے وابستہ ہوئی۔
س : کیا خاندان کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا؟
ج : ہرگز نہیں۔ مجھے والدین خاص طور پر، ماما کی بَھرپور سپورٹ حاصل رہی۔
س: موسیقی کی تربیت کس سے حاصل کی؟
ج :یہ خدادا صلاحیت ہے اور مَیں اپنی استاد خود ہی ہوں کہ مَیں نے اپنی کوشش اور لگن سے خود گانا سیکھا۔
س: خود کو پانچ سال بعد کہاں دیکھ رہی ہیں؟
ج: پاکستان کی پہلی خاتون میوزک کمپوزر کے روپ میں۔
س : گائیکی کے میدان میں کس سے متاثر ہیں؟
ج : عابدہ پروین سے۔ مجھے اُن کا کلام ’’اللہ ہُو‘‘ بے حد پسند ہے۔
س:مختصر عرصے میں اپنی منفرد پہچان بنائی،تو اب پرفارم کرتے ہوئے کیا محسوس کرتی ہیں؟
ج: اللہ کا شُکر ادا کرتی ہوں کہ جو خواب دیکھا، وہ پورا ہوا۔ تاہم، ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
س : شاپنگ یا پھر کسی کام کے لیے گھر سے نکلتی ہیں ،تو کیا لوگ پہچان لیتے ہیں اور پھر عموماً ان کے ریمارکس کیا ہوتے ہیں؟
ج : ارے، وہ لمحات تو مَیں سب سے زیادہ انجوائے کرتی ہوں، کیوں کہ زیادہ تر فینز تعریف ہی کرتے ہیں۔
س : ستارہ کون سا ہے؟
ج : 10 مارچ 1989ء کو پیدا ہوئی، تو میرا برج حوت ہے۔
س : آپ کے نزدیک کام یاب زندگی گزارنے کا سُنہرا اصول کیا ہے؟
ج : صرف اور صرف محنت اور محنت سے بالکل جی نہ چُرانا۔
س : اگر گلوکارہ نہ ہوتیں؟
ج : تو پھر یقیناً لکھاری ہوتی۔
س : موجودہ دَور کے نوجوان کس طرح کی موسیقی سُننا پسند کرتے ہیں، کلاسیکل، نیم کلاسیکل یا پاپ؟
ج : میرے خیال میں تو پہلے کی نسبت آج لوگوں میں موسیقی کے شعور، سوجھ بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔ اب لوگ اچھی آواز اور کلام سُننا پسند کرتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی فارم میں ہو۔
س : کئی پاکستانی سنگرز نے بھارت میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا، سُنا ہے کہ آپ نے بھی ایک گانے کی ریکارڈنگ کروائی ہے؟
ج : جی بالکل، ابھی حال ہی میں، مَیں نے بھارتی گلوکار میکا سنگھ کے ساتھ گانا گایا ہے اور یہ تجربہ بہت ہی شان دار رہا۔
س: آپ نے پاکستانی ڈراموں کے ٹائٹل سونگز گائے، تو کیا کبھی ڈراموں میں کام کی آفر بھی ہوئی؟
ج: جی بالکل، ڈراموں ہی نہیں، فلموں کے لیے بھی آفرز ہوتی رہتی ہیں،مگر میرا مزاج ڈراموں، فلموں والا نہیں ہے کہ کسی کنسرٹس کی نسبت کیمرے کے سامنے رونا، ہنسنا اور رومانی سین فلم بند کروانا بہت مشکل کام ہے۔
س: شادی کا کب ارادہ ہے؟
ج: فی الحال تو کوئی ارادہ نہیں کہ ابھی ساری توجّہ کیریئر پر مرکوز ہے۔
س: آپ کے اپنے خیال میں آپ کو کس گانے سے زیادہ شہرت ملی؟
ج:فلم، ’’لاہور سے آگے‘‘ کا ’’قلاباز دِل‘‘،جو شیراز اُپل کے ساتھ مِل کر گایا تھا، شہرت کی وجہ بن گیا۔
س : کیا سوچ کر دُکھی ہوجاتی ہیں؟
ج : ماما سرطان کے عارضے میں مبتلا تھیں۔ ایک سال پہلے اُنہیں کھو چکی ہوں۔ بس اُن کی باتیں، یادیں دہراتی ہوں، تو دِل بے حد اُداس اور دُکھی ہوجاتا ہے۔
س : زندگی سے کیا سیکھا؟
ج : زندگی کی تو مَیں شاگردہ ہوں، اِسی سے سب کچھ سیکھ رہی ہوں۔
س: کس بات پر غصّہ آتا ہے؟ آئے تو ردِ عمل کیا ہوتا ہے؟
ج:جب کوئی بار بار ایک ہی بات دہرائے، تب غصّہ آتا ہے۔ ویسے مَیں دھیمے مزاج کی ہوں،اس لیے غصّہ کم ہی کرتی ہوں۔
س : کھانے پکانے کا شوق ہے، کون سی ڈشز اچھی لگتی ہیں؟
ج : مجھے گھر کی بریانی بے حد پسند ہے۔کھانا پکالیتی ہوں، مگر میری نسبت بڑی بہنیں بہت اچھا کھانا بناتی ہیں۔
س : فارغ اوقات میں کیا کرتی ہیں؟
ج : موڈ پر منحصر ہے۔ کبھی گیم کھیل لیتی ہوں۔ اگر کچھ لکھنے کا دِل چاہ رہا ہو، تو لکھنا شروع کردیتی ہوں، جب کہ شاپنگ کرنا بھی مجھے جنون کی حد تک پسند ہے۔
س : آپ کا اپنا پسندیدہ گانا کون سا ہے؟
ج : مجھے نہیں لگتا کہ مَیں نے کوئی ایسا گانا گایا ہے، جو بہت ہی کمال کا ہو۔ تاہم، مجھے اپنا گانا ’’بانورے‘‘ اچھا لگتا ہے۔
س: کون سا رنگ بھاتا ہے؟
ج:رنگ تو سارے ہی اچھے لگتے ہیں،مگر سُرمئی رنگ زیادہ پسند ہے۔
س: گھر کی آرایش کا شوق ہے؟
ج: بہت۔ مَیں نے اپنے کمرے کو سفید اور سیاہ رنگوں کے امتزاج میں نہایت خُوب صُورتی سے ڈیکوریٹ کیا ہے،جب کہ کمرے کی ایک دیوار پر رنگ برنگی تتلیاں چسپاں ہیں۔
س:سُنا ہے، آپ نے جانور بھی پال رکھے ہیں؟
ج:جی ہاں، میرے پاس ایک بلی اور ایک کتا ہے۔
س:شہرت ملی، تو نجی زندگی میں بھی کوئی تبدیلی آئی؟
ج:نہیں، نہیں بھئی، مَیں جیسی تھی ویسی ہی ہوں کہ مجھے اللہ کے غیض و غضب سے بہت ڈر لگتا ہے۔
س : پرستاروں کو کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟
ج: والدین سے گزارش کرنا چاہوں گی کہ وہ اپنے بچّوں کی صلاحیتوں پر اعتبار کریں۔ وہ اپنی مرضی و منشا سے جو بھی پروفیشن منتخب کرنا چاہیں، اُنہیں بَھرپور سپورٹ کریں۔ محض اپنی خوشی کی خاطر بچّوں پر اپنی مرضی مسلّط کریں، نہ ہی اپنے ادھورے خوابوں کی تکمیل کا بوجھ اُن پر ڈالیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارے خاندان میں آٹھ دس سال کی عمر میں موسیقی کی تربیت شروع کروا دی جاتی ہے اور وہ پھر آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے