Childran education

بچوں کی تربیت اور والدین کا فرض

EjazNews

بچوں کی تربیت کس طرح ہو اور والدین کو کیا کرنا چاہئے؟
اولاد کی بڑی خوشی ہوتی ہے، ہر ایک مرد اور عورت کو اس کی آرزو ہوتی ہے کہ کوئی اولاد ضرور پیدا ہو۔ اولاد کی پیدائش سے سب سہی خوش ہوتے ہیں جن کے یہاں اولاد نہیں وہ ہمیشہ اسی کے صدمہ میں پڑے رہتے ہیں نہ گھر میں خوشی ہے اور نہ چہرے پر مسرت کے آثار ہیں۔ والدین کو اپنی اولاد سے بڑی محبت ہوتی ہے۔ ان کی خاطر بڑی بڑی تکلیفیں اٹھاتے ہیں، خصوصاً ماں بیچاری بچے کے پیشاب پائخانے میں برسوں گزارتی ہے۔ ماں باپ اولاد کی محبت ہی کی وجہ سے ان کو پالتے، پوستے ، کھلاتے پلاتے ہیں اگر ایسا نہ کرتے تو اولاد کی پرورش غیر ممکن تھی۔ ظاہری تربیت و پرورش کھلانے پلانے اور پہنانے اور صحت و تندرستی میں حتی الامکان کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔ لیکن حقیقی تربیت میں بڑی کوتاہی برتتے ہیں ،نہ ان کو لکھاتے پڑھاتے ہی اور نہ اخلاق و تہذیب کی باتیں بتاتے ہیں اور نہ کوئی ہنر اور صنعت و حرفت کی تعلیم دیتے ہیں۔ بچپن کے زمانے کو بیکار ضائع کر دیتے ہیں جس کا اثر آئندہ چل کر خراب ہوتا ہے۔ بچپن میں اگر بچے کی صحیح تربیت ہوئی اور تہذیب و اخلاق کے سانچے میں ڈھالا گیا تو زندگی کے آخری لمحات تک نیکیوں میں پھلیں پھولیں گے اور اسی عمر میں اگر صحیح تربیت نہیں ہوئی تو ہمیشہ کے لئے خراب ہو جائیں گے۔ مثل مشہور ہے گودیوں کے بنائے کبھی نہیں بگڑتے اور پوتڑوں کے بگاڑے کبھی نہیں سنورتے۔
اس کا مطلب بالکل صاف ہے کہ انسان کے اچھے یا برے اخلاق کی بنیاد پڑنے کا وقت یہی بچپن کا زمانہ ہے ۔اس زمانے میں جو بچہ نیک اخلاق سیکھ لے گا وہ عمر بھر نیک ہی رہے گا اور جو خراب عادتیں سیکھ لے گا وہ ہمیشہ خراب ہی رہے گا۔
بچے کی مثال ایک نرم شاخ کی طرح ہے، اس کو جس طرح اور جس طرف چاہو موڑ سکتے ہو۔ مضبوط اورسخت یا خشک ہونے کے بعد نہیں موڑ سکتے۔
والدین کا فرض ہے کہ بچے کو اسی بچپن ہی کی عمر سے اچھی طرح پرورش کریں اور اچھی باتیں اچھی عاتیں سکھائیں تاکہ آخر عمر تک نیک رہیں اور ماں باپ کے لئے بھی نیک دعائیں دیں۔ ان کے اس تعلیم اور تربیت کا اثر کئی پشتوں تک جاری ر ہے گا۔ والدین کے مرنے کے بعد بھی برابر ثواب ملتا رہے گا۔ جو ماں باپ بچے کی محبت میں آکر بچے کوبالکل آزاد چھوڑ دیتے ہیں جو وہ چاہتا ہے کرتا اور کہتا ہے۔ اسے ماحول اور بری صحبتوں سے بچاتے ہیں اور نہ اچھی باتیں بتاتے ہیں اور نہ بری باتوں سے روکتے ہیں تو وہ اپنی اولاد کو خود ہی بگاڑتے ہیں اور اس بے پرواہی اور بگاڑنے کے نتائج کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔اگر ماں باپ نیک ہوتے ہیں اور بچوں کو نیک باتوں کی تلقین کرتے ہیں تو اس کا اثر بچوں پر ضرور پڑتا ہے اور بچہ نیک ہوتا ہے اور اگر ماں باپ برے ہوتے ہیں اوربچے کو برائی سے نہیں منع کرتے تو اس کا بھی اثر بچے پرہوتا ہے ۔اسی نکتے کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے:
آپؐ نے فرمایا: ’’ہر بچہ فطرت اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ ماں باپ اس کو یہودی یا عیسائی یا مجوسی کر دیتے ہیں۔‘‘ (بخاری)
ماں باپ اگر مسلمان موحد ہیں تو بچہ بھی مسلمان رہتا ہے اور اگر ماں باپ یہودی، عیاسی وغیرہ ہوتے ہیں تو بچہ بھی وہی اختیار کرتا ہے کیونکہ بچے نقال ہوتے ہیں۔ ماں باپ کو جس روش پر دیکھتے ہیں وہی طریقہ اختیار کرتے ہیں ۔ اس لئے ماں باپ کا نیک ہونا بھی ضروری ہے۔ دنیا میں دراصل ماں کی گود پہلا مدرسہ اور تعلیم گاہ ہے۔ اسی جگہ بچے سب سے پہلے زبان اور چال چلن سیکھتے ہیں۔
ماں کا مہذب و تعلیم یافتہ و سلیقہ شعار ہونا ضروری ہے۔ ذیل میں ظاہری ا ور باطنی تربیت کے سلسلے میں چند نصیحت لکھتے ہیں اسے سمجھ کر پڑھو ۔ اور عمل کرو۔
۱) ہر روز بچے کا ہاتھ، منہ، گلا ، کان ، چڈھے وغیرہ گیلے کپڑے سے اچھی طرح صاف کر دیا کرو ورنہ میل جمنے سے تکلیف ہوگی۔
۲) پیشاپ پائخانے کے بعد فوراً ہی پانی سے اس جگہ کو دھو دو۔ صرف کپڑے اور چتھیڑے پوچھنے پر بس نہ کرو۔ اس سے بچے کے بدن میں خارش ہوتی ہے ،اگر سردی کا موسم ہے تو معمولی گرم پانی سے استنجا کرائو۔ جو عورتیں پائخانے کی جگہ کو خالی چتھیڑوں سے پونچھ دیتی ہیں اورپانی سے دھوتی نہیں وہ پھوہڑ کہلاتی ہیں۔
۳) گرمی کے زمانے میں بچے کو روزانہ نہلایا کرو۔ اس سے صفائی کے علاوہ چستی رہے گی اور صحت اچھی رے گی اور سردیوں میں گرم پانی سے گاے گاہے ضرور نہلایا کرو اور صابن سے نہلائو تو سب سے اچھا ہے۔
۴)کبھی کبھی تیل وغیرہ سے بدن کی مالش بھی کر دیا کرو۔ اس سے اعضا مضبوط ہو جاتے ہیں۔
۵) حتی الامکان بچے کو اپنے سے علیحدہ دوسری جگہ چار پائی پر سلائو اور برابر نگرانی کرتے رہو دونوں جانب تکیے رکھ دیا کرو تاکہ گرنے نہ پائے اور بچےکی کروٹیں بدلتی رہو۔ اپنے ساتھ سلانے میں تکلیف اور دب جانے کا اندیشہ ہے۔
۶) بچے کو ماں ہی دودھ پلائے۔ ماں کا دودھ بچے کے لئے زیادہ مناسب ہے ۔ دودھ پلانے کے لئے وقت کا خیال رکھو۔ جب وہ روئے فورا ًاسی وقت پلانے کی کوشش مت کرو۔ بعض ناتجربہ کار عورتیں رونے سے دودھ پلانے لگتی ہیں۔ یہ ان کی غلطی ہے کیونکہ یہ بے زبان ہوتا ہے اپنے آرام و تکلیف کو نہیں کہہ سکتا۔ بعض دفعہ کسی تکلیف سے یا پیٹ کے درد سے روتا ہے تو ایسی صورت میں دودھ دینے سے تکلیف زیاد ہ ہوگی اور اگر کسی آیا کا دودھ پلانا ہے تو نیک دیندار خلیق تندرست آیا کا دودھ پلائو۔
۷) بچے کو زیادہ دیر تک گود میں نہ لئے رہو ورنہ وہ اس کا عادی ہو جائے گا، یہ اس کے حق میں نقصان دہ ہے اور اس سے عموماً صحت خراب ہو جاتی ہے۔ اس کو کسی نرم بستر پر سلا دو تاکہ وہ خود پائوں کی حرکت سے ورزش کرے اس سے اس کے ہاتھ پائوں مضبوط ہو جائیں گے۔
۸) بچے کو کسی چیز سے مت ڈرائو عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ روتے ہوئے بچے کسی چیز کا نام لے کر چپ کرانا چاہتی ہیں بعض مرتبہ بچہ ڈر کر خاموش بھی ہو جاتا ہے۔ بہت ہی بری عادت ہے اس سے بچہ ڈر پوک اور کمزور ہو جاتا ہے اور زندگی بھر کے لئے بزد ل ہو جاتا ہے۔
۹) زیادہ سے زیادہ دوسال تک بچہ کو دودھ پلا سکتی ہو اس کے بعد دودھ چھڑا دو۔ قرآن مجید میں دو سال تک پلانے کی اجازت ہے اور دو سال کے اندر حسب ضرورت چھڑا سکتی ہو ،دودھ چھڑاتے وقت رسم ورواج اور بدعت کے کاموں سے بچو، اور سال برسی کی رسم مت ادا کرو۔
۱۰) بچے کو سلانے کے لئے نیندآور اشیاء مت دو۔ بعض عورتیں بچے کو سلانے کے لئے یہ تدبیر کرتی ہیں کہ اسے خواب آور ادویات دیتی ہیں ۔ تاکہ وہ چپ چاپ پڑارہے یہ بری عا دت ہے زندگی میں بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے اور ساری زندگی خراب ہو جائے گی۔
۱۱) بچے کا زیادہ بنائو سنگھار مت کرو۔ معمولی اور سادہ لباس پہنائو اور صاف ستھرا رکھو ۔ منہ کان کو برابر صاف کرتی رہو۔
۱۲) بچوں کو ہنسی ہنسی مت اچھالو خدانخواستہ اگرہاتھ سے گر گیا تو بڑی تکلیف ہوگی۔
۱۳) بچے کی بیماری کا بہت جلد خیال کرو، دیر مت لگائو، تجربہ کار حکیم کو دکھاکر مناسب علاج کرائو اور بچے کی بیماری کے زمانے میں تکلیف دہ چیزوں سے پرہیز کرو۔ہمارے پرہیز سے بچے کو آرام پہنچے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بچے کی بیماری میں ماں کو دوا پینی چاہئے تاکہ اس کا اثر دودھ میں آجائے۔
۱۴) جب بچے میں بولنے کی طاقت ہو تو لفظ اللہ اللہ کے نکلوانے کی کوشش کرو اورجب بونے لگے تو کلمہ لا الہ الا اللہ کہلوائو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جب بچہ بولنے لگے تو لاالہ الا اللہ سکھائو اور جب دود ھ کے دانت گر جائیں تو نما زکی تعلیم دو۔‘‘
۱۵) جب بچہ کچھ سمجھدا ہو جائے اور کھانا کھانے لگے تو اگر وہ اپنے ہاتھ سےکھا پی سکتا ہے۔ تب اس کو داہنے ہاتھ سے کھانا پلانا چاہئے تاکہ اس کی عادت پڑ جائے جب بچپن ہی سے داہنے ہاتھ سےکھانے کی عادت پڑ جائے گی تو زندگی بھر تک وہی عادت پڑی رہیگی۔
۱۶) بچپن میں بچوں کو کھیل کا زیادہ شوق ہوتا ہے تو اس میں ان کو آزاد چھوڑ دینا چاہئے لیکن برے بچوں کے ساتھ کھیلنے سے روکنا چاہئے تاکہ برائی کا اثر نہ پڑنے پائے۔
۱۷) سمجھ دار بچوں کے ہاتھ سے غریبوں اور سائلوں کو کھانا اور روپیہ پیسہ دائیں تاکہ ان کو دینے کی عادت پڑ جائے۔
۱۸) جھوٹ بولنے اور جھوٹی قسم کھانے سے بچے کو ہمیشہ بچاتی رہو اور اس پر تنبیہ اور خدا کے خوف سے ڈراتی رہو اور چوری چغلی اور دیگر بری باتوں سے نفرت دلاتی رہو۔
۱۹) سات برس کی عمر میںنماز کی تاکید کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچے سات برس کے ہو جائیں تو نماز پڑھنے کا حکم دو اور دس برس کی عمر میں اگر نماز نہ پڑھیں تو ان کومارو اور ان کو الگ الگ سلائو۔ ‘‘(ابو دائود)
۲۰) قرآن مجید اور دینی کتابوں کی تعلیم دو اورادب اور تہذیب کی باتیں سکھائو۔ اچھا ادب صدقہ اور خیرات کرنے سے بھی زیادہ بہتر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ادب دینا آدمی کا اپنی اولاد کو بہتر ہے ،اس کے لئے اس بات سے کہ ایک صع صدقہ کرے۔‘‘(ترمذی)
’’اولاد کے لئے اچھے ادب سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں ہے۔‘‘
۲۱) بچے کو اچھی تعلیم دینا دلانا ماں باپ پر فرض ہے۔ اس کی طرف زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ خواہ اس کی تعلیم میں کتنی ہی تکلیف برداشت کرنی پڑے اور کتنی ہی رقم خرچ کرنی پڑے۔ ہم تمہیں بچے کی تعلیم کے سلسلے میں ایک سچی کہانی سناتےہیں۔
حضرت اما م ربیعہؒ ایک بہت بڑے مشہور محد ث اور عالم گزرے ہیں جو حضرت امام مالک ؒ کے استاد تھے۔ بچپن کے زمانے میں ان کے والد کسی سفر میں چلے گئے ۔ چلتے وقت ربیعہ ؒ کی والدہ کو تیس ہزار اشرفیاں دے گئے تھے۔ حضرت ربیعہ ؒکی والدہ نے اپنے بچے کواچھی تعلیم و تربیت کے لئے نیک عالموں اور بڑے محدثوں اور ادیبوں کے پاس بٹھایا اوربچے کی تعلیم اور تربیت میں تیس ہزار اشرفیاں ختم کر دیں۔ حضرت ربیعہ پڑھ لکھ کر فار غ ہو گئے تو ربیعہ کے والد ایک عرصہ کے بعد تشریف لائے تو بیوی سے دریافت کیا وہ تیس ہزار اشرفیاں کہاں ہیں، بیوی نے کہا بہ حفاظت سے رکھی ہو ئی ہیں پھر جب مسجد میں آئے تو اپنے بیٹے امام ربیعہ کو دیکھا کہ درس حد یث کے مسند پر بیٹھے ہیں اور محدثین کو درس حدیث دے رہے ہیں اور لوگ ان کو امام اور پیشوابنائے ہوئے تووہ مارے خوشی کے پھولے نہ سمائے ، جب گھرواپس تشریف لائے تو بیوی نے کہا وہ تمام اشرفیاں تمہارے لڑکے کی تعلیم میں خرچ ہو چکی ہیں۔ آ پ نے اب اپنے صاحبزادے کو دیکھ لیا ہے ،آپ فرمائیے آپ کی تیس ہزار اشرفیاں اچھی ہیں یا یہ دولت جو صاحبزادے کو حاصل ہوئی ہے ۔ وہ فرمانے گے بخدا اس عزت کے مقابلے میں اشرفیوں کی کیا حقیقت ہے، تم نے اشرفیوں کو ضائع نہیں کیا۔
پس جو تم بچے کی تعلیم پر خرچ کروگے وہ ضائع نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  رہن کا بیان