Saudi arabi attack

سعودی عرب میں تیل کے ذخائر ایک مرتبہ پھر نشانے پر

EjazNews

سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔سعودی اتحادی فوج کے ساتھ جھڑپ میں متعدد مرتبہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی تیل تنصیبات پر حملے کیے گئے ہیں تاہم اس مرتبہ ابقیق اور خریص پر کیے جانے والا حملہ سعودی عرب کی تیل کی صنعت پر اثر انداز ہواہے۔ اس حملے کے بعد سے اس کی تیل کی پیداوار میں 57 لاکھ بیرل یومیہ کی کمی واقع ہوگی۔
سعودی عرب میں امریکی سفیر جان ابیزید کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے عام لوگوں کی زندگی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، یہ حملے قابل قبول نہیں ہیں، کبھی نہ کبھی ان سے انسانی جان کا ضیاع ہوگا۔
سعودی عرب کی سب سے بڑی کمپنی آرامکو کے حوالے سے بیان سامنے آیا ہے کہ حوثی باغیوں کے حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ تمام تر صورتحال پر قابو بھی پالیا گیا ہے۔کمپنی آرامکو کا کہنا ہے کہ تیل کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی فراہمی میں 5 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے ان حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا جبکہ تہران نے واشنگٹن کے الزامات کو مسترد کردیا۔
سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں امریکہ کے سیکرٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ہونے والے ڈرون حملوں میں ایران براہ راست ملوث ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کشیدگی ختم کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران نے دنیا کی توانائی سپلائی پر حملہ کیا۔اپنے ایک اور پیغام میں مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایران کی جانب سے کیے گئے حملے کی مذمت کریں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تیل کی عالمی منڈی مستحکم رہے جبکہ ایران کو اس کی جارحیت پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
جبکہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے جوابی سوشل میڈیا بیان میں الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ میں ناکامی کے بعد اب مائیک پومپیو زیادہ سے زیادہ دھوکہ دینے کی جانب چلے گئے۔ان کا کہنا تھاکہ ایران پر الزام عائد کرنے سے تباہی ختم نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  کسی بھی ملک کو لیبیا کے اندر فوجی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے:طیب ایردوان