wife with husband

مردوں اور عورتوں کے بعض حقائق

EjazNews

1۔ عورت اس طرح سلوک کرتی ہے جیسے وہ اس آدمی کی ماں ہے اور بچوں کی طرح اس سے پیش آتی ہے:
میاں اور بیوی دونوں کو یہ یادرکھنا چاہئے کہ کسی چیز کی زیادتی اس پر زور دینے سے اخیر میں دوسرا فریق تنگ ہو جا تا ہے، اسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ پہلے فریق کی طرف سے ہر طرف سے گھرا ہوا اور مجبور ہے۔ مثال کے طور پر اگر شوہر بیمار ہے تو ظاہر ہے کہ آپ اس کو مناسب دوادیں گی اور اتنے ہی دن جتنے ڈاکٹر نے مقرر کئے ہیں۔ لیکن کیا آپ اسے مسلسل دوادیتی رہیں گی اور اس پر اس کو مجبور کریں گی چاہے وہ ٹھیک اور صحت مند بھی ہوجائے ۔کھلی بات ہے کہ ضرورت سے زیادہ دوا لینے کے نتایج خطرناک نکلیں گے اور موت کا ڈر بھی ہے۔
یہ غلطی عورتوں میں بے حد پائی جاتی ہے جس سے ان کے اور مردوں کے تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں۔ عورت یہ سمجھتی ہے کہ مردخود اپنا خیال نہیں رکھ سکتا یا زندگی کی اپنی ترتیب نہیں بنا سکتا۔ وہ یوں سمجھتی ہے کہ اس میں خود اپنے کاموں کو انجام دینے کی صلاحیت ہی نہیں ہے اور اس کی ضرورت ہے کہ وہ اس کی زندگی میں رہنمائی کرتی رہے۔
اگرعورتوں کو کسی بات سے منع کیا جائے تو وہ ہر حال میں اس بات کو کر کے رہیں گی۔ عورت کے بارہ میں یہ خیال ہوسکتا ہے کہ حقیقت ہو اور درست ہو۔ لیکن ہمیں اس وقت اس بحث میں نہیں پڑنا ہے۔ لیکن میں عورتوں کو ایک حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ جب عورت، مرد کے ساتھ بچے کی طرح پیش آتی ہے تو وہ بھی بچوں کی سی حرکتیں کرنے لگتا ہے۔ جب تم اس سے اس طرح سلوک کروگی جیسے وہ خود قادر نہیں ہے تو یہ بھی اسی طرح کی حرکتیں کرنے لگے گا۔
2۔مرداپنی فطرت کے سبب اختصار چاہتا ہے:
آپسی بحث میں ہم دیکھتے ہیں کہ بیوی جب کسی متعین پریشانی کے بارہ میں بات کرتی ہے وہ بنیادی طور پر ایسی تفصیل بھی کہنا شروع کرتی ہے جسکی کوئی اہمیت شوہر کے نزدیک نہیں ۔اس لئے وہ اس کی گفتگو کو زبردستی سنتا ہے اور اپنے اعصاب کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ عورت تمام واقعات اور حالات کو پورے سکون سے بیان کرتی ہے۔ آدمی اس موضوع کی حقیقت تک براہ راست بغیر تفصیل یا گھمائے پھرائے، پہنچنا پسند کرتا ہے۔
3۔ عورت جب بھی بات کرتی ہے وہ ایک موضوع پر توجہ نہیں دے پائی ہے:
وہ مختلف باتوں کو چھیڑ دیتی ہے، چاہے وہ نئی ہوں یا پرنی۔ نہ ہی وہ کسی ایک بات کو ترجیح دیتی ہے۔ اسی طرح عورتیں خود ہی مشکلات میں پڑتی ہیں اور کسی مثبت نتیجہ تک نہیں پہنچ پاتیں۔ تو ہوتا یہ ہے کہ جو ماضی میں ہو چکا اور جو مستقبل میں ہوگا اور جو شاید پیش نہیں آئیگا سب ہی چھیڑ دیتی ہے۔ یہاں وہ صرف یہ چاہتی ہے کہ اپنے مافی ضمیر کو ادا کرے اور ایک طرح کا نفسیاتی سکون حاصل کرے۔ چاہے اس کے سبب مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہو اور چاہے اس مشکل کا کوئی حل نہ نکلے۔ وہ اپنی باتیں بغیر کسی ترتیب کے کہتی ہے۔ یہاں آ دمی اس کی باتوں میں اکتاہٹ محسوس کرتا ہے کیوں کہ وہ دیکھتا ہے کہ موضوع گفتگو ٹوٹ چکا ہے اور عورت کی گفتگوکئی حصوں میں بٹ چکی ہے کیونکہ وہ جب کسی گفتگو کو بنیادی طور پر سنتا ہے تو اس لئے تا کہ اس کا کوئی حل پیش کرے۔لیکن جب اسے اپنی بیوی کی گفتگو میں کوئی ربط نہیں ملتاو ہ تو تنگ آ جاتا ہے۔ 4۔مردجب سوچتا ہے تو بات نہیں کرتا بلکہ خاموشی اختیار کرتا ہے جبکہ عورت جب سوچتی ہے تو بولتی بھی ہے اور اسی لمحہ سوچتی بھی ہے:

بیوی کوصرف آپ کی طرف سے خاموشی سے اس کی گفتگو سننے اور اس کے ساتھ ذرا سے پیار ومحبت کی ضرورت ہے

آدمی جب کسی مشکل کا سامنا کرتا ہے تو بہت جلد اپنے آپ میں بند ہوجاتا ہے وہ عموماً بیوی کا شریک ہونا پسند نہیں کرتا اور جان بوجھ کر اپنے تمام جذبات اور اپنے اندر پیش آنے والے در دوغم کو چھپاتا ہے۔ یہ بغیر ارادہ کے وہ ردعمل ہیں جو اکثر مردوں میں پائے جاتے ہیں جنھیں اکثر عورتیں سمجھ نہیں پاتیں۔ اور وہ سمجھ بیٹھتی ہیں کہ شوہر انہیں سزا دینے کے لئے بغیر کسی عذر کے جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں جبکہ بے چار شوہر فطری طور پر اپنے غم کو کم کرنے کی کوشش کررہا ہے اور خاموشی اور سکون کے ذریعہ اپنی کم ہمتی کا علاج کررہا ہے۔
5۔ ایک مستقل اصول جو ہم سمجھتے ہیں:
مرد زندگی میں ناکامی سے ڈرتے ہیں اور عورتیں دوسروں کے انکار سے ڈرتی ہیں۔ ناکامی اور انکار دونوں شوہر کی نظر میں سب سے برا انجام لانے کا سبب بنتے اسی لئے شوہر جب غلطی کرتا ہے یا کسی مشکل میں پڑتا ہے تو وہ عورت کی نصیحت نہیں سنتا ہے اور نہ ہی یہ کہ وہ اسے کوئی مشورہ دے بلکہ ان مشوروں سے وہ مرد کوغصہ دلاتی ہے اور محسوس کراتی ہے کہ گویا وہ شوہر کی ذاتی صلاحیتوں اورفکروں کو مشلول و مفلوج کررہی ہے اور گویا مردخود اس مشکل کو حل کرنے میں نا کام ہے۔ اس لئے وہ اس ناکامی کا شکار ہو جاتا ہے جس سے وہ ڈررہا تھا۔ یہی ہے کہ عورت کی اس غیر شعوری دخل اندازی کا محرک محبت اور شوہر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا اور ساتھ دینا ہوتا ہے۔ مگر شوہر اسے اپنی اہانت سمجھ لیتا ہے اور اسے ایک ایسا دردناک زخم ہوجاتا ہے جو جلد مندل نہیں ہوتا۔ شوہر صرف ایک حالت میں بیوی کی نصیحت سنتا ہے۔ جب وہ خودان سے مشورہ مانگے۔ اس لئے جب وہ دباومحسوس کرتا ہے تو وہ کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتا ہے نہ ہی وہ یہ پسند کرتا ہے کہ بیوی کے ساتھی مذاق کرے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ یہ ایک فطری بات ہے اس لئے کہ مردنفسیاتی طور پر اٹھتی ہوئی پریشانی کے سامنا کرنے میں پیچھے ہٹ جانے اور دور ہونے کو ترجیح دیتا ہے۔ حقیقت میں وہ اپنے جذبات واحساسات کا انکار کر رہا ہے اور فوراً پیچھے ہٹ رہا ہے تا کہ جذبات کو قتل کے لاشعوری حصہ کی طرف جانے کا موقع نہ ملے اور وہ دروغم کو پہچان نہ لے اس لئے جس چیز کو وہ محسوس کرتا ہے اس میں غور نہیں کرتا تا کہ دوسروں کو یہ اطمینان دلادے کہ ہر چیز معمول کے مطابق چل رہی ہے۔
6۔ مرد جب عورت سے محبت کرتا ہے تو جس حالت پر وہ ہے اسی حالت کے اعتبار سے کرتا ہے:
مرد اس کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ وہ عورت کی فطرت اور نفسیات کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ (Adjest) کرلیتا ہے۔ صرف خارجی مسائل جیسے کپڑے اور گھر سے باہر بدن ڈھاکے وغیرہ میں اس سے تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں عورت جب مرد سے محبت کرتی ہے تو بقدر امکان اس کو بدل ڈالتی ہے۔ فطری طور پر عورتوں کا ہی سلوک مردوں کو نہیں بھاتا اور اکثر وہ اس کو قبول نہیں کرتے ۔ یہیں سے رسہ شی دونوں میں شروع ہوجاتی ہے۔ دیکھئے مرد جب محبت کرتا ہے تو سمجھوتا کرتا ہے لیکن جب عورت محبت کرتی ہے تو مسلط ہو جاتی ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے کوئی انسان تبدیل نہیں کرسکتا۔
7۔شوہر زندگی کو مثلث کی طرح ہر زاویہ سے دیکھتا ہے۔
جب کہ بیوی زندگی کوسطحی اور افقی لحاظ سے دیکھتی ہے۔ حقیقت شوہر کے لئے بے حد اہم ہے۔ اس لئے کہ اس کی زندگی چیلنج ، ایک دوسرے سے مقابلہ اور ٹکر ا سے بھری ہوئی ہے۔ اور معاشرہ اس کے لحاظ سے مثلث شکل کا ہے۔ جس میں مرد یا بالکل اوپر ہوتا ہے یا بالکل نیچے۔ وہ خوشی اس وقت محسوس کرتا ہے جب اپنی زندگی میں کامیابی کو پالیتا ہے۔ اس لئے زندگی اس کی نظر میں مقابلہ چین، اور اپنے آپ کو منوا لینے کا نام ہے، جسے اسے اکیلے اور بیوی کی مدد کے بغیر کر دکھانا ہے اس لئے بیوی کی طرف سے کسی طرح کی دخل اندازی اس مثلث شکل والی زندگی کو جسے وہ جی رہاہے ،اس کی خودداری کوٹھیس پہنچاتی ہے۔ اگر وہ خود مشورہ مانگے تب بات دوسری ہے۔ اس اعتبار سے مرد کی زندگی کا مطلب ہے، پریشانیاں، مشکلات ،چیلنج۔جن پر اس کوفتح پانا ضروری ہے۔ لیکن عورتیں ان کی زندگی کا مطلب ہے، معاشرتی تعلقات، متبادل پیار ومحبت، ابلتے ہوئے جذبات اور مشترک تعاون۔ ان کی زندگی کا محور پیار ومحبت، اہتمام اور سہارا لے کر نفسیاتی خواہشات کی تکمیل ہے۔
8۔ جب شوہر تھکا ہوا، بوجھل اور تکان سے چور ہوتو وہ کسی سے بات چیت پسند نہیں کرتا:
بلکہ سکون اور خاموشی کو تلاش کرتا ہے اور شام کو گھر واپسی پر یہی چیز اسے گھر میں ملتی ہے۔ لیکن عورت اگر تھکن اور تکان محسوس کرے تو وہ گفتگو پسند کرتی ہے تا کہ اپنی اند رو نی حالت سے چھٹکارا پائے۔ اب سوچئے کہ جب وہ دن بھر خاموش رہے اور شوہر اس کے پاس موجود نہ ہوتو جب وہ گھر واپس آتا ہے بیوی بے چینی سے اس کا انتظارکرتی ہے اور اس کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ گھریلو ذمہ داریاں، بچوں کا خیال، سروس، گھر اور گھر والوں کی خدمتوں کے انبار میں عورت کو احساس ہوتا ہے کہ وہ سر سے پیرتک دوسرے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس مستقل دباو کے سبب اس کی نفسیاتی، جسمانی اور ذہنی تکان بڑھ جاتی ہے۔ وہ اس دباو کی زیادتی سے تنگ آجاتی ہے اور ایسے قریبی شخص کی تلاش کرتی ہے جوان تمام بوجھوں کے برداشت کرنے میں اس کی مدد کرے۔ شوہر سے زیادہ قریب وہ کسی کونہیں پاتی ہے اس لئے اپنی پریشانیوں اور داخلی خلفشار کا ذکر کرتی ہے، اس حقیقت سے اکثر شوہر نا آشنا ہوتے ہیں اس لئے وہ یوں سوچنے لگتے ہیں کہ ان کی بیوی ذمہ داریوں کی کثرت سے تنگ آگئی ہے اور کوتاہی کرنے لگ گئی ہے اور گھر سے باہران کے روز انہ کے بوجھ اور دباو کی پروا نہیں کرتی ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عورتیں گھریلو ذمہ داریوں کی کثرت کی شکایت نہیں کررہی ہیں، عورت جب بات کرتی ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی ہے کہ وہ شوہر کو ملامت کر رہی ہے بلکہ صرف اپنے احساسات اور جذبات کو ظاہر کر رہی ہوتی ہے تا کہ وہ نفسیاتی توازن کو دوبارہ حاصل کرے۔اور بوجھ کے احساس کو کم کرے۔ یہاں شوہر کو چاہئے کہ اپنی بیوی کی اس نفسیاتی کیفیت کو سمجھے کیوں کہ اس کوصرف ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے، جو اس کی گفتگو کو سنے اور یہ نہ سمجھے کہ وہ اس پرحملہ کررہی ہے خواہ د باد، بوجھ اور شدید نفسیاتی حالات کے سبب اپنے ردعمل میں مبالغہ سے کام لیتی ہے۔کبھی وہ اچانک معمولی سبب پرابل پڑتی ہے یا غیر حقیقی اور غیرمنطقی، شوہر کی رائے کے لحاظ سے کہنے لگتی ہے۔ یہاں بیوی کوصرف آپ کی طرف سے خاموشی سے اس کی گفتگو سننے اور اس کے ساتھ ذرا سے پیار ومحبت کی ضرورت ہے۔ مثلاً آپ اسے اپنے سینے سے لگالیں یا اس کے اٹکے ہوئے بالوں سے کھیلنے لگیں یا اسے دونوں ہاتھوں سے تھام لیں یا اپنا سر اس کی گود میں رکھ دیں۔ ایسی حالت میں آپ دیکھیں گے کہ اس کا ذہنی تناو دھیرے دھیرے کم ہو جائیگا اور وہ اپنی پرسکون حالت پرلوٹ آئیگی۔
9۔جب جب بیوی شوہر سے قریب ہوتی ہے اور اس کی آغوش میں سماجاتی ہے وہ قوت گرم جوشی اور اپنی بات کا وزن محسوس کرتا ہے:
اس میں کوئی تعجب بھی نہیں ہے کیوں کہ بیوی نے اسے محسوس کرا دیا کہ ہی بڑا ہے۔ اور اسی کی بات سنی جاتی ہے جب کہ اس زمانہ میں عورتیں مردوں پر حاوی ہیں کیوں کہ مرد جیسے ہی محسوس کرتا ہے کہ بیوی کو اس کی ضرورت نہیں ہے تو وہ بس مردہ ہو جاتا ہے اور ازدواجی زندگی کی بہارمرجھاجاتی ہے جس کی وجہ سے تعلقات ٹوٹنے اور بگڑنے لگتے ہیں۔
10۔ میاں اور بیوی دونوں کو ضرورت بھر محبت کی حاجت باقی ہے:
مردکی جذباتی ضرورت عورت کی جذباتی ضرورت سے مختلف ہوتی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ جذباتی ضروریات کے اس فرق کی حقیقت کونہیں سمجھ پاتے ہیں یہی نادانی ان دونوں کے درمیان مزید مشکلات پیدا کر دیتی ہے۔ کبھی ازدواجی زندگی ان دونوں کی زیادہ دشوار ہو جاتی ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی نفسیات کو سمجھ نہیں سکے اور اپنی پریشانیوں کے علاج اور آپسی رنجشوں کی اصلاح سے ناواقف رہے۔ ایک مشکل یہ ہے کہ جب شوہر اپنی بیوی کو خوش رکھنے اور اس کا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس انداز سے جس کی ضرورت مردوں کو ہوتی ہے نہ کہ عورتوں کو کیوں کہ عورتوں کی ضروریات کو وہ جانتا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مردوں کا یہ خیال ہے کہ جن احساسات اور جذبات کی ضرورت مردوں کو ہے وہی ضرورت عورتوں کی بھی ہے۔ یہی حال عورتوں کا بھی ہے۔
11۔ جب شوہر بیوی میں کوئی اختلاف ہوتو مرد کی بہ نسبت عورت کا انداز زیادہ سخت ہوتا ہے خصوصا اس کی زبان:
وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندرون میں مردانی پہلو( کروموزوم ال۳۲) کا سہارا لیتی ہے جو کہ سختی اور تیز مزاج اعصاب والا ہوتا ہے۔ یہ کروموزوم عورت کو مذکر سے یعنی مرد کے مادہ منویہ (ال ۳۴ کروموزوم ) سے حاصل ہوتا ہے اور دوسرا جو مونث سے حاصل ہوتا ہے جو کہ بنیاد ہے ۔یہ دونوں مل کر (۹۴ کروموزم) ہوتے ہیں۔ انہی کروموزوم کو وراثتی خلئے کہا جاتا ہے جو ہر انسان کو اپنے والدین سے حاصل ہوتے ہیں توجب عورتیں غصہ میں کسی حد تک ، سخت طبیعت ہو جاتی ہیں تو اس کی وجہ ان پر ذکر فطرت کا غلبہ ہوتا ہے حالانکہ عورتیں فطرتاً سخت دل نہیں ہوتی ہیں بلکہ مردانھیں ایسے رویہ پر مجبور کرتے ہیں۔ اس رویے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں کے تعلقات زیادہ خراب ہوتے ہیں خصوصا ًعورت کے کیوں کہ جب مخالف جنس سے اس کے تعلقات خراب ہوتے ہیں تو وہ بلا ارادہ اپنے آپ کو سزا دینا شروع کرتی ہے جب تک اس کے اندر تکلیف کا احساس باقی رہتا ہے اور مشکل ختم نہیں ہو جاتی وہ اپنے آپ پر اپنی خدمتوں پر اور شوہر کے ساتھ ہم آہنگی کی قدرت و صلاحیت پر شک کرنے لگتی ہے وہ اپنے اندرونی جذبات سے لڑنے کے لئے بے تحاشرمنفی الفاظ و جملے کہنے لگتی ہے آپ دیکھئے کہ بیماری نام اس بات کا ہے کہ ہمارا اندرون اپنے آپ کو تکلیف دینے لگ جاتا ہے اور (ادر بینالین) دل میں بڑھ جاتا ہے۔
13۔ شوہر و بیوی میں جب کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اس کے حل کرنے کے انداز میں واضح فرق ہوتا ہے:
جب شوہر کو بیوی پر غصہ آتا ہے تو وہ اپنے غصے کا اظہار براہ راست نہیں کرتاہے بلکہ خاموشی، ٹھنڈے انداز اور رویہ یا بیوی کی کسی مدد یا مداخلت کرنے میں کمزور رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ یہاں بیویوں کو چاہئے کہ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں اوردھیان رکھیں کہ ان کا شوہر کس بات پر ناراض ہونے کی صورت میں انھیں خود بتلاتا نہیں ہے بلکہ اس کے سلوک سے انھیں یہ بات خود سمجھ لینی چاہئے لیکن جب بیوی کسی بات پر ناراض ہوتی ہے تو وہ اس بارے میں اور اپنی پریشانی کے بارہ میں بولنے لگتی ہے اور شوہر کی طرح چھپاتی نہیں ہے۔
14۔کسی مشکل کا سامنا کرنے پر جب مرد بات کرتے ہیں تو دو میں سے کسی ایک انداز ہی کو اپناتے ہیں:
پہلا انداز: وہ اس لئے کہتے ہیں کہ انھیں نہیں معلوم ہے کہ پیش آمدہ مشکل کیسے حل کی جائے اس لئے وہ کسی شخص سے ایسی نصیحت یا مشورہ کے منتظر ہوتے ہیں جس سے وہ مشکل حل ہوجائے یا اس کے حل کاصحیح طریقہ معلوم ہو سکے۔
دوسرا انداز : وہ اس لئے گفتگو کرتے ہیں تا کہ ان کی ناراضگی معلوم ہو سکے وہ دوران گفتگو مخاطب کو مورد الزام ٹھراتے ہیں۔ اسی لئے ہر آدمی، اس کے ساتھ ہونے والی گرم گفتگو کو یوں سمجھتا ہے کہ اس کے ذریعے اسی پرتنقید کی جارہی ہے۔ خواہ مخاطب، اس کی بیوی کیوں نہ ہو اس لئے جب بیوی شوہر کے سامنے اپنی پریشانیوں کا تذکرہ کرتی ہے تو وہ یہ سمجھے لگتا ہے کہ یہ مجھ پرحملہ کررہی ہے۔ اور اس کا قصور بتلارہی ہے اس لئے اس کو اپنے بچاﺅ کی سوجھنے لگتی ہے اور وہ بیوی کے ساتھ لڑنے لگتا ہے اور وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر وہ ان مشکلات کے اسباب ذکر کرے گا تو بیوی نرم پڑ جائیگی اور اپنی گفتگو کوختم کر دی۔ اسے نہیں معلوم کہ اس طرح وہ آگ کو مزید بھڑکائے گا اور اس کے فطری عمل کے سبب اس کی چنگاریاں اور لپیٹ میں مزید اضافہ ہوگا۔ ایسی صورتوں میں مرد کو چا ہے کہ وہ خاموش رہے نہ یہ کہ گفتگو کرے۔ اگر عورت چند منٹ بات کرے اور شوہر سے اس کو سخت ردعمل نہ ملے تو وہ دھیرے دھیرے خاموش ہوجائے گی اور اپنی بیزاری اور سخت کلامی کو چھوڑ کردوسری باتوںمیں لگ جائے گی۔
15۔عورت میں اپنی ذاتی صلاحیتوں پر قابو پانے کی عجیب وغریب صلاحیت ہوتی ہے وہ کمزور نہیں ہے:
جیسا کہ سب کا خیال ہے۔ بلکہ کبھی اس میں بعض صورتوں میں مرد سے زیادہ قوت برداشت ہوتی ہے۔ وہ جب چاہتی ہے اپنے آنسووں پر قابو پالیتی ہے۔ اس لئے کہ اس میں علم کی حالت سے بے حد خوش ہو جانے کی حیرت ناک حد تک صلاحیت ہے ۔پھر بے بکلی وبے قراری بھی فوراً چھا جاتی ہے۔ اس کا سبب اس کے ہر مون ہیں جن کے سبب اس کے جذبات ایک جیسے نہیں رہتے۔ چنانچہ وہ رونے لگتی ہے تا کہ سکون پائے اور نفسیاتی راحت ملے اور اپنی گھبراہٹ کو کم کرے۔ لیکن مرداس وقت روتا ہے جب وہ بے چارگی اور ناکامی محسوس کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارے ہاں عورت مارچ کو لے کر ہلہ گلہ اٹھایا جارہا ہے اور دنیا میں عورتیں سیاروں کی تلاش کر رہی ہیں