born baby khtnay

عقیقہ اور ختنے کا بیان

EjazNews

حدیث شریف میں یہ آیا ہے کہ بچہ کے پیدا ہونے کے ساتویں روز بچہ کا مونڈن کرا کے عقیقہ کریں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے میں گروی رکھا ہوا ہے ساتویں روز اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کیا جائے اور اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور اس کے بالوں کو مونڈدیا جائے۔ “ (ابوداﺅ)
عقیقہ اس جانور کو کہتے ہیں جو نوزائیدہ بچے کی طرف سے خدا کے شکر یہ میں ذبح کیا جاتا ہے۔ لڑکے کی جانب سے دو جانور خواہ بکری دونوں ہوں یا دونوں بکرے ہوں اور لڑکی کی طرف سے ایک ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکری اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کی جائے۔ “ (ترمذی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن ؓ کا عقیقہ کیا تو حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا کہ ان کے بالوں کو منڈوا دو اور چاندی کے برابر تول کر صدقہ کر دو۔ (ترمذی )
لہٰذا بچے کے بال منڈا کر چاندی کے برابر وزن کر کے خیرات کرنا مسنون ہے اور سر کے منڈانے کے بعد سر پر زعفران کا ملنا بھی سنت ہے۔ (ابوداﺅد)
اگر کسی وجہ سے ساتویں دن عقیقہ نہیں ہو سکا تو چودھویں یا اکیسویں تاریخ یا جب ممکن ہوکر دینا چاہئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقیقہ ساتویں یا چودھویں یا اکیسویں روز ذبح کیا جائے۔ (بیہقی ، نیل الاوطار)
اور عقیقہ میں بکری ہی کا ہونا ضروری نہیں بلکہ بھیڑ، دنبہ، اونٹ ، گائے ، بیل ، بھینس کا بھی عقیقہ کیا جاسکتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اونٹ ، گائے اور بکری کا عقیقہ ہو سکتا ہے۔ “(نیل الاوطار)
اور عقیقہ کے جانور میں قربانی کی شرطیں ضروری نہیں ہیں۔ (نیل الاوطار)
اور اگر بچپن میں کسی کا عقیقہ نہیں ہوا ہے تو جوانی میں بھی اپنی طرف سے اپنا عقیقہ کر سکتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت کے بعد اپنا عقیقہ کیا تھا۔ (نیل ، بیہقی، بسند ضعیف)
اور عقیقہ کے گوشت کو قربانی کے گوشت کی طرح ماں، باپ وغیرہ بھی کھا سکتے ہیں اور عقیقہ کے دن بچے کا کوئی اسلامی اچھا سا نام رکھو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قیامت کے دن اپنے ناموں اور اپنے باپوں کے ناموں سے ملاتے جاﺅ گے۔ اس لئے تم اچھا سا نام رکھو۔ “ (ابوداﺅد)
اورفرمایا سب سے زیادہ پسندیدہ نام اللہ کے نزدیک عبد اللہ، عبد الرحمن ہے۔ (مسلم)
اگر کسی کا اچھا نام نہیں ہے تو اس کو بدل کر اچھا نام رکھنا چاہئے۔ عقیقہ میں مذکورہ بالا کام مسنون ہے۔ لیکن بعض جگہ اس عقیقہ میں بھی بعض ناجائز رسمیں ادا کی جاتی ہیں نمونے کے طور پر چند خراب رسمیں لکھی جاتی ہیں تاکہ ان کو معلوم کر کے چھوڑنے اور چھڑانے کی کوشش کرو۔
عقیقے کی بعض رسموں کا بیان
بعض جگہ یہ رواج ہے کہ جب نائی بچے کا مونڈن کرنے کے لئے سر پر استرہ رکھتا ہے تو اسی وقت عقیقے کا جانور ذبح کیا جاتا ہے اور ایسا کرنے کو ضروری سمجھا جاتا ہے اس طرح کرنے کا ثبوت شریعت سے نہیں ہے بلکہ ایک لغو حرکت ہے۔
بعض جگہ عقیقے کے دن رشتے اور برادری کے لوگ جمع ہوتے ہیں بلکہ باقاعدہ دعوت دے کر بلایا جاتا ہے اور سرمونڈنے کے بعد پیالے میں یا سوپ میں کچھ نقدی وغیرہ ڈالتے ہیں اور یہ نائی کا حق سمجھا جاتا ہے اور یہ فرض کے طور پر ادا کیا جاتا ہے یہ بھی ایک رسم بد ہے۔
بعض جگہ یہ رواج ہے کہ عقیقے کی سری نائی اور ران دائی کو دینا ضروری سمجھا جاتا ہے ۔ حالانکہ یہ ضروری نہیں ،چاہے دو چاہے نہ دو۔ یہ اپنی مرضی پر موقوف ہے، رسم و رواج پر دینا جائز نہیں۔
بعض لوگ عقیقے کی ہڈیوں کو توڑنا برا سمجھتے ہیںاور اس سے شگون بد مراد لیتے ہیں۔ یہ شگون مشرکانہ ہے۔
بعض جگہ بچے کے دانت نکلنے کے قوت چنے کی گھونگھنیاں تقسیم کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں یہ بھی رسم بد ہے۔
بعض جگہ دودھ چھڑانے کے وقت بہت سی رسمیں ادا کی جاتی ہیں۔
بعض جگہ سالگرہ کی رسم ادا کی جاتی ہے اور اس موقع پر دعوت وغیرہ دی جاتی ہے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں اور مختلف مقامات میں مختلف رسمیں خلاف شرع ادا کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ رسم بد سے بچائے اور شریعت کے موافق کام کرنے کی توفیق دے ۔ (آمین)
ختنہ کا بیان
ختنہ کرنا کیسا ہے؟
ختنہ کرنا سنت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس چیزیں فطرت(سنت) سے ہیں۔ جن پرتمام نبیوں نے عمل کیا ہے اس میں ایک اختتان یعنی ختنہ کرانا بھی ہے۔ “(نسائی، ابوداﺅد)
اور اس زمانے میں گویا یہ شعائر اسلام سے ہے ،اس سے مسلمان اور غیر مسلمان ہونا پہچانا جاتا ہے، اسی لئے بعض لوگ ختنہ کو مسلمانی کہتے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی برس کی عمر میں اپنے ہاتھ سے اپنا ختنہ کیا تھا۔ (بخاری)
اورآپ نے یعنی ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسحق کا ختنہ ساتویں روز کیا تھا اور حضرت اسمٰعیل کا تیرھویں برس میں کیا تھا۔ (سفر السعادت)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن ؓو حسین ؓ کا ختنہ ساتویں روز کیا تھا۔ (نیل )
اگر کسی وجہ سے نابالغی کی حالت میں ختنہ نہیں ہوسکا تو بلوغت کے بعد بھی کیا جاسکتا ہے۔ ختنہ کے موقع پر بھی بہت سی خراب رسمیں ادا کی جاتی ہیں۔ ان سے بچنا ضروری ہے۔ جیسے ختنہ کی دعوت اورناچ باجا وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کی پنا ہ ، اعوذ باللہ(۲)