Transplant Failleier

ٹرانسپلانٹ ٹیشن کروانے والے جلدی کیوں مرجاتے ہیں

EjazNews

گزشتہ برس اٹلی میں فائرنگ کے نتیجے میں مرنے والے بچے نے اپنا جگر ، دل ، گردے اور کئی دوسرے اعضاءعطیہ کر دئیے۔ یہ عطیہ پانے والے دو لوگ چند سالوں کے اندر اندر وفات پا گئے۔ دل ٹرانسپلانٹ کروانے والی ایک عورت 7سال میں موت کے منہ میں چلی گئی۔ محققین سوچ رہے ہیں کہ انہیں بھری جوانی میں موت کے اسباب کیا ہیں۔ آخر یہ لوگ دوسرے امریکی یا یورپی باشندوں کی نسبت جلدی کیوں جان کی بازی ہار گئے۔ محققین اس چیز پر بھی غور کر رہے ہیں کہ کسی ایک انسان کا جسم دوسرے انسان کے اعضاءکو کیوں قبول نہیں کرتا۔ وہ کیا وجوہات ہیں کہ ہر کسی کا دل جگر یا گردہ دوسرے کو ٹرانسپلانٹ کیوں نہیں ہوتا۔
اس پر کافی تحقیق کی گئی ۔ محققین کے نزدیک اس کا براہ راست تعلق مدافعتی نظام اور کچھ ایسے خلیوں کی فعالیت سے ہے جو نئے اعضاءکو قبول نہیں کرتے۔ اس تحقیق کے نتیجے میں سائنسدان مدافعتی نظام کی فعلیت سے بچ کر یا اس کو کمزور کر کے کسی دوسرے انسان کے ٹشوز کو ٹرانسپلاٹ کرکے آسان بنانے کی سوچ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی کو کینسر ہے یا کوئی انفیکشن ہے۔تو جان بچانے والے ٹشوز کو ٹرانسپلانٹ کرنے کے لیے اس آدمی کے مدافعتی نظام کو روک کر ایسا کیا جاسکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق بون میرو سیل خلیو ں میں ایک مخصوص قسم کے ریسرچر ہوتے ہیں ۔ ان ریسیکٹرز کو سگنل ریگولیٹری پروٹین ایلفا کہا جاتا ہے۔ اس پر یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ان خلیو ں کو انسانی جسم کا واچ ڈاگ یعنی محافظ قرار دیا ہے۔ جوں ہی کوئی بھی اعضاءکسی دوسرے کے جسم میں لگایا جاتا ہے یعنی یہ واچ ڈاگ یعنی خلیے لمپو سائیڈ جاری کرتے ہیں ،یہ لمپو سائیڈ خارجی خلیوں کو نیست و نابو د کر دیتے ہیں۔ عام زبان میں یوں کہاں جاسکتا ہے کہ جوں ہی کسی ایک کے سیل کسی دوسرے کے جسم میں لگائے جاتے ہیں تو سفید خون کے خلیے اسے خارجی سمجھ کر انہیں توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٹرانسپلانٹیشن کے حوالے سے یہ ایک اکیلی بری خبر نہیں ،اس سے سوزش بھی پیدا ہوجاتی ہے اور کئی دوسری خرابیاں بھی ۔ سفید خلیوں کا حملہ سبھی جانتے ہیں۔ کیونکہ میجر ہسٹرو کیمپلیبلٹی کے عمل کے ذریعے سے یہ خلیے خارجی عناصر کا پتہ چلاتے ہیں۔ اپنے ریسٹرز کے ذریعے لیمپو سائیڈ خارجی خلیو کا پتہ چلا کر انہیں توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیمپو سائیڈز کو پیدائشی طور پر از خود یہ نہیں پتہ ہوتا کہ کون سے خلیے خالی ہے یا کون سے نہیں یعنی لیمپو سائیڈ کسی بھی خارجی خلیے کی ٹرانسپلانٹ سے از خود واقفیت نہیں رکھتے انہیں ایک اور عمل کے ذریعے بتانا پڑتا ہے۔اس عمل کا تعلق مدافعتی نظام سے ہے اور یہ فریضہ سرانجام دینے والے خلیے ڈاین ڈری پکسل کہلاتے ہیں۔ یہ ڈرینڈی سیل چیونگم کی طرح چبانے کی کوشش کرتے ہیں ۔سائنسدانوں نے ان کا تجربہ لا تعداد چوہوں پر کیا۔
اور پھر انہوں نے ان میں دوسرے ٹشوز کو ٹرانسپلانٹ کیا ،ایسے چوہوں میں مدافعتی نظام کا رسپونس ذرا مختلف تھا۔ اس طرح یہ ایک لمبا عمل ہے جو خارجی عناصر کا پتہ چلا کر ان پر حملہ آور ہونے کے لیے خلیوں کو تیار کر تا ہے۔ اسی لیے اس وقت سائنسدان ٹشوز اور خلیوں کو میچ کرنے میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن اگر پہلے مرحلے میں خارجی ٹشوز کا سگنل دینے والے خلیوں کو ہی غیر فعال کر دیا جائے تو خارجی ٹشوز غیر فعال کیے جاسکتے ہیں۔
سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق تمام تر ٹشوز کو میچ کرنے کے باوجود بہت سے ٹرانسپلانٹ کو قبول نہیں کرتا۔ ایک تحقیق کے مطابق دل کے 10فیصد اور گردے کے 20فیصد ٹرانسپلانٹیشن ناکام ہو جاتے ہیں اور یہ ناکامی پہلے ہی سال سامنے آجاتی ہے۔ ٹرانسپلانٹ کے وقت تمام چیزیں میچ کر جاتی ہیں۔بلڈ گروپ، ٹشوز اور سب کچھ ،لیکن ایک سال کے اندر اندر جب سفید خلیوں میں موجود لیمپو سائیڈ کو خارجی کا سگنل ملنا شروع ہوتا ہے تو دل اور گردے کو جسم قبول نہیں کرتا۔ اصل مسئلہ اس استرات کو روکنے کا ہے یعنی ٹرانسپلاٹیشن کے باوجود بعد میں ایمیول کا ایک حصہ اپنے نظام کے ذریعے خارجی عناصر پر حملہ آور ہوتا ہے تو ٹرانسپلانٹ کیے گئے دل یا جگرٹھیک طرح کام نہیں کر پاتے۔ وہ سرطان کا شکار ہو سکتے ہیں یا کوئی اور انفیکشن بھی ہو سکتی ہے۔ فالج کا حملہ بھی ہو سکتا ہے، شریانیں بھی پھٹ سکتی ہیں۔اس سارے عمل کو روکنے کے لیے سائنس دان اب اس نظام کو غیر فعال کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیںدیکھتے ہیں انہیں کب کامیابی ملتی ہے ۔اس کامیابی کی صورت میں ٹرانسپلانٹیشن کے بعد ایک سال کے اندر اندر مختلف امراض کا شکار ہو جانے والے دل کے 10فیصد اور گردے کے 20فیصد مریضوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  ہیلتھ ٹپس:جان ہے تو جہان ہے
کیٹاگری میں : صحت