museu

شگاگو کا پہلا قاتل

EjazNews

یہ 1812ءکا واقع ہے اس وقت شگاگو نام کی ریاست دنیا کے نقشے پر موجود نہ تھی۔ البتہ یہ ایک چھوٹا سا پسماندہ علاقہ تھا جہاں کینیڈا، امریکہ اور فرانسیسی تاجر اپنی خریدو فروخت کیا کرتے تھے۔ فوجیوں کا بھی اس علاقے میں کافی عمل دخل تھا ۔ فورڈ ڈئیر بورن نامی قلعہ بھی یہی قائم تھا۔ یہاں دریائے شگاگو کے شمال میں واقع جھیل کے پاس اس علاقے میں پہلا قتل ہوا۔ دراصل یہ قلعہ پہلے مسٹر لیموکی ملکیت میں تھا جسے بعد میں کینزی نے خرید لیا۔ دونوں گرم طبیعت کے لا اُبالی آدمی تھے۔ جان کینزی کی شہرت بھی اچھی نہ تھی ۔اس کے پاس پیسہ بہت تھا لیکن مہا کنجوس۔ ایک دھیلے کو بھی خرچ کرتے ہوئے گھبراتا تھا۔ 1779ءمیں یہ علاقہ بڑا تجارتی مرکز تھا اور 1804ءمیں کینزی نے یہ خریدا۔ کسی بات پر اس کی لیمو سے ان بن ہو گئی، لیمی پستو ل لے آیا اور اس نے بھی خنجر نکال لیا دستیاب دستاویزات کے مطابق اس لڑائی میں لیمی مارا گیا اور کینزل علاقے سے فرار ہو گیا۔فرار کے بعد پھر وہ کہیں نظر نہ آیا۔ کھدائی کے دوران اسی علاقے میں ایک لاش کی کچھ ہڈیا ں ملیں ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق اس پہلے مقتول کی باقیات تھیں۔ بعد میں یہ عجائب گھر کو بھجوا دیں گئیں۔ وہاں اس پہلے مقتول کے واقعات آج بھی محفوظ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مردہ دماغوں کو زندہ کرنے کی خواہش