Dr arif alvi

حکومت کا پہلا پارلیمانی سال پورا، صدر مملکت کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

EjazNews

نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کا پہلا پارلیمانی سال مکمل ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔یہ میرا آئینی فریضہ ہے کہ میں حکومت اور پارلیمان کی آئینی کارکردگی پر نظر رکھوں اور جہاں ضرورت ہو آئینی و قانون کے مطابق اس کی رہنمائی کروں۔ اس چھت کے نیچے عوام کے منتخب نمائندگوں کی موجودگی عوام کی امیدوں کا مظہر ہیں، ہم سب اللہ کی بارگاہ اور عوام کی عدالت میں جوابدہ ہیں اور اس کا احساس ہر وقت رہنا چاہیے۔
صدرمملکت نے کہا کہ اللہ ہمیں اس وطن اور اس کے عوام کی خدمت کرنے کی توفیق دے تاکہ ہم جب اپنا محاسبہ کریں تو ضمیر کی عدالت میں سرخرو ہوسکیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر حکومت پاکستان اور عوام نےشدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔بھارت نے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام سے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی بلکہ شملہ معاہدے کی روح کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمان نے 7 اگست 2019 کے مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی متفقہ طور پر مذمت کی۔
ان کہنا تھا کہ حکومت نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی، تجارت معطل کرنے اور دو طرفہ تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں بھرپور طریقے سے اٹھایا ہے۔ یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ 50 سال بعد مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں زیر بحث لایا گیا، خصوصاً جب بھارت اس اجلاس کو روکنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگارہا تھا۔ مسئلہ کشمیر پر دہائیوں بعد سلامتی کونسل کے اجلاس میں گفت و شنید اس بات کی عکاسی ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی تصفیہ طلب مسئلہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی برادری خصوصا اقوام متحدہ کو اپنا بھرپور کرادار ادا کرنا ہوگا ورنہ یہ مسئلہ عالمی امن کے لیے شدید خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم نے کشمیر میں بھارت کی جانب سے کیے جانے والے غیر قانونی اور جارحانہ اقدامات کی مذمت کی اور مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے اور اس دیرینہ تنازع کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کیا جائے۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل نے بھی 58 ممالک کی حمایت سے اس معاملے پر مشترکہ بیان جاری کیا جس میں بھارت سے مقبوضہ کشمیر سے تمام پابندیوں کا فوری خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے کامیاب دورہ امریکہ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی طرف مبذول کروانے کے اقدام کو سراہتا ہوں۔پاکستان مقبوضہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے امریکہ کی ثالثی کی ہر کوشش کا خیر مقدم کرے گا۔عالمی برادری نے بھارتی جنون کو نظر انداز کیا تو یہ عالمی امن اور استحکام کے لیے شدید خطرات کا باعث ہوگا۔ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا رہے گا اور اس سلسلے میں پوری قوم اپنے کشمیری لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے اور سفارتی، اخلاقی اعتبار سے انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے، ہم کشمیریوں کے ساتھ ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔ہم ان تمام دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے کشمیر کے مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے سلامتی کونسل کے اجلاس کے کامیاب انعقاد میں کردار ادا کیا، اس میں چین کی بھرپور کوششیں قابل ذکر ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور جنگی جنون کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں سلامتی اور امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔پاکستان نے ہمیشہ بھارتی جنگی جنون کا جواب صبر سے دیا، پلوامہ کا واقعہ رونما ہوا تو پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا شروع کردیا، تب بھی پاکستان نے معاونت کی پیش کش کی لیکن نئی دہلی نے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ اگر آج دنیا نے بھارت کی کشمیر میں نسل کشی کا نوٹس نہیں لیا تو خطے میں عدم استحکام بڑھے گا۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی قوانین کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی حمایت کرتا ہے اور کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ بھارتی فاشٹ نظریے نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو یرغمال بنا لیا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ اسلام میں مسجد کی بڑی اہمیت ہے اور یہ صرف پانچ وقت ادائیگی کے لیے ہی نہیں بلکہ اسے سماج میں افراد کی اصلاح و تربیت کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، علماء کرام کو چاہیے کہ معاشرتی اور سماجی برائیوں کے خلاف اپنا کردار ادا کریں، میں نے اسلامی نظریاتی کونسل سے درخواست کی ہے کہ وہ مسجد کے منبر کو مؤثر استعمال کرتے ہوئے عورتوں کے وراثتی حقوق، طہارت اور صفائی، ماحول اور شجرکاری، انسانی صحت سے متعلق لوگوں میں آگاہی پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پاکستان کو مدینہ کا رول ماڈل بنانے کا تصور پیش کیا اور اسی میں پاکستان کی معاشی، سماجی ترقی پوشیدہ ہے۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ایک برس میں کابینہ کے 50 سے زائد اجلاس ہوئے اور حکومت اپنے فرائض کی انجام دہی میں فعال اور مخلص ہے۔ حکومت کی جانب سے پاکستان میں سٹی زون پورٹل کا قیام انقلابی اقدام ہے اور کفایت شعاری کے بارے میں کابینہ کے فیصلوں کو سراہتا ہوں۔کابینہ کے ان فیصلوں کو بھی سراہنا چاہتا ہوں جو کفایت شعاری کے سلسلے میں کیے گئے تھے۔معیشت کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے، نالج اور آئی ٹی اپنی پالیسیوں میں خاص جگہ دیں تاکہ پاکستان چوتھے صنعتی انقلاب میں ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہوسکے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال شفافیت لاتا ہے، میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ اپنی پالیسیوں کے اطلاق اور اس کے عملدرآمد میں آئی ٹی کا عمل دخل بڑھائیں، آئی ٹی گڈگورننس میں اہم کراداکرتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ملک کا مستقبل جمہوریت سے ہے۔
اس اجلاس میں وزیراعظم عمران خان، چیئرمین سینیٹ، قائد حزب اختلاف شہباز شریف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، پاک فضائیہ پاک بحریہ کے سربراہان، وزیراعظم آزاد کشمیر، وفاقی وزرا اور وزرائے اعلیٰ شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  برٹش ائیر ویز کی پروازیں بحال