bilawal

پاکستان کو شروع سے ہی مودی کوبے نقاب کرنا چاہئے تھا:بلاول بھٹو زرداری

EjazNews

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حیدرآباد میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزیر قانون نے کراچی پر قبضے کا پلان پیش کیا، اگر کراچی پر غیر آئینی قبضے کی کوشش کی گئی تو حکومت کو گھر جانا پڑے گا۔ پیپلز پارٹی کسی بھی صورت میں سندھ کے خلاف سازش کامیاب نہیں ہونے دے گی، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ غیر آئینی طریقے سے کراچی کو اسلام آباد سے کنٹرول کیا جائے۔انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک چلانا کوئی میچ نہیں ہے، ایسی ہی حرکتوں کی وجہ سے ماضی میں ملک ٹوٹا تھا۔ آمر اٹھارویں ترمیم پر حملہ کرتے آ رہے ہیں، لیکن ہم نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے 1973 کے اصل آئین کو بحال کرایا، آمروں سے لڑ کر، قربانیاں دے کر آئین بحال کیا اور ہمارے وزیراعظم سندھ میں آ کر کہتے ہیں کہ وفاق 18 ویں ترمیم کی وجہ سے دیوالیہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ کوتباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کراچی پر قبضے کا مذاق کیا جا رہا ہے لیکن پیپلز پارٹی کٹھ پتلی اور غیر جمہوری طاقتوں کے سامنے دیوار کی طرح کھڑی ہو گی، کسی صورت سندھ کے وسائل پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک میں لوگوں کو سیاسی قیدی بنا کر رکھ دیا ہے، کٹھ پتلی حکومت کا ظلم جاری ہے، عوام کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی کا کام عوام کو خوش رکھنا نہیں ہوتا، کٹھ پتلی عوام کے ووٹ سے نہیں آتے اس لیے عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ جب آصف زرداری کی حکومت آئی تو پاکستان دہشت گردی کا شکار تھا، مشکلات کے باوجود آصف زرداری نے ملک کو سنبھالا۔انہوں نے کہا کہ معاشی مشکلات کے باوجود آصف زرداری نے تنخواہیں اور پنشن بڑھائی، آصف زرداری نے مشکل حالات میں بھی غریب عوام کو ریلیف دیا۔کٹھ پتلی حکمران اور غیر جمہوری قوتوں نے مل کر ہماری جمہوریت، آئین اور آزادی صحافت پر حملے کیے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی اور صحافی برادری نے ہمیشہ ہی نظریاتی اصولوں کیلئے جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی یہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہمارے وسائل اور حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا، پھر ہمارا پانی روکا گیا، اس کے بعد قدرتی گیس کا حصہ نہ دے کر صوبے کا معاشی قتل تک کر دیا اور اب صوبے کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈیفنس میں اینکر مرید عباس کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا

کشمیریوں کے حق خودارادیت پر تاریخی حملے کے وقت موجودہ حکومت کے پاس کسی قسم کی حکمت عملی نہیں تھی۔ خارجہ پالیسی نے کٹھ پتلی کا بھانڈا پھوڑ دیا اور عمران خان پارلیمنٹ میں صرف بونگیاں مارتے رہے۔ ان کو سمجھنا چاہئے تھا کہ یہ مودی گجرات کا قصائی ہے، یہ کوئی من موہن سنگھ نہیں تھا۔ پاکستان کو شروع سے ہی مودی کو بے نقاب کرنا چاہئے تھا۔ جب آپ نے دیکھا کہ پچھلے پانچ سال سے مودی کشمیریوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے تب سے آواز اٹھانی چاہئے تھی۔
بلاول بھٹو زرداری نےکہا ہے کہ قرضوں پر سیاست اور مخالفین پر تنقید کرنے والی کٹھ پتلی حکومت اپنے پہلے ہی سال میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مجموعی 5 سالہ دور حکومت سے زیادہ قرض لے چکی ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان قرضوں کے باوجود مہنگائی بلند ترین سطح پر ہے اور سلیکٹڈ کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ان ہاؤس تبدیلی ایک قابل عمل طریقہ ہے جس کے بارے میں اپوزیشن کو کافی سوچنے کی ضرورت ہے۔ ویسے بھی آج کل وفاقی وزیر کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کارگردگی نہیں دکھائیں گے تو ان کو گھر جانا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  میرے بھائی (فواد چوہدری) کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے:خواجہ آصف