Women soloution

ازدواجی اختلافات کوحل کرنے کا غلط طریقہ

EjazNews

میری بیوی فلاں عورت کی طرح کیوں نہیں بنتی ؟ وہ میرے فلاں دوست کی بیوی کی طرح پرسکون طبیعت والی کیوں نہیں ہے؟ اس کی بہن کا رویہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ کاش میری بیوی فلاں عورت کی طرح ہوتی۔ یہ اور اس طرح کے جملے شوہر اپنی بیوی کے بارے میں کہتا ہے جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ شوہر اپنی بیوی اور دوسری عورتوں کے درمیان کھلا ہوا موازنہ کر رہا ہے۔ ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ یہ الفاظ سوچ کر سمجھ کر اور پہلے سے بنائے پلان کے تحت ہوتا ہے، ہوسکتا ہے کہ بغیر ارادہ کے بھی بولتا ہے۔
بعض شوہروں کا اپنی بیویوں کے ساتھ کسی متعین مشکل کے حل کا یہ طریقہ غلط ہے کہ وہ اپنی بیویوں کا دوسری عورتوں سے مقابلہ کریں، چاہے وہ اس کے خاندان کی عورتیں ہوں یا پڑوسن ہو یا خود مرد کے اپنے گھرانے کی عورتیں ہوں اور اس کا مقصد اپنی بیوی کو ایک کردار دکھلا نا ہو۔ اسے نہیں پتہ کہ وہ بہت بڑی غلطی کررہا ہے ۔مثلاً
(۱)جب ہم اس طرح کا مقابلہ کرتے ہیں تو گویا ہم بیوی اور شوہر سے یہ کہتے ہیں کہ میں اس شخصیت سے دلچسپی رکھتا ہوں، رکھتی ہوں۔ اس کی وجہ سے دوسرے فریق کو غیرت آتی ہے اورشخصی ردعمل کا جذبہ ابھرنے لگتا ہے۔
( ۲) اس طرح کا موازنہ ظالمانہ اور نا انصافی پر مبنی ہوتا ہے کیوں کہ ہرشخص کی اپنی صلاحیت، امکانات اور برتائو کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔
(۳) جب ہم کسی ایک شخص کے بارے میں بات کرتے ہیں اور اس کی خوبیاں دوسرے کے سامنے ظاہر کرتے ہیں تو ہم اس دوسرے فریق کو اس کا وہ منفی رویہ یاد دلاتے ہیں جسے ہم پسند نہیں کرتے اس کی وجہ سے دوسرے فریق کو ایک طرح کاغم ہوتا ہے۔
(۴) اس طرح کا موازنہ دوسرے فریق کے اندر مستقل مزاجی کے نہ ہونے اور عدم اعتماد کے احساس کو پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
(۵) اس موازنہ سے دوسرا فریق دفاعی انداز اختیار کرنے لگتا ہے اور جس تبدیلی کو شوہر اس سے چاہتا ہے وہ اس کے لئے تیارنہیں ہوتا ہے۔
(۶)دوسرے فریق میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اس موازنہ کا مقصد اس کی اہمیت حیثیت کو گھٹانا ہے۔
(۷) اس طرح کا موازن فردکی شخصیت کو ختم کردیتا ہے اور دوسرے کی نقل کراتا ہے ، اس طرح کہ دوسرا فریق اپنی شخصیت اور فطری ذاتی امکانات کو کھوبیٹھتا ہے۔
ہر شوہر کے نام تا کہ وہ اپنی بیوی کھونہ بیٹھے
(۱) اپنی بیوی اور دوسری عورتوں کے درمیان مواز نہ مت کیجئے۔ نہ ہی اپنے خاندان میں کسی کو اجازت دیجئے کہ وہ آپ کی بیوی اور دوسری عورتوں کے درمیان مقابلہ کرے۔ خاص طور سے بعض مائیں اور بہنیں شکل اور خوبصورتی میں اپنی بھاوج کا دوسری عورتوں سے موازنہ کرتی ہیں ۔ آپ ہرگز اس دروازہ کونہ کھولیں۔
(۲)یہ یادرکھئے کہ ہر انسان کی اپنی شخصیت ہوتی ہے جو دوسروں سے بالکل الگ ہوتی ہے۔ یہ بات آپ ہمیشہ یادرکھیں اور جس کے ساتھ شادی پر آپ راضی ہو چکے ہیں اس کی شخصیت کا احترام کریں۔
قناعت ( جومیسر ہو اس پر راضی رہنے) کوتم مضبوطی سے تھام لو تو بادشاہ کی زندگی گزارو گے ،چاہے اس قناعت کے نام پرتم کوصرف بدنی راحت یعنی تندرست جسم ہی کیوں نہ ملا ہو۔
(۳)جب آپ انسانوں کی طبیعتوں کا فرق سمجھ چکے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ اس شخصیت کے ساتھ آپ کا سلوک ٹھیک ٹھیک اور صحیح طریقے سے ہو۔
(۴) اگر مثال کے طور پر آپ کی سالی ہنس مکھ، اور خوش مزاج ہوتو بھی ضروری نہیں ہے کہ آپ کی بیوی بھی ایسی ہی ہو۔
( ۵) آپ ہمیشہ اپنی بیوی کے مثبت پہلوئوں پر دھیان دیں اور اس کے سامنے ہمیشہ انھیں پہلوئوں کو اجاگر کریں تا کہ اس کو بھی احساس ہو اور وہ مزید اچھی عادتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اور اس کی چھوٹی موٹی منفی باتوں کو جو بار بار پیش آتی ہوں نظرانداز کر دیا کریں۔
(۶) اپنی بیوی کی بے عزتی نہ کریں۔ دوسروں کے سامنے اس کے کاموں اور سرگرمیوں کی اہانت نہ کریں بلکہ اہل و اقارب کے سامنے اس کی تعریف کیا کریں ۔
(۷) اپنی بیوی کی منفی باتوں کو دوسروں کے سامنے یا خاندان کے کسی فرد کے سامنے کہنے سے گریز کیجئے ۔ اس کے عیب اس کے گھر والوں کے سامنے ظاہر نہ کیجئے بلکہ اس کی اچھی باتوں پر روشنی ڈالئے۔
( ۸) اسے یہ احساس مت دلا یئے کہ آپ اس سے بہتر ہیں خواہ معاشرتی لحاظ سے یامالی یاتعلیمی اعتبار سے کیوں کہ اس سے اس کی اہمیت آپ کی نظر میں گھٹ جائے گی۔
اگر آپ یہ سمجھ لیں تو مشکل ختم ہو جائے
اکثر عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ تعلقات میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی کمی محسوس کرتی ہیں ۔ یہ حالت تقریبا ًساری بیویوں کو پیش آتی ہے۔ اس کے باجود ان میں اکثریت اس کمی یا اس کی اصلاح کے طریق کو سمجھ نہیں پاتیں ۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کا سبب کیا ہے؟ کیوں کہ عورت اپنے سلوک کا جائزہ خود نہیں ملتی بلکہ وہ اپنی نظریں دوسروں کے عیوب پر ڈالتی ہے۔ وہ ان کی گرفت کرتی ہے اور اختلافات کی آگ کو بھڑکا دیتی ہے، چاہے وہ اندرونی گھٹے ہوئے اختلافات ہوں یا صاف نظر آتے ہوں ۔ اگر عورت خود اپنا جائزہ لے تو اسے معلوم ہوگا کہ وہ بہت ساری غلطیاں غیرمحسوس طریقہ پر کررہی ہے جس کی وجہ سے اس کے اطراف کے خارجی ماحول کے اچھے تعلقات پر اثر پڑرہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ساتھ ساتھ نہیں پاس پاس رہئے