HSV1-virace

چہرے پر پھوڑے پھنسیاں،ہوشیار رہیے

EjazNews

عالمی ادارہ صحت نے اقوام عالم کو کیل چھائیوں اور پھوڑے پھنسیوں کی شدت سے خبردار کیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً آدھی دنیا یعنی 3.75چار ارب سے 4ارب تک لوگ اپنے چہرے پر HSV1نامی وائرس لیے پھر رہے ہیں۔ یہ وائرس بچپن ہی سے انسان کو دبوچ لیتا ہے۔یعنی ادھر بچے کی پیدائش ہوئی اور ادھر HERTES CISPLES Viras tipe1 نامی وائرس اسے دبوچ لیتا ہے۔ تاہم نوجوانی میں اس کی شکل بدل جاتی ہے۔ 15سال سے 49سال کی عمر میں یہ ایچ وی سی ٹو میں بدل جاتا ہے، دنیا بھر میں اس کی تعداد 42کروڑ ہے لیکن اس کا علاج کیا ہے۔ اس کا تعلق انسان کے مدافعاتی نظام اور پوری زندگی سے ہے۔ حتیٰ کہ خوراک اور اس کا رہن سہن بھی اسی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے شعبہ تولیدگی صحت کی سربراہ ڈاکٹر مار لین کے مطابق ٹائپ ٹو براہ راست زچہ کی صحت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ تاہم ابھی یہ پتہ نہیں چلایا جاسکا کہ یہ وائرس پسینے کی صورت میں کسی دوسرے انسان کو لگ سکتا ہے یا نہیں۔ تاہم متعدد تحقیقات سے یہ دونوں اقسام کے وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے جلد کا جلد سے ملاپ ضروری ہے۔ ہمارے ہاں خواتین اکثر گلے ملتی ہیں ایسا وائرس رکھنی والے لوگوں کو گلے ملنے سے احتیاط کرنا چاہیے۔
ایچ ایس وی ون نامی بیماری منہ کے السر کا باعث بنتی ہے۔ امیرممالک میں یہ بیماری جینٹیکل انفیکشن کا باعث بھی بن رہی ہے۔ بہتر صحت عامہ کی سہولتیں مہیا کرنے والے ممالک نے ایچ ایس وی کی صورت پر کچھ قابو پایا ہے۔ ایچ ایس وی ٹو زیادہ تر خواتین میں پایا جاتا ہے۔ اکثر اوقات لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ یہ وائرس لیے پھر رہے ہیں۔ تاہم اس وائرس کی اب تک کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی۔ اگر بنا لی گئی تو اس سے انتہائی فائدے برآمد ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈپریشن محض ایک احساس نہیں۔۔۔۔بیماری ہے
کیٹاگری میں : صحت