women

اپنی زندگی کوتم خود بنا ئو گےلہٰذا دوسروں کو موقع نہ دو کہ وہ اسے تمہارے لئے بنائیں

EjazNews

ڈاکٹر جون کیری نے تقریبا ۲۵ ہزار شادی شدہ لوگوں کے حالات کی تحقیق کی اور مقالے تیار کئے۔ اس طرح انھوں نے اہم معاشرتی اور انسانی مشکلات کو جمع کردیا جو شادی شدہ افراد کو بار بار پیش آتی ہیں۔
فرضی قصہ ایک فطری اصول ثابت کرتا ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے قاعدوں میں سے ایک قاعدہ کے طور پر مرد اور عورت کے درمیان اختلاف کو بنایا ہے۔
صرف ایک متعین لحاظ سے نہیں بلکہ ہر اعتبار سے چاہے عقلی اور جسمانی اعتبار سے ہو یا سیکالوجی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’مرد عورت کی طرح نہیں ہے۔‘‘(سورہ آل عمران )
جب شوہر اور بیوی میں لڑائی ہو یا وہ دونوں اپنی کسی مشکل کو ختم کرنا چاہیں تو انھیں چاہئے کہ وہ اس بڑے فرق کو ذہن میں رکھیں جو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسانوں کی ابتداء سے بنایا ہے ۔الله تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’ہم نے انسان کو سب سے بہتر شکل و صورت میں بنایا ہے۔‘‘(سورہ تین)
ان اختلاف کو پینے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ عورت اور مرددونوں کو عمومی انداز سے دیکھا جائے۔ اگر ہم غور کریں تو دیکھیں گے کہ مرد اور عورت کی بناوٹ میں بہت بڑا فرق ہے۔ مثال کے طور پر مرد کی شکل معمولی طور پر عورت کی شکل سے بھی ہوتی ہے، اس کا سبب مرد کی ہڈی کا نظام ہے جو عورت کی ہڈی سے سائز میں بڑی ہوتی ہے۔ چلتے ہوئے بھی مردسیدھے انداز سے چلتا ہے اس کے قدم بھی عورت سے تیز اور کے فاصلہ پراٹھتے ہیں کیوں کہ عورت کی بنسبت مردزیادہ آکسیجن لیتا ہے۔ اس لئے اس کی طاقت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ مردعورتوں کی بہ نسبت زیادہ گہری سانس لیتے ہیں جبکہ عورتوں کی ہڈیاں عموماً پہلی اور کمزور اور مرد کی ہڈی کے مقابلے میں کم سخت اور بوجھ کو کم برداشت کرتی ہیں۔ اسی بات کی طرف نبی ﷺ نے اشارہ فرمایا ہے’’ اے انجشہ یہ عورتیں شیشہ کے آبگینوں کی طرح ہیں ،ان کے ساتھ نرمی کرونرمی سے پیش آئو۔ یہ روایت امام احمد نے اپنی مسند میں حضرت انس بن مالک سے روایت کی ہے۔ حضورﷺکا عورت کو شیشہ کی بنی ہوئی چیز سے تشبیہ دینا یہ بتاتا ہے کہ وہ کتنی کمزور اور پتلی ہڈی کی بنی ہوئی ہے جیسے کہ شیشے کی بوتل جو جلدٹوٹ جاتی ہے۔ عورت کی چال بھی مردوں کی چال سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس کے چلنے کے انداز میں ایک طرح کا بانکپن شامل ہوتا ہے گویاوہ اپنے چلنے پراتر ارہی ہے اور یہی چال مردوں کولبھاتی ہے۔ اس کی یہ چال اس کے کمر سے لگے حصہ کا مرد کے مقابلہ میں چوڑے ہونے سے ہے۔
مردکی آواز بھی عورت کی آواز سے مختلف ہوتی ہے ،عورت کی آواز نرم اور پہلی اور نرماہٹ سے بھری ہوتی ہے۔ اسی طرح مرد کی کھال، عورت کی جلد کے مقابلہ میں کھردری ہوتی ہے۔ مرد کی کھوپڑی ، عورت کے مقابلہ میں شکل میں زیادہ بڑی اور وزنی ہوتی ہے۔ عورت کے دانت مرد کے دانتوں کے مقابلہ میں چھوٹے ہوتے ہیں لیکن اس کے سامنے کے دو دانتوں کی چوڑائی زیادہ ہوتی ہے۔ اگر ہم یہ دیکھیں تو عورت کا سینہ چھوٹا لیکن پھیلا ہوا، گولائی لئے ہوئے اور مرد کے سینے کے مقابلہ میں ابھرا ہوا ہوتا ہے۔ وہ نیچے کی طرف اس کے کمر سے لگے حصہ کے ابھار کی وجہ سے تنگ ہوتا ہے۔ اسی طرح چکناہٹ عورتوں میں مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورتوں کا جسم ملائم اور عورت پنالئے ہوتا ہے۔ عورتیں عام طور پر سخت گرمی یا سخت سردی برداشت نہیں کرسکتی ہیں۔ مردوں کی طرح جن میں بدلتے ہوئے موسم سے ہم آہنگی کی خاصی صلاحیت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی فطرت امیں ہی بنائی ہے۔ ان میں چکناہٹ 228فیصد جبکہ مردوں میں 218 ہوتی ہے ،اسی لئے مردوں کے اعضاء کوعورتوں سے زیادہ ابھرے ہوئے ہوتے ہیں کیوں کہ ان اعضاء پر چربی نہیں ہوتی ۔ مرد کا دل بھی عورت کے مقابلہ میں بڑا اور وزنی ہوتا ہے۔ مرد کے دل کا وزن 280گرام سے لیکر 340گرام ہوتا ہے۔ جبکہ عورت کے دل کا وزن230 گرام سے لیکر 280 گرام ہوتا ہے۔ جہاں تک مردو عورت کی شرمگاہیں ہیں تو ان کی خارجی شکل کا اختلاف بہت واضح ہے لیکن یہ کہ عورت کو حیض و نفاس در دزہ اور ماہواری پیش آتے ہیں جو کہ مرد نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ جو ظاہری جسمانی اور باطنی عقلی ، نفسیاتی اور یہاں تک کہ فکری اختلافات ہیں وہ اپنی جگہ پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ وہی ہے جورحم میں جیسے چاہتا ہے تمہاری شکل وصورت بناتا ہے۔‘‘ (سورہ آل عمران)
ڈاکٹراالکسیس کار یل نے اپنی کتاب (انسان جو ایک نامعلوم شئی ہے) میں کیا ۔ خوب کہا ہے کہ مردوعورت کا ختلاف شرمگاہوں کے فرق اور عورت کے رحم ہونے اور حمل ٹھہرنے کی حد تک نہیں ہے بلکہ فطری اعتبار سے وہ اس سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔ ان کے درمیان یہ فرق خودر گوں کے تھے اور جسم سے محدود مادہ کے پیش بینی انڈے سے نکلنے سے پیدا ہوتا ہے۔ عورتوں کے حقوق کے دفاع کرنے والوں نے ان جوہری حقائق سے ناواقفیت کی وجہ سے یہ سمجھناشروع کر دیا ہے کہ دونوں جسموں کو ایک ہی تعلیم دینی چاہئے اور ایک طرح کی طاقت اور ایک جیسی ذمہ داریاں دینی چاہئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت مرد سے بے حد مختلف ہے۔
دونوں کا یہ فرق صرف عضوی نہیں ہے بلکہ دوسری اہم چیزوں میں بھی ہے۔ مثلاً مرد عورت کا لباس چنانچہ عورت کے کپڑے، جوتے اور میک اپ کا سامان اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ الماری اس سے بھر جائے جبکہ مرد گنے چنے چند کپڑوں پر اکتفا کرتا ہے۔ ایسے ہی اس کے جوتے اور معمولی عطر جو ایک ہتھیلی کی انگلیوں پر کئے جا سکتے ہیں۔ مرد کے لئے ممکن ہے کہ کسی کپڑے کو ایک آدھ ہفتہ کے بعد دھو کر اور صاف کر کے پہن لے لیکن عورت اگرکسی لباس کو کسی محفل میں ایک مہینہ پہلے بھی استعمال کرے تو نہ پہنے۔ اسی طرح رنگوں کی پسند میں بھی دونوں کا فرق بہت واضح ہے۔ مرد کے اکثر کپڑوں میں سفید رنگ زیادہ ہوتا ہے جبکہ عورت کالا، لال، ہرا اور ہر طرح کے رگوں اور شکلوں کے اور ہلکے یا گہرے رنگوں والے کپڑے پسند کرتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تم سفید کپڑ اختیار کروتم سے جو زندہ ہو وہ اسے پہنے اور جو مر جائے اسے اس میں دفنا دیا جائے کیوں کہ تمہارے لئے بہترین لباس ہے۔‘‘ (بخاری)
دونوں کے گھر سے باہر جانیوالی حالت پر اگر ہم غور کریں تو ان کا فرق زیر نظر آئے گا۔ مردوں کا پاکٹ ہتھیلی سائز بھر کا ہوتا ہے اور عموماً کالے یا بھورے کلرکا۔ لیکن عورتوں کا پرس مختلف رنگوں، شکلوں اور طرح طرح کے ڈیزائنوں کا ہوتا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے اندر کی اشیاء بھی۔ مرد عموماً اپنے پاکٹ میں ڈرائیونگ لائسنس، شناختی کارڈ، ورک پرمٹ کچھ دوسرے قانونی کاغذات جیسے بینک کارڈیا صحت کا کارڈ، وغیرہ رکھتا ہے۔ لیکن عورت کا پرس عجیب وغریب چیزوں کا ایک چھوٹا موٹا خزانہ ہوتا ہے۔
ایک تربیتی لیکچردینے کے دوران میں نے مردوں میں سے ایک اور عورتوں میں سے ایک عورت کے اپنے اپنے پروں کو کھولنے اور دیکھنے کی اجازت چاہی تا کہ ان کے اندر کی چیزوں کو دیکھ سکوں ۔ لطیفہ جو اچانک پیش آیا اور جس نے مرد عورت کے بڑے فرق کو ثابت کیا وہ یہ کہ مرد کے پاکٹ میں، پیسے، بنک کارڈ شناختی کارڈ،لائسنس کچھ ضروری کاغذات اور ٹیلی فون نمبر ملے۔
جبکہ عورت کے پرسوں میں پیسے، دھوپ کا چشمہ، میک اپ کا چھوٹا سا پیکٹ، کنگھی، عطر، دھن العود، چیونگم، آئینہ ، ٹوتھ پیسٹ اور برش، عورتوں کے موزے چھوٹا سا کیلکولیٹر، کچھ پرانے کاغذات، دکانوں کی رسیدیں،ہاسپٹل جانے کی پرانی تاریخیں، پنسل اور پین، گھر کے تمام افراد کی تصویر میں مثلاً شوہر، چھوٹا بچہ، بیٹی، بہن اور ماں، کاغذ کا تراش جس میں ورزش کرنے کی ترکیبیں اور دوسری چیز ہیں جن کو بتانے کے لئے وقت چاہئے ۔ موجودتھیں۔ اس سے بڑا الطیفہ یہ ہے کہ حاضرین میں سے دوسرے افراد کو بھی جانچا گیا تو ان میں بھی مردوں عورتوں کے پاس تقریب وہی چیز یں ملیں۔
عورت اور مرد کے درمیان کا بس ایک فرق ہی ان دونوں کے درمیان وسیع فرق کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ جب بھی عورت شوہر کے ساتھ بازار خریداری کے لئے جاتی ہے تو وہ فرق کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ خریداری مرد کے نزدیک مطلوبہ چیز کا پالینا ہے جبکہ بیوی خریداری کو سب سے پہلےتفریح اور نئی چیز دریافت کرنے کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ اس کے بعداس چیز کا خریدنا ہوتا ہے۔ دنیا کی تمام عورتوں میں یہ عام طبیعت ہے جسے مردجو چاہیں کر لیں۔ بدل نہیں سکتے۔
کیا کوئی شوہر اپنی بیوی کے ساتھ خریداری پسند کرتا ہے؟ ۔جواب آپ کے پاس ہے ،اکثر اوقات شوہر کو اس سے سخت پریشانی لاحق ہوتی ہے۔ دوران خون کے بڑھ جانے سے لیکر عورتوں کی خریداری کے انداز پر ناراضگی، کیوں کہ عورت اپنی طبیعت سے مجبور ہو کر لا پرواہی اور ٹھنڈے دماغ سے وہ ہر چیز کو دیکھتی ہے، چاہے اسے خریدنا ہو یا نہ ہو۔ ازدواجی تعلقات کے ماہرین نے اپنے تجزیہ میں ثابت کیا ہے کہ شوہر بیوی کے ساتھ خریداری میں آدھے گھنٹے سے زیادہ نہیں رک سکتا۔ اس کے بعد اس پر بیزاری اورنگی کی حالت طاری ہونے لگتی ہے۔ آپ نے غور نہیں کیا کہ بڑی دکانوں میں بیٹھنے کے لئے کرسیاں رکھی ہوتی ہیں۔ آپ جانتے ہیں کیوں؟ وہ صرف ان شوہروں کے لئے دی گئی ہیں جو اپنی بیوی کے ساتھ خریداری کرتے وقت موجود ہوتے ہیں۔
اپنے گھر والوں کے ساتھ خریداری (Sopping) کے دوران میں نے ایک عجیب بات محسوس کی وہ یہ کہ میاں بیوی جیسے ہی کسی دکان میں داخل ہوتے ہیں تو شوہر دکان میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے کرسی تلاش کرتا ہے جہاں وہ بیٹھ جائے جبکہ بیوی فوراً لٹکے ہوئے کپڑوں کی طرف بڑھتی ہے اور انہیں غور سے، دیکھنے لگ جاتی ہے ۔کبھی وہ گھنٹوں دیکھتی رہے گی اور اسے تھکن محسوس نہ ہوگی بلکہ اس کے برعکس آپ دیکھیں گے کہ اسے آخری درجہ آرام اور راحت محسوس ہوگی۔
مشکل یہ ہے کہ بیوی شوہر کا انداز نہیں بجھتی ہے نہ ہی شوہر بیوی کے انداز فکر کو سمجھتا ہے۔ مرد عورت کا فرق انھیں ہمیشہ کی لڑائی میں باقی رکھے گا، بلکہ لمبے عرصہ تک وہ اسی طرح رہیں گے۔ ڈاکٹر الفرڈاڈلبر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دونوں کا آپسی اختلاف نہ ختم ہونے کی حد تک چلتا رہے گا۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ لڑائیاں، دوسری طرف سے وار ہونے کی صورت میں ذاتی دفاع اور کمزوری سے فائدہ اٹھانے میں بدل جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔’’وہی ہے جس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی بھی بنائی تا کہ وہ اس سے سکون حاصل کرے۔‘‘(سورہ الاعراف)
جولوگ خوشی اور راحت کو ڈھونڈرہے ہیں، انھیں میرا مشورہ ہے کہ وہ اپنے اور بیوی کے اختلافات کو بجھنے کی کوشش کریں اور اکثر عورتوں میں جومشترک فطرت ہوتی ہے، اس کے ساتھ سمجھوتہ کر لیں، یہ فطرت شروع ہوتی ہے غیرت، چاہت محبت ،نرم رویہ کی خواہش اور گرم جذبات سے اور ختم ہوتی ہے بلاوجہ رونے اور اپنی بات منوانے جیسی عورتوں کی خصوصی صفات پر۔ ہم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ اس مخلوق کواس کے خالق جل شانہ نے جس طرح بنایا اس کو بدلنے کی کوشش نہ کرے۔ان عادتوں میں جواس کی اصل فطرت سے ہٹ کر ہوں۔
اگر شوہر بدلنے ہی پر اصرار کرے گا تو لامحالہ بیوی کی طرف سے اس سے انکار اور سرکشی کا سامنا کرنا ہوگا۔
یہ صحیح ہے کہ ان اختلافات سے شدید نفسیاتی صدموں سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور بیوی کے لحاظ سے بار بار ایسے نازک مواقع پیش آ تے ہیں مگر عام طور پر شادی کے پہلے تین سال ایسا ہوتا ہے جس کے بعد بہت جلد دونوں ایک دوسرے سے مانوس ہو جاتے ہیں اور دونوں میں سے ہرایک دوسرے کی فطرت کا عادی ہو جاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اپنے آپ کو اسی میں ڈھال دے اور دوسرے کی نفسیات اور جذبات کا خیال رکھے۔
قاعدہ:وہ بنک جومحبت، جذبات اور لاڈ و پیار سے بھرا ہوا ہومحض کسی چھوٹے سے رویہ کی وجہ سے جو ازدواجی زندگی میں بہر حال پیش آتا ہے۔ نقصان نہیں اٹھائے گا، لیکن اتنا ضرور ہے کہ محبت کے خزانہ میں کچھ کمی ہو جائیگی۔

یہ بھی پڑھیں:  چھوٹے بچوں کی تربیت کیسے کی جائے؟