Quid a amaz Muhammad ali jinha

قائداعظم کے آخری ایام

EjazNews

13 اگست کی صبح کو قائد اعظم خوش و خرم نظر آتے تھے۔ پہلے کی نسبت بہتر نیند سوئے ، اگرچہ انہیں یہ احساس ضرور تھا کہ یہ نیند ایک تندرست شخص کی طرح نہیں تھی۔ معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ خون کا دباؤ کم ہوگیا ہے اور ورم پھر عود کر آیا ہے۔ اس سے دل فکرمند ہوا اور زیارت کی تکلیف دہ بلندی کو چھوڑنے کا ارادہ پختہ ہوگیا۔ دونوں ایڈی کانگ بڑی محنت سے تیاری کرتے رہے۔ پورے ساڑھے تین بجے ہم سفر کے لئے تیار تھے۔ احتیاط کی غرض سے اس سفر کو پوشیدہ رکھا گیا، میں نے اپنے اردلی کو بھی اس وقت تک نہیں بتایا جب تک ہم چلنے کے لئے بالکل تیار نہیں ہوگئے۔ تین بجے میں قائد اعظم کے کمرے میں گیا اور انہیں سفر کے قابل پایا۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ اپنا سونے کا پاجامہ نہ بدلیں لیکن وہ انتہائی نقاہت کے باوجود شلوار اور اچکن پہننے پر مصر تھے۔ کپڑے تبدیل کرنے کے بعد ایڈی کانگ حضرات اور دوسرے ملازم نہایت احتیاط سے انہیں اسٹریچر پر لٹا کر نیچے لائے۔ کھلے صحن میں آئے تو ان کے چہرے کی حالت زیادہ بہتر تھی اور وہ زیادہ علیل نہیں معلوم ہوتے تھے۔ ان کی موٹر کار کی پچھلی سیٹ کو بڑھا لیا گیا تھا تا کہ وہ قدرے چت لیٹ سکیں۔
میں خود اس سیٹ پر بیٹھا اور اسے کافی آرام دہ پایا۔ اس انتظام سے محترمہ فاطمہ جناح بھی مطمئن تھیں۔ تین بج کر پچیس منٹ پر انہیں پچھلی سیٹ پر لٹا دیا گیا۔ خوب اچھی طرح لیٹ گئے تو میں نے دریافت کیا۔’’کوئی تکلیف تو نہیں ‘‘۔ انہوں نے کچھ جواب نہ دیا اور کہا ، مجھے جلد کوئٹہ لے چلو ‘‘۔ محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھ گئیں۔ ان کے سامنے ایک خالی سیٹ پر نرس بیٹھی اور ایڈی کانگ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ گیا۔
میں نے ڈرائیور کو ہدایت کی کہ رفتار 20 میل فی گھنٹہ سے زیادہ نہ ہو۔ قائد اعظم کی موٹر کے آگے ایک پیش رو جیپ ، اس کے پیچھے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کی کار اور اس کے پیچھے ہماری کار تھی۔ موسم بہت خوش گوار تھا۔ سڑک کے دونوں جانب لوگ کھڑے خوشی کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ قائد اعظم کا یہ سفر پوشیدہ رکھا گیا تھا لیکن تعجب کی بات تھی کہ اس کے باوجود لوگ کثرت سے جمع ہو گئے تھے۔ ہمارا ارادہ پچیس میل کے بعد ٹھہرنے کا تھا لیکن ہم راستے میں کہیں نہ رکے ، یہاں تک کہ ریسٹ ہاؤس آپہنچے۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ قائد اعظم کو سفر میں کوئی خاص تکلیف نہیں ہوئی تھی – ریسٹ ہاؤس میں بھی کار ایک آدھ منٹ ہی ٹھہری اور پھر چل پڑی ، حالانکہ یہ چائے کا وقت تھا۔ ریسٹ ہاؤس کے صحن میں آدمی کھڑے تھے۔ میں نے خیال کیا شاید ان لوگوں کی موجودگی حائل ہوئی ہو گی۔ قائد اعظم نہیں چاہتے تھے کہ لوگ انہیں چائے پیتے ہوئے دیکھیں اور یہ بھی گوارا نہ تھا کہ وہ محض اپنے اطمینان کی خاطر لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیں۔
قائد اعظم سے ساڑھے آٹھ بجے صبح ملے ، رات کا کھانا انہوں نے اشتہا سے کھایا تھا اور آرام سے سوئے تھے۔ کھانسی نے تکلیف نہ دی تھی ، نبض با قاعدہ چل رہی تھی اور خون کا دباؤ قابل اطمینان تھا، بلغم بھی نہیں آیا تھا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر میں نے ان سے کہا ، ’’خدا کا شکرہے کہ ہم زیارت سے بخیریت تمام آ پہنچے۔ اس کمزوری کی حالت میں آپ کو سفر کی زحمت دینا خطرے سے خالی نہ تھا لیکن اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا۔ زیارت کی بلندی آپ کے لئے مضر تھی ، اسی لئے ابتدائی فائدے کے بعد صحت کی ترقی رک گئی۔ آپ کے پاؤں کے ورم سے ہمیں تردد تھا اور اگر آپ یہاں نہ آتے تو حالت شاید زیادہ خراب ہوجاتی ۔ وہ مسکرائے اور فرمایا ، ’’بہت اچھا کیا مجھے بھی یہاں لے آئے۔ زیارت میں مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے پنجرے میں بند ہوں ‘‘۔
زیارت کے متعلق ان کا بیان بالکل بجا تھا۔ وہ وہاں اس لئے گئے تھے کہ ایک پرفضا خوشگوار مقام میں رہ کر کھوئی ہوئی صحت کو دوبارہ حاصل کریں لیکن بدقسمتی سے جاتے ہی وہان بیمار پڑ گئے اور کمزور ہوتے چلے گئے۔ کوئٹہ کے سول سرجن کی زبانی معلوم ہوا کہ میرے کوئٹہ پہنچنے سے پہلے ان کی حالت بہت نازک ہو گئی تھی اور اسی لئے مس جناح کو مجھے لاہور سے بلوانے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ہم جب ان کے ہاں سے رخصت ہونے لگے تو مسکراتے ہوئےفرمایا ، جاؤ خوشیاں مناؤ ، خدا تمہیں یہ جشن مبارک کرے ! ‘‘
ہمارے لئے یہ دن واقعی خوشی کا دن تھا۔ اس سے پہلے زندگی میں خوشی کے کئی ایک لمحات آئے تھے لیکن 14اگست کی صبح کو جو مسرت نصیب ہوئی وہ کبھی حاصل نہیں ہوئی۔
زیارت میں میری اور ڈاکٹر شاہ کی حالت عجیب تھی۔ کئی راتیں اور دن تشویشناک عالم میں گذارے تھے۔ باوجود اس کے کہ قائد اعظم کا بخار اتر چکا تھا اور وہ روبصحت تھے ۔ہمیں لحظہ خطرہ محسوس ہوتا تھا جیسے
کوئی آتش فشاں پہاڑ کے دھانے پر بیٹھا ہو ۔ خیال کیجئے ایک بوڑھا بہتر سالہ ناتوان مریض ، پھیپھڑوں کی بیماری ، خون کا دباؤ کم ، لاغری اور نقاہت ، زیارت کا مقام ساڑھے آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر ، اور پھر مریض بھی وہ مریض جو آقائے مملکت اور بابائے ملت ہو۔ کتنا نازک مرحلہ تھا! کتنی بڑی ذمہ داری تھی !
کوئٹہ میں یوم آزادی بڑے طمطراق سے منایا گیا۔ جی چاہتا تھا کہ الگ تھلگ پڑا رہوں اس لئے دن بھر گھر پر گذارا – سہ پہر کے بعد چلتان ہوٹل میں اپنے پرانے دوست کرنل اے۔ بی۔ ایف شاہ سے ملنے گیا جو سرحدی علاقوں اور ریاستوں کی وزرات کے سیکرٹری تھے تا کہ ان سے قائداعظم کی بحالی صحت کا ذکر کروں – رو بصحت ہونے کی وجہ میرے نزدیک کوئٹہ کی کم بلندی تھی – تا ہم میں اور ڈاکٹرشاہ دونوں اس بارے میں متفق تھے کہ چند ہفتوں تک غالباً صحت مندی کی رفتار رک جائے گی اور ممکن ہے کہ ہمیں اور بھی نیچے کراچی جانا پڑے۔
16اگست کو ایکسرے لیا گیا اور خون کا معائنہ ہوا – ایکسرے کا نتیجہ تسلی بخش تھا – ایکس ریز کی تصویر سے پتہ چلتا تھا کہ اب حالت بہتر ہے۔ خون کے سرخ ذرات بیس فی صد بڑھ چکے تھے اور سفید ذرات کی مقدار گھٹ کر اصل حالت پر آ گئی تھی۔ خون کا غلیظ مواد50فیصد کم ہو گیا۔ شام کے وقت جب ہم نے قائد اعظم کو بتایا کہ ایکس ریز کی تصویر سے پتہ چلتا ہے کہ پھیپھڑے کی حالت چالیس فیصدی پہلے سے بہتر ہے تو انہوں نے دریافت کیا کہ سو فیصد بہتر ہونے تک کتنا عرصہ لگے گا۔ اس سوال سے ہم کچھ گھبرا سے گئے کیوں کہ ہمیں معلوم تھا کہ ان کا مکمل طور پر تندرست ہونا ممکن نہیں۔ اگر حالات موافق ہوئے تو ان کی بیماری کو دو تین سال تک بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے ، لیکن ہمیں یقین تھا کہ وہ سفر کر کے سرد مقامات پر جانے کے قابل نہ ہو سکیں گے اور دائم المرض ہو کر رہ جائیں گے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ وہ بعض ضروری تقریبوں میں شریک ہو سکیں لیکن بیشتر وقت وہ صاحب فراش ہی رہیں گے۔ اصل صورت تو یہ تھی مگر ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے ہم نے انہیں بتایا کہ اگر آپ کی حالت میں اسی طرح سے اصلاح ہوتی رہی تو بہت ممکن ہے کہ آپ چند فتوں میں مکمل طور پر صحتیاب ہوجا ئیں۔ ان کا رو بصحت ہونا بھی معجزے سے کم نہ تھا اور زندگی میں معجزے کبھی کبھی ہو ہی جایا کرتے ہیں۔
29اگست کی صبح کو قائد اعظم کا معائنہ کرنے کے بعد میں نے یہ امید ظاہر کی کہ جس ریاست کو آپ وجود میں لائیں اسے پوری طرح مستحکم و استوار کرنے کے لئے ابھی دیر تک زندہ رہیں گے۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ آیا تھا کہ میرے جذبات سے وہ اور محزون ہوں گے۔ ان کے یہ لفظ اور ان کا افسردہ اور یاس انگیز لہجہ میں کبھی نہیں بھول سکتا ، ’’ آپ کو معلوم ہے کہ جب آپ پہلی بار زیارت پہنچے تو میں زندہ رہنا چاتا تھا لیکن اب میرا مرنا جینا برابر ہے ‘‘۔
یہ الفاظ زبان سے نکالتے وقت وہ آنکھوں میں آنسو بھر لائے۔ ایک ایسے شخص کو آبدیدہ د یکھ کر جسے جذبات سے یکسر عاری اور فولاد کی طرح سخت سمجھا جاتا تھا میں دنگ رہ گیا۔ اس وقت وہ ہر لحاظ سے رو بصحت تھے ، اس لئے ان کی بیجا پژمردگی سے مجھے اور بھی حیرت ہوئی ۔ وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ’’ میں اپنا کام پورا کر چکا ہوں ‘‘۔ لیکن اس جواب سے میری الجھن اور بڑھ گئی اور خیال ہوا کہ وہ اصل بات کو پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اور جو وجہ انہوں نے بیان کی ہے وہ یوں ہی ٹالنے کے لئے ہے – رہ رہ کر سوچتا تھا کہ کیا آج سے پانچ ہفتے پہلے ان کا کام نامکمل تھا اور اب یکایک پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا۔ میں یہ محسوس کئے بغیر نہ رہ سکاکہ کوئی بات ضرور ہے جس نے ان کی جینے کی آرزو مٹا دی۔ کمزوری کے عالم میں انہوں نے اپنے اندرونی کرب کی ایک جھلک دکھائی مگر فورا ًاپنی طبیعت پر قابو پالیا اور یہ گوارانہ کیا کہ ہوا کہ کوئی ان کے زخم کو کریدے۔
جب ان کے انتقال کے دو دن بعد اور اس واقعہ کے پندرہ دن بعد میں نے مس جناح سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے بڑی حیرت سے پوچھا کہ مجھے پہلے کیوں نہ بتا یا۔ میں نے جواب دیا کہ اس وقت ذکر کرتا تو آپ کو زیادہ صدمہ ہوتا۔
اس روز میں قائد اعظم سے رخصت ہوا تو دل پر ایک بوجھ سا تھا۔ ان کے الم ناک الفاظ نے اور جس شدت احساس کے ساتھ وہ کہے گئے تھے مجھے سخت تشویش میں ڈال دیا۔ میں خوب جانتا تھا کہ ان کی طرح کوئی اور شخص ہوتا جس میں اتنی زبردست قوت ارادی نہ ہوتی تو کب کا اس موذی مرض کا شکار ہو چکا ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی غیر قانونی تعمیرات کس کا کیا موقف ہے

لیفٹیننٹ کرنل الٰہی بخش کی کتاب ’’قائداعظم کے آخری ایام‘‘ سے