Opertation

بلا ضرورت آپریشنز،بھاری فیسیں ہیں ،اپنی صحت کا خیال رکھیں

EjazNews

آکسفورڈ یونیورسٹی ہسپتال کے سرجن اینڈر کار کے مطابق دنیا بھر میں بہت سے آپریشن غیر ضروری طور پر کیے جارہے ہیں۔ آپریشنوں کے لیے ضروری ٹیسٹوں کو مکمل کیے بغیر مریضوں کو آپریشن تھیٹر میں بھیج دیا جاتا ہے۔ پروفیسر اینڈرکار کا شمار دنیا کے معروف آرتھو پیڈک سرجنز میں ہوتا ہے ،ان کی بات میں کافی وزن ہے۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ آدمی ناک دکھانے جاتا ہے تو بعض ڈاکٹر اسے دل کے آپریشن میں اسے وہی لیٹا لیتے ہیں۔ اور ایسا منظر پیش کرتے ہیں کہ چند گھنٹوں میں آپریشن نہ ہوا تو ناک کے مرض میں مبتلا شخص دل کے مرض سے مر جائے گا ۔بعض ہسپتالوں کے بارے میں یہ شکایات عام ہیں کچھ تو آپریشن کرتے ہی نہیں ۔ بھاری فیسیں ایک چیرہ لگانے کے بعد وصول کر لی جاتی ہیں ،ایسا پروفیسر اینڈرکے مطابق دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ تاہم پروفیسر اینڈر نے اس غیر ضروری سرجری کے بارے میں بتایا کہ یہ ہر شعبے میں نہیں ہے۔ کچھ شعبوں میں اس کی سرجری بہت زیادہ ہے اور کچھ شعبے ایسے ہیں جو کسی بھی آپریشن سے پہلے ہر طرح کے ٹیسٹ کر لینے چاہیے ۔ایکسرے ،ای سی جی اور خون کے مختلف ٹیسٹ، یورین ٹیسٹ ، بعض قسم کی سرجری کے نام پر مریض کو لیٹا لینا ٹھیک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مثا ل کے طور پر آرتھریڈک میں گھٹنوں کی سرجری ، ریڑھ میں سیمنٹ انجکشن برائے ورٹیبرا فریکچر اور موٹاپے کے حوالے سے بھی بعض اینڈو می ٹی اور سرجریاں بھی غیر ضروری طور پر کی جارہی ہیں۔ ڈاکٹروں کو پہلے ٹرائل کرنا چاہیے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ مریض دوا دارو سے ٹھیک ہوتا ہے یا نہیں۔ بقول پروفیسر اینڈر کار ہر سال لاکھوں آپریشن بلا جواز کر دئیے جاتے ہیں۔ بسا اوقات تو درد خاتمے کے لیے بھی سرجری کا مشورہ دے دیا جاتا ہے۔ مثلا اکڑاﺅ کی صورت میں بعض سرجن آپریشن تھیٹر کی رونق بڑھا دیتے ہیں، انہوں نے اسے ون منٹ سجیشن قرار دیا۔ گردوں کی ٹرانسپلیٹیشن میں بھی بسا اوقات احتیاط نہیں برتی جاتی۔
اس سے ملتا جلتا بیان ایک اور پروفیسر ٹریسی نے دیا ہے۔ ان کا تعلق بھی آکسفورڈ یونیورسٹی کے انسٹیزیا کے شعبے سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تمام درد انسانی دماغ میں ہے۔ یعنی درد کی شدت کا احساس انسانی ذہن پر ہوتا ہے۔ شولڈر سرجری یعنی کندھے کی سرجری کے حوالے سے ڈاکٹر ٹریسی نے کئی صورتوں میں غیر ضروری قرار دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ بہت سی ادویات بہت سے امراض کا خاتمہ کر کے سرجری کی ضرورت یا نوبت نہیں آنے دیتے۔ ان کے بقول درد کی صورت میں اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے۔ اور اس کے نفسیاتی اثرات کے طور پر درد کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور اسی لیے جدید زمانے میں ڈاکٹروں کا مریض سے کم سے کم تعلق پر بھی کام ہو رہا ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ ہم مریض اور ڈاکٹر میں تعلق کو کم کر کے مریض کو صحت یاب ہونے کاتاثر دے سکتے ہیں لیکن ہوتا اس کے الٹ رہا ہے۔ ہر جگہ ہر شخص کسی نہ کسی پروفیسر کی تلاش میں ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ میں شولڈر سرجری جسے ایکرو میو پلاسٹی بھی کہا جاتا ہے کے سالانہ 10ہزار آپریشن کیے جاتے ہیں، ان میں سے کافی غیر ضروری ہیں۔ ہمارے ہاں بھی مریضوں اور ڈ اکٹروں کو اس بارے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے اگرچہ سارے ڈاکٹر ایسا نہیں کرتے ایک بہت محدود سی تعداد ہے جو ہر مریض سے کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کے چکر میں رہتی ہے۔ مریضوں کو ایسے ڈاکٹروں یا عطائیوں سے بچ کر ہی رہنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  دمہ کے عالمی دن پر خصوصی تحریر
کیٹاگری میں : صحت