after Marriage

بیوی کا حق شوہر پر

EjazNews

مذکورہ بالا بیان سے معلوم ہو گیا کہ عورتوں پر مردوں کا بہت بڑا حق ہے تو عورتوں کا بھی کچھ حق مردوں پر ہے یا نہیں؟
ہاں عورتوں کا مردوں پر بھی بہت زیادہ حق ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اور جیسے مردوں کا حق عورتوں پر ہے اسی طرح دستور کے موافق عورتوں کا حق مردوں پر ہے۔ “ (البقرہ)
البتہ مردوں کو عورتوں پر فوقیت ہے یہ فوقیت اس لئے دی گئی ہے کہ وہ عورتوں کی نگرانی کریں اوران کے نان و نفقہ اور دیگر ضروریات کے متکفل ہوں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” مرد عورتوں کے نگران ہیں اس سبب سے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے اور اس لئے کہ انہوں نے مال خرچ کیا ہے لہٰذا مرد کے فرائض میں سے یہ ہے کہ وہ بی بی کے مہر کو ادا کرے اور بی بی کا ہرقسم کا خرچ برداشت کرے ۔ کھانا کپڑا دے ۔ “ (النسائ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے مشہور خطبہ میں فرمایا: ”لوگو! تم میری نصیحت عورتوں کے بارے میں قبول کرو۔ “(بخاری)
یہ تمہارے ہاتھوں میں قیدی ہیں تم اس کے سوا اور کسی بات کا حق نہیں رکھتے مگر یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کا کام کریں۔ اگر ایسا کریں تو ان کو خواب گاہ میں اپنے سے علیحدہ کر دو اوران کو ہلکی مار مارو اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر ان پر الزام لگانے کے پہلو نہ ڈھونڈو۔
”بے شک تمہارا عورتوں پر اور عورتوں کا تم پر حق ہے۔“ (ابن ماجہ)
تمہارا حق تمہاری عورتوں پر یہ ہے کہ تمہارے بسترکو دوسروں سے پامال نہ کرائیں جن کو تم پسند نہیں کرتے اور نہ تمہارے گھروں میں ان کو آنے کی اجازت دیں جن کو تم پسند نہیں کرتے۔
”اور ہاں ان عورتوں کا تم پر یہ حق ہے کہ ان کے پہنانے اور کھلانے میں نیکی کرو۔ “ (ابن ماجہ)
حضرت حیکم بن معاویہ قشیری ؓ اپنے باپ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا
”یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )بیوی کا حق شوہر پر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا جو خود کھاﺅ وہ اس کو بھی کھلاﺅ جو خود پہنو وہ اس کو بھی پہناﺅ ۔ اس کے منہ پر تھپڑ نہ مارو اور نہ اس کو برا بھلا کہو اور نہ گھر کے علاوہ اس کی سزا کے لئے علیحدہ کرو۔ “ (ابوداﺅ۔ ابن ماجہ)
اگر خاوند پورا نان و نفقہ نہیں دیتا تو خاوند کے مال سے بغیر اس کی اجازت کے بقدر اپنی ضرورت کے لے سکتی ہے۔ ندہ بنت عتبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عر ض کیا کہ میرا شوہر بخیل ہے۔ مجھے اور بال بچوں کا پورا خرچ نہیں دیتا مگر یہ کہ جب اس کی بے خبری میں لے لوں تو آپ نے فرمایا:
”تم دستور کے مطابق اپنے لئے اور اپنےبال بچوں کے لئے لے سکتی ہو۔ “ (بخاری)
خاوند کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ بیوی کے رہنے سہنے کے لئے مکان بھی دے ۔ قرآن مجید میں مطلقہ عورتوں کے سلسلہ میں آیا ہے۔ ”جن مکانوں میں تم رہتے ہو ان ہی مکانوں میں ان کو بھی رکھو ان پر سختی کے لئے ایذا مت دو۔ “ (الطلاق)
شوہر کے ذمہ یہ بھی ضروری ہے کہ بلا وجہ نہ ستائے نہ مارے پیٹے۔ آپ نےفرمایا جو بلاوجہ عورتوں کو مارتے ہیں وہ اچھے نہیں ہیں۔ (ابوداﺅد، ابن ماجہ)
اگر بیوی سے رغبت نہیں ہے تو ضرر وجور و تعدی سے روکے رکھنا بھی اچھا نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”اور عورتوں کو ستانے اور زیادتی کے لئے نہ روکو اور جو ایسا کرے گا وہ اپنے اوپر ظلم کرے گا۔ “
بیوی کے حقوق کو پورا پورا ادا کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح کی شرطوں کے پورا کرنے کا سب سے زیادہ خیال رکھو پورا مہر ادا کرو۔ “(بخاری
نان و نفقہ دو، رہنے سہنے کا مکان دو، جو خاوند عورتوں کو خوش رکھتے ہیں اوران کے ساتھ اچھا برتاوا رکھتے ہیں وہ بہت اچھے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی بیویوں کے لئے سب سے بہتر ہو۔ “(ترمذی)
ایک صحابی بڑے نیک تھے لیکن ذرا اپنی بیوی کی طرف کم توجہ کرتے تھے۔ یہ حال سن کر آپ نے فرمایا: ”تمہاری بیوی کا حق تم پر ہے۔“(بخاری)
عورتوں میں یہ ضد اور ہٹ بہت ہوتی ہے ۔ بعض مرد یہ چاہتے ہیں کہ سختی سے ان کی ضد کو دورکردیں مگر دور نہیں کر پاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت عمدہ تشبیہہ دے کر ان کو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ عورتوں کے ساتھ نیکی کا برتاﺅا کرو کیونکہ ان کی پیدائش ٹیڑھی ہڈی سے ہوئی ہے۔ جس طرح تم اس کے اس ٹیڑھے پن سے کام لے سکو تو لے سکتے ہو اس کے سیدھا کرنے کی فکر مت کرو ۔ ورنہ تم اس کو توڑ دو گے۔ “ (بخاری)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”تم عورتوں کے ساتھ نہایت خوش اسلوبی سے زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں پسند نہیں ہیں تو ممکن ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نہ آئے اور خدا نے اس میں بڑی خوبی رکھی ہو۔ “(النساء)
حدیث میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا اشارہ بھی اسی طرف ہے۔ ”مومن مرد مومنہ عورت سے دشمنی نہ رکھے اگر وہ اس کی ایک عادت سے ناخوش ہے تو دوسری عادت سے خوش ہوگا۔ “ (مسلم)
اگر بیوی نافرمان ہے اور بغیر خاوند کی اجازت کے باہر چلی جاتی ہے اور بد زبانی کرتی ہے بد اخلاقی سے پیش آتی ہے تو پہلے اس کو نصیحت کرے، سمجھائے، اگر اس سے باز نہ آئے تو کچھ دنوں تک نشست و برخاست چھوڑ دے، اگر اس سے بھی باز نہ آئے تو ایک معمولی مار مار دے تو جائز ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اور جن عورتوں کے نشوز کا تم کو ڈر ہو تو ان کو سمجھاﺅاور خواب گاہ میں ان سے الگ ہو جاﺅ اوران کو مارو ، اگر وہ تمہانا مان لیں تو ان پر راہ مت تلاش کرو۔ “ (النساء)
نشوز کے بغوی معنی اٹھا جانے کے ہیں اور اصطلاحی معنی کی بابت امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ نشوز کا مطلب یہ ہے کہ گھر سے باہر آتی جاتی ہیں اور ادھر ادھر تاک جھانک کرتی ہیں تو پہلے ان کو سمجھاﺅ اگر سمجھانے سے باز نہیں آتی ہیں مارو۔ بہر حال بلاو جہ ستانا مارنا حرام ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی عورتوں کو غلام کی طرح مت مارو۔ آخر دن (یعنی رات) میں تم ان سے ملو گے اور تم کو اس سے ضرورت پڑے گی۔ “ (بخاری)
ان کی زیادتی پر صبرکرو۔ حتیٰ الامکان ان کو خوش رکھو اور ہر ممکن طریقے سے دل جوئی کرتے رہو اور غیرت میں بھی اعتدال رکھو اور بد گمانی سے بچتے رہو۔ ان کو پردہ میں رکھو باہر بے پردہ نہ جانے دو۔ اگر مسجد میں نمازپڑھنے کی اجازت مانگے تو اجازت دے دو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”اللہ کی باندیوں کو مسجدوں میں آنے سے مت روکو۔ “(ابوداﺅد)
اور اگر متعدد بیبیاں ہیں ان میں اعتدال رکھو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس دو عورتیں ہوں اور وہ ان کے درمیان انصاف نہیں کرتاتوقیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ گرا ہوا ہوگا۔ “ (ترمذی ، ابوداﺅد)
یہ سزا دو ہی عورتوں کے ساتھ بے انصافی پر منحصر نہیں ہے تین اور چار کی ہونے میں بھی بے انصافی کی وجہ سے یہ سزا ملے گی اور اگر ایک ہی ہے اور اس کے پورے پورے حق کو نہیں ادا کرتا تب بھی گرفتار ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اور تم عورتوں کے درمیان پوراانصاف نہیں کر سکتے۔ اگر چہ تم اس کے حریص ہو لہٰذا بالکل ایک ہی طرف مت جھکو کہ دوسر ی بیچ میں لٹکی رہے اورت م ملاپ کرلو اور خدا سے ڈرتے رہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے درمیان عدل کرتے تھے اور باری مقرر فرما کر ہر ایک کا حق پوراکرتے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ اپنی بیویوں کے درمیان باری کی رعایت کرتے اور نوبت میں انصاف فرماتے ذرا سی کمی بیشی نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود بھی فرماتے اے اللہ جس قدر میری طاقت تھی میں نےبیویوں کے درمیان برابر کی تقسیم کی ہے اور جو میرے قبضہ میں نہیں ہے تو اس کا مالک ہے۔ اس میں میری پکڑ نہ کرنا۔ (ابوداﺅ، ترمذی، نسائی)
یعنی اگر محبت میں کمی بیشی ہو جائے تو میری گرفت نہ کیجئے کیونکہ بشر ہونے کی حیثیت سے اس کا امکان ہے۔ اگر کوئی پہلی بیوی کی موجودگی میں کسی کنواری سے نکاح کر لے تو اس کنواری کےپاس سات دن رہ کر پھر باری مقرر کرے اور اگر بیوی نکاح میں لایا ہے تو تین دن اس کے پاس رہ کر باری مقرر کرے۔ (بخاری، مسلم)
اگر کوئی بیوی خوشی سے اپنی باری معاف کر دے اور اپنے حق کو چھوڑ دے تو باقی کے پاس رہنے میں کوئی مضائقہ ہے۔ حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ جس بیماری میں آپ کا انتقال پر ملال واقع ہوا ہے اس بیماری میں بھی آپ ہر ایک بیوی کے یہاں باری پر تشریف لے جاتے اور دریافت فرماتے رہتے ابن افا غدا میں کل کہاں رہوں گا۔ جس سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ عائشہ کی باری کب آئے گی۔ کیونکہ بہ نسبت اور ازدواج مطہرات کے عائشہ سے زیادہ محبت تھی۔ بیویاں سمجھ گئیں کہ این انا غدا میں کل کہاں ہوں گا۔ اس سے یہی مطلب ہے۔ لہٰذا آپ کو عائشہ کے پاس رہنے کی اجازت دے دی جائے۔ تاکہ آپ کو آنے جانے کی تکلیف نہ ہو۔ چنانچہ ازواج مطہرات کی اجازت مل جانے پر عائشہ ؓ کے حجرے میں وفات تک قیام پذیر رہے۔ (بخاری)۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضر صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک نو بیویاں تھیں۔ (بخاری)
حضرت حفصہؓ، حضرت ام حبیبہؓ، حضرت سودہؓ، حضرت ام سلمہؓ، حضرت صفیہؓ، حضرت میمونہؓ ، حضرت زینبؓ، حضرت جویریہؓ، حضرت عائشہؓ
ان میں سے آٹھ کے لئے نوبت اور باری کی تقسیم تھی مگر حضرت سودہ ؓ بخوشی اپنے حق کو حضرت عائشہ ؓ کو بخش دیا تھا۔ اس لئے ان کی باری ساقط ہو گئی تھی کبھی سفر کرنے کا ارادہ کرتے تو ۹میں سے جس کے نام کا قرعہ نکلتا ان کو اپنے ہمراہ سفر میں لے جاتے ۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے نام پر قرعہ ڈالتے قرعہ میں جس کا نام نکلتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔ (بخاری)
بیوی کے بعض جذبات کابھی لحاظ رکھنا چاہئے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں اوائل عمر میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ گڑیا کھیلا کرتی تھی جب آپ اچانک گھر میں تشریف لے آتے تو سہیلیاں شرم کی وجہ سے پردے میں چھپ جاتیں۔ آپ میری دلجوئی کے واسطے ان سہیلیوں کو میرے پاس بھیج دیتے۔ پھر ان گڑیوں کے کھیل میں مشغول ہو جاتیں۔ (بخاری)
اور فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حبشی مجاہدین کی نیزہ بازی کو مجھے دیر تک پردہ کر کے دکھایا۔ (بخاری ، مسلم)
اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جائز کاموں میں عورتوں کی دلداری، دلجوئی اور پاسداری کرنی چاہئے اوران کے مباح مطالبات اور ضروری آرزﺅں کو پورا کرنا چاہئے اوران سے ہنسی مذاق کرنا اور خوش خلقی سے پیش آنا چاہئے اور گھر کے بعض کاموں میں بیوی کے ساتھ مدد دینا بھی سنت ہے۔
جو شخص میاں بیوی کے درمیان نا اتفاقی ڈالے اور ڈلوائے وہ پورا مسلمان نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میاں بیوی اور غلام و آقا کے درمیان پھوٹ ڈالے وہ ہمارے طریقے پر نہیں ہے۔“ (ابوداﺅد)
اگر کوئی اپنی بیوی کو مارے تو دوسرے کو پچھنے کا حق نہیں ہے۔ (ابن ماجہ)یا قیامت میں اس کی باز پرس نہیں ہے جب کہ حق پر مارے گا۔ زبان دراز بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔(ابوداﺅد)
بیوی بچوں کے کھلانے پلانے میں اگر ثواب کی نیت کرے تو بہت بڑا ثواب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو مال اپنی بیوی بچوں پر خرچ ہو اس میں زیادہ ثواب ہے، پھر اس سے کم ثواب اس مال میں ہے جوفی سبیل اللہ خرچ و، پھر اس سے کم ثواب اس مال میں جو اپنے دوستوں کے لئے فی سبیل اللہ خرچ ہو۔ (مسلم)
بیوی کو ثواب کی نیت سے کھلانے میں صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔(بخاری)
قیامت کے دن جب سب عملوں کا وزن کیاجائے گا تو سب سے پہلے وہ خرچ لایا جائے گا جو اس نے اپنے بال بچوں پر خرچ کیا ہے۔ (الطبرانی)
وہ گنا کافی ہے کہ جس کا نان نفقہ اس پر فرض ہے اس کو نہ ادا کرے۔ (مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی حیثیت کے مطابق بیوی بچوں پر خرچ کرو اور ادب کی لاٹھی ان سے نہ اٹھاﺅ اور اللہ کے بارے میں ان کو ڈراتے دھمکاتے رہو۔(احمد)

یہ بھی پڑھیں:  آداب مباشرت

نفقہ کا بیان
نفقہ کسے کہتے اور کن کن لوگوں کا نفقہ کس کس پر فرض ہے؟
نفقہ کے معنی خرچ کے ہیں اور جو چیز بال بچوں پر خرچ کی جائے جیسے کھانا کپڑا اور رہنے کے لئے مکان وغیرہ کا دینا خاوند پر فرض ہے زوجیت قرابت اور مالک ہونے کے اعتبار سے نفقہ واجب ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اورجو اپنی اولاد کو پورے دوسال کی مدت تک دودھ پلانا چاہتا ہے تو مائیں دو سال تک دودھ پلائیں اوربچے کے باپ پر دستور کے موافق دودھ پلانے والی عورتوں کو کھانا کپڑا دینا واجب ہے۔“(البقرہ)
اور فرمایا:”مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق خرچ کرے جس کی روزی تنگ ہے تو جتنا خدا نے اس کو دیا ہے اسی کے موافق خرچ کرے خدا نے جتنا دیا ہے اتنی ہی تکلیف دیتاہے۔“(الطلاق)
خاوند اور باپ کے ذمہ بیوی اور بچوں کو خرچ دینا اپنی حیثیت کے مطابق فرض ہے بیوی بچوں کو پورا خرچ نہ دینا اور ان کو کھانے پینے میں تکلیف دینا سخت گناہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس کی روزی اور نان نفقہ کسی کے ذمہ ہو اور ان کی روزی روک لے تو یہی گناہ اس کے لئے کافی ہے۔“(مسلم)

یہ بھی پڑھیں:  طلاق کا بیان ۔(۲)