divorce

ازدواجی مشکلات کی شکلیں

EjazNews

شادی صرف اس نکاح نامہ کا نام نہیں ہے جو کاغذ پرلکھ دیا جائے بلکہ وہ دوطرفہ ذمہ داری کا نام ہے جس میں دونوں میں سے ہر ایک کو اپنا فائدہ ملتا ہے۔ شادی صرف مادی چیز بھی نہیں ہے جو ہمیں محض اس طورپر جائے کہ ہم بڑے ہوجائیں بلکہ یہ ایک ایسا مقدس رشتہ ہے اور جس بلند مقصد کو ہم حاصل کرنا چاہتے تھے اس تک پہنچنے کا اہم وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ اگر آپ اکثر لوگوں سے شادی کے بارے میں سوال کریں تووہ بڑے اختصار سے کہیں گے کہ لڑکے اور لڑکی کا ایک دوسرے کومنگنی کی انگوٹھی پہنانے کا نام ہے اور یہ کہ قاضی اور دو گواہوں کی موجودگی میں ان دونوں کے میاں بیوی کہلانے کا اقرار اور کسی اچھے ہوٹل میں عمدہ سا کھانا کھلا دینا جہاں سب کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے منسلک ہو چکے ہیں، مگر تعریف صحیح نہیں ہے ۔شادی ایک انتہائی بلند مقام انسانی کردار ہے ۔وہ اگلی زندگی کا نشان ہے ،اس کا اثر ہر اعتبار سے ہماری زندگی ،ہمارے کردار اور ہماری طبیعتوں پر پڑتا ہے۔ حقیقی شادی دوسرے فریق کی روح کو چھو لینے کا نام ہے۔ جس کے ساتھ ہم بندھ چکے ہیں، اور جس کے ساتھ ہمیں زندگی گزارنی ہے، لیکن اس راہ میں کچھ منحوس لمحات ،چھپی ہوئی طاقت سے پیش آئیں گے ،جس کی وجہ سے کسی حد تک ذہنی پریشانی اور اپنے فرضوں کی ادائیگی میں دشواری پیش آئیگی اور اپنی منزل مقصود تک پہنچنا مشکل ہوجائے گا۔ اس طاقت کی بنیادی طور پر چار قسمیں ہیں جو ہماری غفلت اور ازدواجی زندگی کے مسائل سے مشغول ہونے کی وجہ سے ہمیں محسوس ہوے بغیر ہمیں گھیر لیتی ہیں۔ اور قبل اس کے کہ ہم اس کے سیلاب کو روکیں وہ ہمارے اندر تک سرایت کر جاتی ہے۔ اب یہ ہماری خوشی کونگل لیتی ہے ۔ہمارے چین وسکون کو چرا لیتی ہے اور ہم کو حقیقی خطرہ سے دوچار کر دیتا ہے اس کی سب سے زیادہ نمایاں شکلیں یہ ہیں۔
وقفہ وقفہ کی مشکلات:
یہ ان حالات کے اعتبار سے جنم لیتی ہیں جو کسی خاندان کو پیش آتے ہیں اور مدو جزر کی طرح ختم ہوجاتی ہیں۔ اس طرح اپنے پیش آنے کے تھوڑے سے وقفہ کے بعد ختم ہوجاتی ہیں۔ ان مشکلات کو روز مرہ کی مشکلات کہا جاسکتا ہے۔
ہمیشہ کی پریشانیاں:
یہ پریشانیاں شادی کی ابتدا سے شروع ہوتی ہیں اور لمبے عرصہ تک جیسے کہ ہمیشہ کی پریشانیاں ہیں، چلتی رہتی ہیں۔ یہ ختم نہیں ہو پاتی ہیں بلکہ آپسی تعلق ہروقت کھنچا ہوار ہتا ہے۔ اس طرح کہ میاں بیوی کی زندگی پر غالب رہتا ہے۔
ظاہری پریشانیاں:
یہ وہ پریشانیاں ہیں جن کو دوسرے محسوس کرنے لگتے ہیں اور اس کے منفی اثرات کو ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ خصوصاً اہل واقارب اسکے اثرات بہت واضح اور صاف نظر آتے ہیں، جیسے گھریلو تا وغیرہ۔
چھپی ہوئی پریشانیاں:
یہ پریشانیاں میاں بیوی میں سے کسی ایک کے اندر پیدا ہوتی ہیں جن کا احساس دوسرے کو نہیں ہوتا ۔میاں بیوی کی پریشانیوں میں یہ سب سے زیادہ خطرناک اور سخت ہوتی ہیں۔ کیوں کہ وہ کسی بھی لمحہ ابل سکتی ہیں اور اس سے زیادہ خطرناک مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔ انہیں اندرونی عناد کہا جاتا ہے۔
گھریلو پریشانیوں کے راستے :
میاں بیوی کے درمیان پریشانیوں کی زیادتی گھریلو اتحاد کے ٹوٹنے اور اس خاندان کے افراد کے درمیان محبت تعلق کی کڑیوں کے ٹوٹنے کی خبر دیتی ہے۔ خاص طور پر جب ایک عضو یا اس سے زیادہ گھریلوذمہ داریوں کے ادا کرنے میں ناکام ہوجائے۔ ایک ماہر مسٹرولیم کودی نے خاندانی بر بادی کے اہم اسباب کو اس طرح بیان کیا ہے۔
میاں بیوی کی علیحدگی کے سبب خاندان کا بکھر جانا جیسے طلاق ہو جانا یا جب شوہر اپنی بیوی کے ساتھ نہ رہے یا شوہر اپنے کاموں میں زیادہ مشغول ہو جائے اور اس وجہ سے سارا دن گھر سے دور رہے اور آدھی رات تک گھر واپس نہ آئے۔
بناوٹی تعلقات سے بنا ہوا خاندان۔ لیکن بظاہر میاں بیوی ایک چھت کے نیچے ساتھ رہتے ہوں لیکن ان کے تعلقات انتہائی معمولی ہوں ۔اسی طرح ان کا ایک دوسرے سے تعلق رکھنا تقریبا ًختم ہو چکا ہو اور دکھاوے کے لیے ملتے ہوں یا ان میں سے ہر ایک اپنی ضرورت یا اپنی بات بچوں کے ذر یہ معلوم کرائے اور پہنچائے۔
کبھی کبھی کوئی خارجی پریشانی جو کسی خاندان میں پیش آتی ہے ان دونوں کے در میان مشکلات کو بڑھادیتی ہے۔ خارجی پریشانی سے مراد شوہر کا کسی خارجی ضرورت کی وجہ سے اضطراری سفر ہے یا اس کا جیل جانا یا اس طرح کا کوئی اور واقعہ مثلاً زلزلہ آ جانا، آتش فشاں کا پھٹ پڑنا یا سیلاب آنا وغیرہ، یہاں تک کہ خاندان کے کسی فرد کا کسی حادثے کا شکار ہونا یا بیمار ہو جانا جیسے دادا، چچا، یا خاندان کا کوئی بزرگ۔
داخلی مشکلات جن سے نئی مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔ مثلاً نفسیاتی یا عقلی بیماریاں جیسے کم عقلی یا بچوں میں سے کسی کو خطرناک مرض لگ جانا یا میاں بیوی میں سے کسی کو خطرناک بیماری لگ جانا جس کا علاج مشکل ہو۔
از دواجی مشکلات کے دوسرے اسباب :
معاشرہ کی موجودہ تبد یلی یعنی معاشرہ میں عورت کے کردار اور شانہ بشانہ آنے کی خواہش، عورت کا معاشی اور معاشرتی طور مستقل ہوجانے کا رجحان :
بعض ماہرین نے غور وفکر کے بعد یہ اشارہ دیا ہے کہ جن معاشروں میں عورتوں کا مطالبہ مرد سے علیحدہ ہوکر مستقل ہوجانے کا بڑھ گیا ہے، وہاں کی مشکلات زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ برطانیہ کی نیوکاسل یو نیورسٹی کے نفسیاتی رہنمائی کے اساتذہ نے اپنے ایک تجزیہ میں یہ ثابت کیا ہے جب عورت شوہر کے مقابلہ میں معاشی طور پر مستقل ہوجاتی ہے اور اس کو معاشی مسائل کوحل کرنے کے ذرائع حاصل ہو جاتے ہیں تو پھر طلاق سے اس کا کوئی بڑا معاشی نقصان نہیں ہوتا۔
ازدواجی تعلقات پر معاشی اسباب کا اثر:
جب جب خوشحالی اور مادی و معاشی معیار بلند ہوگا تب تب طلاق، علیحدگی اور اخلاقی خیانت وغیرہ کے واقعات زیادہ پیش آئیں گے۔ ہار فاد یونیورسٹی کے خاندانی حالات کے ماہرین نے اپنے تجزیے سے یہ ثابت کیا ہے کہ میاں بیوی کے اختلافات دیہاتوں اور چھوٹے شہروں کی بانسبت شہروں اور شہری زندگی کے علاقوں میں زیادہ ہوتے ہیں، کیوں کہ دیہاتوں میں بعض عادتیں اور رسم ورواج، از دواجی مشکلات پر حاوی ہو جاتے ہیں چناچہ قبیلہ کا اور وہاں کے سردار خصوصی معاملات میں دخل انداز ہوتے ہیں اور اپنی اولاد کو کورٹ تک جانے کی اجازت نہیں دیتے بلکہ ان پریشانیوں کاحل خاندانی طور پر پیار ومحبت وصلح کی مجلسوں میں کیا جاتا ہے، لیکن شہروں اور راجدھانیوں کا اپنا خصوصی انداز ہوتا ہے جہاں نفسیاتی دباو¿ اور بڑھتی ہوئی معاشی ضرورتیں پریشانیوں اور خاندانی جوڑ توڑ کوزیادہ بڑھادیتی ہیں۔
ازدوارجی زندگی کی مختصر مدت:
شوہر اور بیوی جس قدر زیادہ مدت تک ساتھ رہیں گے مشکلات اسی قدرہوں گی اور ایک دوسرے کو سمجھنا اور برداشت کرنا زیادہ ہوتا جائے گا۔ اور جب جب شادی کی مدت دونوں میں کم ہوگی مشکلات بڑھیں گی اور طلاق کے واقعات زیادہ پیش آئیں گے آخری تعدادنے رائے شماری کی اس پختگی کو ظاہر کیا ہے کہ جب جب شادی پر سال گزرتے ہیں، طلاق کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں، چنانچہ 37فیصد طلاق کے حالات ، شادی کے پہلے چار سال گزرنے پر پیش آئے۔
وہ طریقہ جس کی بنیاد پر شادی کی گئی لیکن ایک دوسرے کو پسند کرنا اور وہ معیارجن کی بنیاد پر شادی کی گئی:
مصر کے قومی مرکز نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ88فیصد شادیاں جوسطحی جذبات کی بنیاد پر ہوئی تھیں طلاق پرختم ہوئیں۔
شوہر اور بیوی کے درمیان عمر کا فرق:
اس لیے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان محبت و الفت کے پیدا ہونے میں عمر کا فرق بنیادی کردار ادا کرتا ہے میاں اور بیوی جس قدر عمر میں ایک دوسرے سے قریب ہوں گے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا اتناہی آسان اورممکن ہوگا۔
ازدواجی زندگی میں پریشانیوں کے بڑھ جانیکا شایدسب سے اہم سبب:
معاشرہ کا سب سے گھناونا طریقہ بغیر کسی انکار کے قبول کر لینا ہے بلکہ اسے فطری معاملہ سمجھ لیا گیا اور اس سے منع نہیں کیا جاتا ہے وہ ہے شوہر کا اپنی بیوی کو مارنا یا اسے گھر سے نکال دینا یہاں تک کہ اس کے حق میں خیانت کرنا۔ اس پر شوہر کے گھر والوں کی طرف سے کوئی رول ظاہرنہیں ہوتا ہے۔ خصوصاً جب عربی، انگریزی، فلمیں یہی بتائیں کہ ازدواجی زندگی، بڑی لمبی پریشانیوں، گالی گلوچ اور مار پیٹ اور توہین آمیز رویہ کا نام ہے۔ اس لیے معاشرہ کے افراد کے درمیان نا پسند یدہ اور اخلاق سے ہٹی ہوئی عادتیں پھیل گئیں جب چھپانے کے نام پر اس پر پردہ ڈال دیا گیااب فطرت سے ہٹی ہوئی باتیں شوہر بیوی کے درمیان روز مرہ کا سلوک بن گئی ہیں کہ کوئی ایک دوسرے کو مارے یا انتقام لے یا انتہائی بھیانک شکل کی توہین کرے جب کہ ماضی میں یہی معاملہ آباءو اجداد کے دور میں مرد کے لیے شرم کا درجہ رکھتا تھا اور گھر کے فرد سے لے کر معاشرہ تک سب اس کو مرد کی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  خوش گوار اور پرامن ماحول