abdul qadir

دنیا کرکٹ عظیم کھلاڑی عبدالقادر کے انتقال پر اشکبار ہو گئی

EjazNews

لاہور میں 15 ستمبر 1955 کو پیدا ہونےو الے عبدالقادر نے 14 دسمبر 1977 کو انگلینڈ کے خلاف لاہور میں ہی ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا جبکہ ایک روزہ کرکٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف برمنگھم میں 11 جون 1983 کو ڈیبیو کیا تھا۔عبدالقادر نے 67 ٹیسٹ میچوں کی 111 اننگز میں 236 وکٹیں حاصل کی اور ایک اننگز میں 56 رنز دے کر 9 وکٹیں حاصل کرنا ان کی ایک میچ میں بہترین کارکردگی تھی۔انہوں نے ایک روزہ کرکٹ میں 104 میچوں میں قومی ٹیم کی نمائندگی کی اور اپنی 100 اننگز میں 132 وکٹیں حاصل کیں۔عظیم لیگ سپنر نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ لاہور میں دسمبر 1990 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا اسی طرح آخری ایک روزہ میچ 2 نومبر 1993 کو سری لنکا کے خلاف شارجہ میں کھیلا۔عبدالقادر نے 2009 قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دیں اوران کی منتخب ٹیم نے 2009 میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی چمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق مایہ ناز لیگ سپنر عبدالقادر 6 ستمبر کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث 63 سال کی عمر میں انتقال کرگئے تھے، ان کے بیٹے نے ان کی موت کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ عبدالقادر کودل کا دورہ پڑا۔ جس کے بعد وہ اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔
مایہ ناز کرکٹر عبدالقادر کے انتقال کے بعد ملک بھر کی اہم شخصیات نے سوشل میڈیا پر اظہار تعزیت کی اور اپنے دکھ اور غم کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کو تسلی و تشفی سوشل میڈیا کے ذریعے دیتے رہے۔
وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے ٹویٹر اکاﺅنٹ پر لکھا
”عبدالقادر کی رحلت کی خبر گہرا صدمہ دے گئی۔ میری تمام ہمدردیاں اور دعائیں اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ عبدالقادر ایک ذہین شخصیت اور رہتی دنیا تک کے عظیم ترین لیگ سپنر تھے۔ اس کے ساتھ وہ ڈریسنگ روم کی جان بھی تھے جہاں اپنی ذہانت اور مزاح سے وہ ساتھی کھلاڑیوں کیلئے تفریح کا سامان کرتے۔

یہ بھی پڑھیں:  یہ موٹر سائیکل، گاڑی چوری کی بات نہیں بلکہ 158افراد کے قتل کا عذیر بلوچ خود اعتراف کر چکا ہے:علی زیدی

عبدالقادر کی گیندبازی سے متعلق اعداد وشمار ان کی قابلیت کی کسی طور درست عکاسی نہیں کرتے۔ اگر عبدالقادر آج کے جدید DRS سسٹم، کہ جس کے تحت بلے باز کو اگلے قدم پر بھی آوٹ قرار دیا جاسکتا ہے، کیساتھ میدان میں ہوتے تو وہ بھی عظیم شین وارن جتنی وکٹیں اپنے نام کرچکے ہوتے۔“
ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹوئٹ میں آرمی چیف کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک عظیم کھلاڑی اور انسان کو کھو دیا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عبدالقادر کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ ان کی مغفرت کرے اور ان کے خاندان کو اس ناقابل تلافی نقصان پر تحمل عطا فرمائے
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق لیگ اسپنر کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی عظیم عبدالقادر کے انتقال کی خبر پر غم زدہ ہے۔پی سی بی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ بورڈ ان کے خاندان اور دوستوں سے گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔
وسیم اکرم نے کہا کہ انہیں کئی وجوہات پر جادو گر کہا جاتا تھا لیکن جب انہوں نے میری آنکھوں میں دیکھا تو مجھے کہا کہ میں اگلے 20 سال تک پاکستان کے لیے کھیلوں گا اور مجھے ان پر اعتماد تھا۔وسیم اکرم نے کہا کہ ایک جادوگر، ایک لیگ اسپنر اور اپنے وقت کا موجد تھا، عبدالقادر آپ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور کبھی نہیں بھولا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  12ربیع الاول کو آزادی مارچ سیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل ہوگا:مولانا فضل الرحمن
وزیراعظم عمران خان اور عبدالقادر

بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق اسپنر ہربھجن سنگھ نے عبدالقادر کے انتقال پر ٹویٹر میں اپنے پیغام میں دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ سن کر دکھ ہوا کہ عبدالقادر انتقال کرگئے ہیں، ان سے دو سال قبل ملاقات ہوئی تھی اور وہ بھرپور توانا تھے۔انہوں نے کہا کہ ایک چمپیئن باو¿لر، عظیم انسان تھے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے خاندان سے تعزیت کرتا ہوں۔
شاہد آفریدی نے اپنے پیغام میں عبدالقادر اور پاکستانی اداکار عابد علی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیااور ان کے لیے دعاو¿ں کی درخواست کی۔
سابق بھارتی کرکٹر بشن بیدی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ عبدالقادر ہم میں نہیں رہے لیکن کرکٹ کے لیے ان کی خدمات طویل عرصے تک یاد رکھی جائیں گی۔