salah u din

کیا سانحہ ساہیوال بھول گئے ہو پھر شور ڈال رہے ہو

EjazNews

سانحہ ساہیوال کے بعد بھی سوشل میڈیا اسی طرح سرگرم تھا جیسا کہ اب صلاح الدین کی باری میں نظر آرہا ہے۔ وزیراعظم بھی اس کیس میں سامنے آئے۔ ان کے ٹویٹ میں دیکھنے کو ملے ، انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات بھی کی، لیکن نتیجہ کیا نکلا۔ کیا تب سے لے کر اب تک کسی طرح کی پولیس اصلاحات متعارف ہوئیں جواب خود سے پوچھ لو۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے جسٹس پیس پراجیکٹ کے مطابق پنجاب کے شہرفیصل آباد میں پولیس تشددمیں کل 18سو ایسے واقعات سامنے آئے جن میں پولیس نے دوران حراست ملزمان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کسی ایک میں بھی پولیس اہلکاروں کو سزا نہیں ہوئی۔
اگر اے ٹی ایم سے کارڈ نکالنے والے صلاح الدین کی بات کی جائے تو عوامی ردعمل تو یہ نتیجہ اخذ کر چکا ہے کہ صلاح الدین کی موت نہ صرف پولیس حراست میں ہوئی بلکہ پولیس تشدد سے ہوئی۔ اور اس نتیجہ اخذ کرنے کا سبب وہ ویڈیوز ہیں جو پولیس اہلکاروں نے ہی صلاح الدین سے بات چیت کرتے ہوئے بنائی تھیں۔
شیخ زید ہسپتال کے فوکل پرسن کے مطابق ایمرجنسی میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز نے جب صلاح الدین کولایا گیا تو ان کو مردہ قرار دیا جس کے بعد ان کی لاش مردہ خانے منتقل کر دی گئی۔ وہ تصاویر جو اس وقت سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں گردش کر رہی ہیں صلاح الدین کے والد محمد افضال کےویڈیو بیان کے مطابق درست ہیں اور ان کی لاش وصول کرنے کے بعد بنائی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ایمنسٹی سکیم پر اپوزیشن کا رد عمل

جبکہ اردو نیوز نے ایم ایس شیخ زید ہسپتال کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ’’جب لاش لائی گئی تو بظاہر اس پر تشدد کے نشان نہیں تھے لیکن یہ ممکن ہے کہ اگر تشدد ہوا ہے تو اندرونی چوٹیں آئی ہوں اس لیے پوسٹ مارٹم میں جسم کے کچھ حصے کیمیائی تجزیے کے لیے بھیجے گئے ہیں اور پوسٹ مارٹم کے عمل میں بھی کچھ حد تک چیر پھاڑ کا عنصر ہوتا ہے ۔اس لیے پوسٹ مارٹم کے عمل کی تصاویر کو تشدد سے جوڑا جا رہا ہے، آپ انتظار کریں رپورٹ مکمل ہونے دیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘‘
دوسری جانب صلاح الدین کے والد محمد افضال کی درخواست پر پولیس نے قتل کا ایک مقدمہ رحیم یار خان کے تھانہ اے ڈویژن کے ایس ایچ او محمود الحسن اور دو تفتیشی افسران سب انسپکٹر شفات علی اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر مطلوب حسین کے خلاف درج کر لیاہے۔ ان افسران کو ان کے عہدوں سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔
آپ پولیس اصلاحات نہیں لا سکتے مسائل ہیں دیر لگے گی مان لیتے ہیں ۔ لیکن جزا سزا کے سسٹم کو تو ٹھیک کر سکتے ہو۔ ایسا شخص جس نے جرائم کو روکنا ہے اگر خود ہی جرم کرنے شروع کر دے تو اس کو ایسی سزائیں تو دو کہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو جائے۔ جب پتہ ہوتا ہے کہ چار دن کی معطلی ہے پھر کوئی سفارش یا تعلق استعما ل کر کے بحال ہو جانا ہے تو ڈر پھر کس بات کا رہے گا۔
میں آپ کو مثال دیتا ہوں ۔ سعودی عرب میں چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے ۔ یہ سزا آل سعود کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے نافذ کی گئی ہے۔ آپ سعودی عرب کے اعداد و شمار نکال کر دیکھ لو کتنے لوگوں کو یہ سزا ملی ہے اور کب ملی ہے ۔ صرف ایک یا دو کو یہ سزا ملی اور اس کے بعد وہاں سے چوری کا نام و نشان ختم ہو گیا ہے۔
جب تک چیف جسٹس کی آنکھوں کے سامنے شراب اور بعد میں شہد بنتا رہے گا ، جب تک جیل میں قید قتل کا مجرم چیف جسٹس کو دیکھ کر دھیما دھیما مسکراتا رہے گا اور سامنے کھڑے بڑے افسران باادب کھڑے رہیں گے تب تک ایسے واقعات ہوتے رہیں گے جن کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پنجاب کے 30مزاروں میں عطیات کی وصولی کیلئے کیش مشینیں نصب کی جائیں گی: وزیراعلیٰ پنجاب