heart-sun

کیا واقعی دل شمسی توانائی سے چلے گا؟

EjazNews

سٹین فورڈ یونیورسٹی میں کارڈیو ہیرپیک سرجری کے شعبے کے منیجنگ ڈائریکٹر جوزف وو نے دل کو آکسیجن کی فراہمی کے لیے پتوں سے کام لیا ہے۔ ان کی تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ہے بہت دلچسپ۔ کہتے ہیں دل کو فوٹو سنتھیسس کے ذریعے سے آکسیجن مہیا کر کے بہتر انداز میں چلایا جاسکتا ہے کیونکہ دل کے دورے کے دوران بعض پٹھوں میں آکسیجن بالکل ختم ہو جاتی ہے اور صرف کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوتی ہے جبکہ پودوں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس کو بدل کر آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ دل کے دورے کے دوران نباتاتی خلیوں کو بدل دیا جائے تو دل کے دورے سے اموات میں کمی ہو سکتی ہے۔
اس تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکی سائنسدان جوزف وو نے ایک پلیٹ میں پالک کے پتے اور انسانی خلیے رکھے۔ انہوں نے دونوں کا باہمی ملاپ کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن یہ تجربہ اس اعتبار سے ناکام رہا کہ پودوں کے خلیوں اپنے سسٹم سے جدا ہونے کے بعد زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکے اس سے انسانی خلیوں پر بہتر اثر پڑا۔ کیونکہ پودوں کے خلیوں نے فوٹو تھینسس کے ذریعے انسانی خلیوں کو آکسیجن مہیا کی۔
سٹین فورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دوسرے مرحلے میں انسانی جسم کے اندر بیکٹیریا شامل کر کے اس کی مدد سے فوٹو تھیننسس کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوٹو تھیننسس کا عمل شروع کرتے ہی یہی بیکٹریا انجکشن کے ذریعے حیوانات میں یہ عمل کیوں شروع نہیں کر سکتے۔ انہوں نے یہ تجربہ چوہوں پر کیا اور یہ تجربہ کامیاب رہا۔ چوہوں نے اس بیکٹریا میں سورج کی روشنی سے انرجی حاصل کی اور توانائی کو آکسیجن میں بدل دیا۔ ابھی یہ تجربات انتہائی ابتدائی مراحل میں ہیں اور فی الحال سائنسدان وثوق سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتے لیکن اس پر تحقیق کی رفتار انتہائی تیز ہے۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں اس قسم کی ادویات مارکیٹ میں دستیاب ہو ں گی۔
کیونکہ تجربے میں دل کے خلیوں کے ساتھ بیکٹریا نے فوٹو تھیننسس کا کامیاب عمل کیا ہے یہ نظام کے اندر زندہ رہ سکتے ہیں نظام کے باہر نہیں۔ چنانچہ اس پر صرف سٹان فورڈ یونیورسٹی میں نہیں بلکہ کئی دوسرے ممالک اوراداروں میں بھی تحقیق کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا فیس ماسک موجودہ کرونا وائرس سے بچا سکتا ہے؟