wife and husband

عمر کے لحاظ سے شوہروں کے مزاجوں کا بیان

EjazNews

عمر کے ہر سال کے لحاظ سے بھی خوبیاں اور خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، اس اعتبار سے شوہروں کی صفات جو زندگی کی تبدیلیوں کے لحاظ سے ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں یوں ہیں۔
شادی شدہ مردایک سے سات سال:
جوش خروش، نیاپن، کھیل کود، خیالات کی بھر مار،غفلت، جلد بازی، بہادری، لاابالی پن، گرم جوش، ناتجربہ کار، آزادی پسند، پابندیوں سے بے نیاز۔
درمیانی عمرہ کا شادی شدہ آٹھ سے دس سال
ٹھہرائو، سکون ، عادت، عمل پسند ، ہوشیاری، کوشش کرنے والا، دوسروں کی فکر حفاظت پسند ،احتیاط پسند گرم، منظم تجربہ کار، ماننے کا مزاج، کسی معاملہ میں سوچ کی عادت۔
پرانا شوہر سولہ سے چوبیس سال:
بڑھاپا ، دلیل کا پابند،رسم ورواج، راحت کا متلاشی ، دانائی اور عقل مندی ، یادیں ، حفاظت پسند، باوقار، سرداری، حکم دینے اور منع کرنے کا مزاج، پختگی، لیڈر شپ۔
عمر کےمختلف مرحلوں میں ازدواجی مشکلات کی قسمیں:
کسی مشکل کو ابھارنے کا مقصد دوسرے فریق میں موجود رویہ کو تبدیل کرنے کا مطالبہ۔ ایک فریق یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ دوسرے فریق کو محسوس کرائے کہ اس کا یہ طریقہ اہانت آمیز اور نا قابل قبول ہے اور اسے چاہئے کہ وہ اس رویہ کو مثبت اور معقول رویہ میں بدل دے۔ یہ صحیح ہے کہ ہرشخص کی زندگی کی ایک حیثیت اور قیمت ہے لیکن میاں بیوی کے درمیان مشتر کہ زندگی بغیر اختلافات کے ایسی ہے جیسے ایک چڑیل اور ریگستانی صحرا بلکہ ایسی زندگی انسانی زندگی سے بہت حد تک کٹی پٹی زندگی ہے۔ کیوں کہ ایک دوسرے کے منہ لگنے سے کسی حد تک میاں بیوی کے درمیان لڑائی کی صورت میں شاید روحانی خشکی کی دوری پیدا ہو جاتی ہے لیکن اسی سے ازدواجی زندگی کوفعال اور مضبوط بنانے میں بھی مدد ملتی ہے ۔خوشی اورغم زندگی کے لطف ومزہ کو بڑھادیتے ہیں ،اسی طرح رونا اور ہنسنا مطلوب توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
میاں بیوی عام طور پر مختلف پریشانیوں کے مراحل سے گزرتے ہیں جن سے ان کار ہن سہن متاثر ہوتا ہے۔ یہ اختلافات مختلف اسباب کے درمیان کم زیادہ ہوتے رہتے ہیں شاید ان میں سب سے زیادہ واضح میاں بیوی کے درمیان نفسیاتی ہم آہنگی نہ ہونا یا اولاد کا ہو جانا یا دونوں میں سے کسی ایک کا اولاد پیدا کرنے کے لائق نہ ہونا ہے۔ یہ اور اس طرح کے اسباب سے ازدواجی زندگی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ ان ازدواجی مشکلات کی نوعیت کو شوہر بیوی کی عمر کے مرحلوں کے لحاظ سے ان کی عقلی اور ذہنی درجہ کی روشنی میں جانچا گیا تو پتہ چلا کہ ہرمشکل دوسری مشکل سے الگ اور بدلی ہوئی ہے اور طرفین کی عمر اور شادی شدہ زندگی پر گزرے ہوئے عرصہ کے اعتبار سےہے۔ شادی کے پہلے مرحلہ میں میاں بیوی توتر کا شکار اور ایک دوسرے کے مزاج سے نکلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ ان کی طبیعتیں ان کے بدلے ہوئے ماحول کے مطابق ہوتی ہیں جن میں ان میں سے ہر ایک کی نشوونما ہوتی ہے یہ معاملہ شروع کے بیس سال تک پیش آتا ہے۔ دوسرے مرحلہ کو پہچان اور انکشاف کامرحلہ کہا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے کہ اس مرحلہ میں میاں بیوی ایک دوسرے سے آگاہ ہونے لگتے ہیں۔تا کہ ان میں سے ہر ایک ازدواجی زندگی میں اس سے مطلوب حقیقی فرض کو پہچان سکے اور کسی تجارتی پروگرام یا گھر بنانے کی سکیم کے طورپر مستقبل کی خاطر اپنے تمام اختلافات اور امکانات کو استعمال کرے۔
یہ عادت تیس سال کے عرصہ میں بنتی ہے، تیسرے مرحلہ میں میاں بیوی دونوں اپنے اپنے مستقبل کی خواہشات کو پوری کرنے کی سوچ سے رک جاتے ہیں اور طویل عرصہ سے ساتھ رہنے کی وجہ سے دوبارہ درست کرنے لگتے ہیں جس کو انھوں نے کسی قدر پریشانی اور ہم آہنگی نہ ہونے سے شروع کیا تھا۔ اب پراناتعلق ہونے کا خیال کرنے لگتے ہیں۔ اب جب کہ گھر سے بچے علیحدہ ہو چکے اور صرف دونوں رہ گئے تو یادیں لوٹ آتی ہیں جو ان کو نئے سرے سے عہد و پیان اورتعلق کی طرف لے جاتی ہیں اور اس زمانہ کی طرف جس میں پیار ومحبت کا عرصہ ان دونوں کے درمیان گزرا تھا۔ شادی شدہ جوڑوں کی مشکلات کوحل کر تے ہوئے میرے شخصی تجربات کی روشنی میں میرے لیے ممکن ہوا کہ میں میاں بیوی کی عمروں کے تعین مرحلہ کے لحاظ سے ان کی سب سے بڑی مشکل کا تجزیہ کر سکوں اور ان دونوں کی شادی کی عمر معلوم ہوتے ہی ان کی ہر مشکل کے درمیان فرق کرسکوں اور یہ کہ صاحب معاملہ کی سب سے بڑی صفت اور اس کے نمایاں اخلاق کو معلوم کروں اس لیے کہ بہت ساری شکایتیں جو میں نے سنی وہ ان بنیادی نقطوں سے ہٹ کر نہیں ہیں ۔
از دواجی مشکلات کی فہرست:
شادی کی ابتدائی سالوں میں مردوں کی شکایتیں:
راز فاش کرنا ۔ ذمہ داری کا احساس نہ ہوتا۔ اہمیت نہ دینا۔ بازار بار بار جانا۔ جنسی تعلق میں گرم جوشی نہ ہونا۔
شادی کی ابتدائی سالوں میں عورتوں کی شکایتیں :
خشک محبت۔ عدم احترام۔ضرورتیں پوری نہ کرنا۔ اہمیت والے دنوں کے بارے میں بےتو جہی۔میک اپ کی زیادتی۔مشتبہ تعلقات۔
30سال کی عمر میں مردوں کی شکایتیں :
مردکی مخصوص باتوں میں دخل اندازی ،گھر کی صفائی میں بے توجہی ۔میکے بار بار جانا۔
عورتوں کی شکایتیں :
اپنی ماں کو بیوی پر ترجیح دینا۔ذمہ داریوں کے نبھانے میں ساتھ نہ دینا۔دوسری شادی کا سوچنا۔
40سال کی عمر میں مردوں کی شکایتیں :
خود اپنا خیال رکھنا۔ عورتوں کو بعض بیماریوں کا لگ جانا۔ میک اپ کے ساتھ سامان میں فضول خرچی کرنا۔
عورتوں کی شکایتیں:
گھر سے شوہر کا غائب رہنا۔ اکتاہٹ اور روٹین کا احساس کرنا ۔ عورت کا احساس کہ اب وہ توجہ کے لائق نہیں رہی۔
بڑی اور عمومی از دواجی شکایتیں جوان شادی شدہ مردوں اور عورتوں کو ہوتی ہیں ۔جن کی عمریں۲۰ سے ۳۰ سال کے درمیان ہوتی ہیں۔
بیوی کی شکایتیں
اچانک انقلاب اور رومی محبت ویسی نہیں جیسی کی منگنی کے دنوں میں تھی۔ جذبات واحساسات کاعدم احترام۔ رات میں ہمیشہ دیر سے آنا۔شخصی مطالبات کا پورا نہ کرنا۔بیوی کی اہم خوشیوں سے بے تو جہی۔ برتنا اور اسے یاد نہ رکھنا جیسے شادی کی سالگرہ وغیرہ ۔ معمولی چیزوں کی خریداری میں فضول خرچی کرنا جیسے گاڑی خریدنا یا بیوی کے میک اپ کی چیزوں میں فضول خرچی۔ شوہر کا پرانے غیر اخلاقی تعلقات کو باقی رکھنا۔
شوہر کی شکایتیں
بیوی کا اپنے گھر والوں کو شوہر کا مالی راز بتلا دینا ۔ شوہر کی تیز مزاجی کو برداشت نہ کرنا۔ اپنی بہنوں اور سہیلیوں کے ساتھ کثرت سے بازار جانا۔ ہیر کٹنگ یا بیوٹی پالراور درزیوں کی دکانوں پر مبالغ کی حد تک جانا۔ شوہر کے حکموں کو نہ ماننا اور اس کی ضرورتوں کو پوریک رن ے میں بے توجہی۔ بیوی میں جنسیاتی جذبات کی کمی شوہر کا جوش و خروش سے ساتھ نہ دینا۔ اپنی ماں یا بہنوں کو گھریلو زندگی کی ہر بات بتانا۔
وہ از دواجی شکایتیں جو چالیس سے پچاس سالکی عمر کے درمیان مردوں اور عورتوں کو ہوتی ہیں۔
بیوی کی شکایتیں:
شوہر کا گھر سے لمبی مدت تک غائب رہنا اور زیادہ وقت مشغول رہنا۔اس کے جذبات کا خیال کئے بغیر دوسری شادی پر سنجیدگی سے غور کرنا۔ کبھی اس پر دبائو کے لیے اس حربہ کا استعمال کرنا۔ شوہر کا ہوٹلوں اور مجلسوں میں اپنے جیسے بوڑھوں کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو سے دل بہلانا۔ ملک کے اندر و باہر بغیر بیوی کے زیادہ تر سفر کرنا ۔شوہر کا بار بار ا کتاہٹ محسوس کرنا اور گھر سے باہر رہنے کو پسند کرنا۔ بیوی کا یہ احساس کہ اب شوہر اس کا وہ خیال نہیں رکھتا ہے نہ ہی اس کو پسند کرتا ہے۔
شوہر کی شکایتیں:
بیوی کا خود اپنا خیال نہ رکھنا اور نہ ظاہری رکھ رکھائو پر توجہ دینا۔ آپسی معاملات میں بعض بیماریوں سرد مہری اور ڈھیلے پن اور جمود کا شکار ہونا۔ زیادہ تر وقت سہیلیوں کے ساتھ گزارنا اور دعوتوں کو قبول کرنا۔ بڑے بچوں اور ان کی اولاد کا خیال نہ کرنا۔ اپنی ذاتی ضرورتوں اور میک اپ میں فضول خرچی کرنا۔

یہ بھی پڑھیں:  شوہروں کے مزاج