asif gafoor

بہادر کشمیریوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں: میجر جنرل آصف غفور

EjazNews

ترجمان پاک فوج (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے کہا پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم جس خطے میں رہتے ہیں ہمیں وہاں کے حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے لیکن بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تیز کر دی ہیں۔کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور بھارت کے اپوزیشن رہنما کو مقبوضہ کشمیر بھی جانے سے روک دیا گیا، بھارت چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی ایسی بدلی جائے کہ مسلمانوں کا وہاں رہنا مشکل ہو جائے۔ہمارے مشرق میں ایک بڑی آبادی والا ملک بھارت ہے، بھارت میں ہٹلر کے پیروکار مودی کی حکومت ہے جہاں مسلم اور سکھوں سمیت تمام اقلیتیں انتہاپسندی کی سوچ کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی پہلی تقریر میں بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی، لیکن پاکستان کی مخلصانہ مذاکرات کی پیشکش کے جواب میں بھارت نے جہاز بھیجے، بھارت کے بھیجے گئے جہاز کا کیا حال ہوا وہ سب آپ کے سامنے ہے۔ دو نیوکلیئر طاقتوں کے درمیان جنگ کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن مقبوضہ کشمیر میں جو بھارت نے کیا ہے وہ ایک نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے، جنگیں صرف ہتھیاروں اور معیشت سے نہیں لڑی جاتیں۔مقبوضہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ہے اور ہم پاکستان نے ہمیشہ چاہا کہ مسئلہ کشمیر پُر امن طریقے سے حل ہو۔ترجمان پاک فوج نے ایک بار پھر اس عزم کو دہرایا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، بہادر کشمیریوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، کشمیر کے معاملے پر کسی ڈیل یا سودے بازی کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔ہم 72 سال میں پیچھے نہیں ہٹے تو اب کیسے ہٹ سکتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کشمیر پر صدر ٹرمپ اور وزیراعظم میں جو بھی بات ہوئی سامنے آئی، ہمیں اپنی لیڈر شپ پر اعتماد کرنا چاہیے، پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف قوم کے اتفاق سے بھرپور جنگ لڑی، ہم نے اپنے ملک کیساتھ خطے کے امن کیلئے بھی کر دار ادا کیا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے باوجود بھارت نے سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ جاری رکھی۔بھارت کی کوشش رہی پاکستان کی دہشت گردی کیخلاف جنگ سے توجہ ہٹ جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  یہ وہی کسان ہیں جنہیں گزشتہ حکومت میں پولیس تشدد کا نشانہ بناتی رہی ہے:فردوس عاشق اعوان

انہوں نے کہا کہ مشرقی سرحد پر کچھ بھی ہوتا ہے ہماری ساری توجہ صرف ادھر ہی ہو گی، عوام چاہتی ہے کہ انہیں پتہ چلے کیسے جواب دیا جائے گا، موجودہ حالات میں قوم کو ایک ہونے کی ضرورت ہے اور ایک ہے۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے انہوں نے کہا کہ یہ تمام باتیں من گھڑت ہیں کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے 125 جرنیلوں کی پروموش رکی ہے، یہ سب یوٹیوب کی آوازیں ہیں، ایسا کچھ نہیں ہے، ایک کے بدلے ایک ہی پروموشن ہوتی ہے۔ ہم ایک پیشہ ور فورس ہیں، حکم کی تعمیل اور سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں، آرمی چیف جس طرف دیکھتے ہیں فوج اس طرف دیکھتی ہے۔
انہوں نے افغانستان کے متعلق کہا کہ ہمارا ایک پڑوسی افغانستان ہے جہاں 40 برس سے جنگ ہو رہی ہے، افغانستان والوں نے 40 برس میں جنگ، قربانیوں، اور شہادتوں کے سوا کچھ نہیں دیکھا، ہم نے افغانستان میں امن کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور ابھی جو امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں اس میں بھی پاکستان کا کردار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر اسرائیل کے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس حوالے سے چلنے والی تمام خبریں من گھڑت ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پشاور زلمی کی اسلام آباد یونائیٹڈ کو شکست