not sleepig

بے خوابی کا ذمہ دار صرف دماغ نہیں

EjazNews

دنیا بھر میں لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ کہیں پر لوگ پیسے نہ ہونے پر اور کہیں پر بہت پیسے پر پریشان ہیں ۔ کہیں پر کچھ پریشانی ہے اورکہیں پر کچھ ۔ ان سب پریشانیوں نے انسان کے آرام میں بڑا خلل ڈال دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ بڑی حد تک بے خوابی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ لیکن سائنسدان نت نئی چیزوں کی تلاش میں رہتے ہیں ایسے میں سائنسدانوں نے پتہ لگایا ہے کہ بے خوابی کا تعلق صرف ڈپریشن سے نہیں ہے اس کی اور وجوہات بھی ہیں۔

”میں بہت پریشان ہوں کئی دنوں سے سو نہیں سکا ،کیا کروں ڈپریشن کی وجہ سے نیند نہیں آتی۔ “آج کل تو ہر شخص نیند کے لیے بھی ادویات ، گولیوں پر گولیاں کھائے جارہا ہے۔ بے خوابی نے میڈیکل انڈسٹری کو منافع بخش کاروبار میں بدل دیا ہے۔
دنیا بھر میں کروڑوں لوگ بے خوابی کا شکار ہےں اور یہ کروڑوں لوگ روزانہ اتنی ہی گولیاں کھا رہے ہیں۔ لیکن اب سائنسدانوں نے اس کاتعلق جینز کے ساتھ بھی تلاش کیا ہے۔ بعض یونیورسٹیوں میں 1لاکھ 13ہزار مردوں اور خواتین پر تحقیق کی گئی تو سائنسدانوں کو پتہ چلا کہ بہت سے لوگ ڈپریشن کا شکار نہیں اور نہ ہی انہیں کوئی پریشانی ہے۔ لیکن وہ پھر بھی بے خوابی کا شکار ہیں ،ایسے میں انہوں نے جینز کا تجزیہ کر کے سراغ لگایا کہ یہ بیماری انہیں موروثی طور پر لاحق ہوئی ہے ۔مردوں اور عورتوں میں اس کا تناسب مختلف ہے۔ مثلاً تحقیق میں 50سال سے زائد عمر کی 33فیصد خواتین اور 24فیصد مرد بے خوابی کا شکار تھے۔2017ءمیں راک فیلر یونیورسٹی میں بھی اسی قسم کی تحقیق ہوئی جس میں بے خوابی کا سبب جنیٹک میوٹیشن کو قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  12برس تک حکومت کو بیوقوف بنانے والا اطالوی باشندہ گرفتار