mishb ul haq

نئے چیف سلیکٹر نئی امیدیں

EjazNews

مصباح الحق کو چیف سلیکٹر کا عہدہ بھی سونپ دیا گیا ہے جبکہ سابق ہیڈ کوچ وقار یونس کو اس مرتبہ آئندہ 3 برس کے لیے ٹیم کا باو¿لنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔ کرکٹ کمیٹی سے استعفیٰ دینے والے مصباح الحق آئندہ تین سال تک بطور چیف لیکٹر اپنی نئی ذمہ داری نبھائیں گے۔ نئے کرکٹ اسٹرکچر کے مطابق 6 کرکٹ ایسوسی ایشنز کے ہیڈ کوچز بھی مصباح الحق کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
بورڈ نے اپنے اعلامیے میں بتایا کہ مصباح الحق کی تجویز پر ہی وقار یونس کو قومی ٹیم کا باو¿لنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہیڈ کوچ کو ہی سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین مقرر کردیا گیا۔
اپنی تقرری سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کرنا اور بہترین ناموں میں شامل ہونا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔مصباح کا یہ بھی کہنا تھا کہ قوم کی دھڑکنیں کرکٹ کے ساتھ دھڑکتی ہیں، تاہم ٹیم کی کوچنگ کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر میں یہ ذمہ داری نبھانے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو کبھی بھی اس کے لیے درخواست نہیں دیتا۔جبکہ وقار یونس کی تقرری سے متعلق مصباح الحق کا کہنا تھا کہ وقار یونس کے تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  سابق وزیراعظم کی ضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری

پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہنا تھا کہ قائدانہ صلاحیتوں کے حامل سابق کپتان مصباح الحق کو قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داری دینا ان کے لیے باعث خوشی ہے۔ ہیڈ کوچ کیلئے درخواست دینے والے تمام قومی اور بین الاقوامی امیدواروں کا شکریہ بھی ادا کیا ۔
پی سی بی کے مطابق قومی ٹیم کے لیے مقرر کردہ دونوں کوچز کی حتمی منظوری چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے دی ہے۔
مصباح الحق اور وقار یونس اس سے قبل بھی مئی 2014 سے اپریل 2016 تک ایک ساتھ قومی ٹیم کے لیے ذمہ داریاں نبھاتے رہیں ہیں۔ تاہم اس وقت مصباح الحق کپتان اور وقار یونس ہیڈ کوچ تھے۔پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ میں بھی مصباح الحق بطور کپتان اور وقار یونس بطور باو¿لنگ کوچ اور ڈائریکٹر اپنی ذمہ داریاں ایک ساتھ نبھا چکے ہیں۔
یاد رہے ورلڈ کپ 2019ءمیں شکست کے بعد پی سی بی نے سلیکشن کمیٹی اور کوچنگ سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  سری لنکا میں 4پاکستانی زخمی ہوئے: ترجمان دفتر خارجہ