kashmir man

ہندوستان کامیڈیا اور کشمیر

EjazNews

(گزشتہ سے پیوستہ)

حقائق سے چشم پوشی:
جب تاریخ کو مسخ کرنا اور حالات کو من مانے انداز میں پیش کر نا ہی لازم ٹھہرا تو ہندوستانی پریس کو صحیححالات سے واقفیت کی بھی چنداں ضرورت نہیں رہی۔ 1975ء میں شیخ عبداللہ – اندرا معاہدے پر وادی کشمیر میں جو شدید رد عمل ہوا اس کا تذکرہ ہندوستان کے اخبارات ورسائل میں کہیں جگہ نہیں پا سکا۔ البتہ سری نگر کے زیریں علاقے کو انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کا مرکز قرار دے کر ہندوستان میں نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش ضرور کی گئی۔ اس طرح کشمیری عوام کے اصل رجحانات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ مئی 1989ء میں جب جہاد آزادی کے شعلے وادی کو اپنی لپیٹ میں لے چکے تھے، PROBE نے لکھا۔
’’اب کشمیر میں شیخ عبد اللہ جیسا کوئی لیڈر نہیں چاہے، جس کی دھاڑسے وادی کشمیر کا بڑھتا ہوا فساد ختم ہوجائے ،لیکن اطمینان کی بات یہ ہے کہ اب وادی میں الحاق مخالف کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘
شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپانے کے مترادف یہ بات اس وقت کی جارہی ہے جب وادی میں الحاق مخالف آگ لگی ہوئی تھی۔ ظاہر ہے ایسے بیانات کا مقصد عالمی سطح پر یہ مشتہر کرنا تھا کہ کشمیر میں اب ہند مخالفت رجحانات ختم ہو چکے ہیں ،لہٰذا مسئلہ کشمیر کو حل شدہ سمجھا جائے۔ ہندوستان کی سرکاری پالیسی کے مطابق ہندوستان کے قومی پریس نے کشمیری عوام کے اصل رجا نات کو چھپانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ ایک تجزیہ نگار کے مطا بق
’’گل شاہ (جی۔ ایم۔ شاہ) کے موقع پرست اور محروم لوگوں کی وجہ سے ہندوستان کے میدانی علاقے کے لوگوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کشمیر کے عوام پاکستان پرست ہیں۔ دراصل یہی وہ چند لوگ ہیں جو ہر سال 15 اگست کو کچھ مقامات پر پاکستانی جھنڈے لہراتے ہیں۔‘‘
مسلم تحریک آزادی کو ہندوستان کا قومی پریس چند دہشت گردوں کی کارروائی قرار دے کر اس کے عوامی کردار کو مسخ کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ مسلح نوجوانوں کے دوش بدوش کشمیری عوام قربانیاں دے رہے ہیں۔
تجزیہ نگار اور دانشوران ہند کشمیر کے حالات سے کتنے واقف ہیں، اس کا اندازہ ان تحریروں سے کیا جاسکتا ہے جن میں تاریخی پس منظر میں واقعات کی تدریجی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ایسی ہی ایک تحریر میں صحافی محترم یوں رقمطراز میں :
’’1983ء میں اسمبلی انتخابات میں کی گئی دھاندلیوں نے حالات کو بے قابو کرنے میں رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ بڑی تعداد میں نوجوانوں نے جو مسلم متحدہ محاذ کی حمایت کر رہے تھے خود کو فریب خوردہ محسوس کیا اور وہ قومی دھارے سے کٹ کر پاکستان پرستوں کے چنگل میں پھنس گئے۔ اس کے بعد 1984ء میں مرکز نے فاروق عبداللہ کی منتخب سرکار کو غلط طریقے سے گرا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فاروق نے بھی کچھ انتہا پسندوں کو خفیہ مدددینی شروع کر دی۔‘‘

پورا پیرا گراف الٹا چلنے کی بہترین مثال ہے۔ 1983ء میں مسلم متحدہ محاز کا وجود ہی نہیں تھا۔ محاذنے 1987ء کے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ 1983ء کے بعد 1984ء کا تذکرہ کر کے مضمون نگار نے اپنی لاعلمی کا نقش مزید گہرا کر دیا ہے۔ تاریخ سے عدم واقفیت کا یہ عالم ہو تو تاریخی حقائق پر مبنی تجزیے کی حقیقت دیوانے کا خواب ہی ہوگی۔ ایسے نا واقف صحافی کو 1977ء اور 1983ء کے انتخابات کی نوعیت کا علم بھی نہیں ہوگا جن میں نیشنل کانفرنس نے ہندوستان حکومت سے نفرت پیدا کر کے ووٹ حاصل کیے تھے۔
روز مرہ واقعات میں سے کوئی معمولی واقعہ بھی جس سے مسئلہ کشمیر کی پردہ پوشی ہو سکتی ہو، ہندوستانی پریس میں خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ گذشتہ سال جب پچاس پاکستانی خواتین نے تہذیب و ثقافت کے نام پر ہندوستان کا دورہ کیا تو ہندوستانی ادارے ’’پالیسی ریسرچ‘‘ کے دو اہم کارکنوں نے زور دے کر ان خواتین کے دورہ کشمیر کا پروگرام طے کر ایا۔ پریس نے ان خواتین
کے دورہ کشمیر کی تحریک اس طرح کی ہے پاکستان مسئلہ کشمیرے دستبردار ہوگیا ہے۔ کیونکہ حکومت پاکستان نے ماضی میں سری نگر میں غیر ملکی کھلاڑیوں کے دورے پر اعتراضات کیے تھے اور کشمیری عوام نے غیر ملکی ٹیموں کے ساتھ منعقدہ میچوں کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ہندوستانی پریس کی اس COVERAGEسے ایک طرف کشمیری عوام پاکستان سے نالاں ہوئے اور دوسری طرف عالمی سطح پر یہ تاثر قائم ہوا کہ پاکستان اب مسئلہ کشمیرے دست بردار ہو رہا ہے۔
1986ء کے آخر میں جب مسلم متحدہ محاذ کی شکل میں متحدہ عوامی جدوجہد کے خدوخال ابھر رہے تھے۔ اس وقت کشمیر میں اسلام پسند حلقوں کی روز افزوں قوت کو ختم کرنے کے لیے ہندوستانی حکمرانوں کو اس کے سوا کوئی چارہ کار نظر نہ آیا کہ نیشنل کانفرنس سے معاہدہ کر کے جمہوریت کے نام پر ایک اور کٹھ پتلی حکومت کشمیری عوام پر مسلط کر دی جائے۔ چنانچہ راجیو- فاروق معاہدے کے فوراً بعد ہندوستانی پریس نے مسلم متحدہ محاذ کی قیادت کو بد نام کرنے کی مہم شروع کر دی۔ INDIA TODAYنے بتایا کہ
’’قاضی نثار اور سید علی شاہ گیلانی جب جیل میں تھے تو انہوں نے پاکستان سے ہمدردی رکھنے کے الزامات جھٹلانے کے لیے وادی میں خطوط تقسیم کرتے تھے۔‘‘
جبکہ یہ الزام سراسر غلط اور بے بنیاد ثابت ہوا۔ یہ خبر واضح طور پر محاذ کو بد نام کرنے، اس کی قیادت میں انتشار پیدا کرنے اور عالمی سطح پر یہ تاثر عام کرنے کے لیے اختراع کی گئی تھی کہ وادی کشمیر میں کوئی بھی ہند مخالفت نہیں ہے۔ بلکہ کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے لیے کبھی کبھار پاکستان کی باتیں کر لیتے ہیں۔
ایسے واقعات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہندوستانی پریس کا کشمیر کے متعلق ہندوستانی حکومتی پالیسی سے کتنا گہرا تعلق ہے۔
عالمی سطح پر اپنے مخصوص مقاصد کے لیے حالات کشمیر کی توجیہ کر نا ہندوستان کی حکومت کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم عنصر ہے، جس کا اثر عالمی رائے عامہ پر پڑتا ہے۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو پاکستان سے جوڑنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ہفت روزہ کشمیر کی مسلح جدوجہد کا عوامی کردار اس طرح سے کرتا ہے۔

کشمیر کی تحریک آزادی تک رکنے والی نہیں

’’چونکہ پاکستان افغانستان میں نجیب حکومت کو گرانے میں ناکام ہو گیا ہے جسے عالم اسلام میں اس کی حیثیت مجروح ہوئی ہے ،اس لیے اس نے اپنی حیثیت بحال کرنے کے لیے کشمیر میں بغاوت کرادی ہے۔‘‘
رسالہ مذکور نے بار بار پاکستان پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے لیکن ایک مرتبہ بھی یہ بحث نہیں کی کہ وہ قراردادیں کیا ہیں اور ان کی روشنی میں کشمیر کا اصل مسئلہ کیا بنتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس عمل میں ہندوستانی موقف کی قلعی کھل جاتی اس لیے چالاکی سے قراردادوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔
من پسند قیادت کی اشتہار بازی:
عوامی خواہشات کے مطابق کشمیر میں قیادت کو ابھرنے کا موقع دیا جاتا تو کشمیر پر ہندوستان کا تسلط چند لمحوں کے لیے بھی ناممکن ہوجاتا ،اس لیے مر کزنے مختلف ہتھکنڈوں سے با کردار قیادت کو ابھرنے کا موقع نہیں دیا۔ کشمیر کی حکمران جماعت اور حزب اختلاف دونوں میں ایسی قیادت کو بڑھاوا دیا جو کسی نہ کسی مرحلے میں ہندوستان کی کشمیر پالیسی کا مہرہ ثابت ہوسکتی تھی۔ اس مسلط کردہ قیادت کو عالمی سطح پر کشمیر کی عوامی نمائندہ قیادت بنا کر پیش کیا گیا۔ بھارتی اخبارات نے ایسے تمام لیڈروں کو اہم اور مقبول عوام (POPULAR) راہنما کے القاب سے شہرت دی۔ ہندوستان کی تخلیق کردہ نام نہاد ’’مقبول عوام قیادت‘‘ میں وزیر داخلہ مفتی محمد سعید، فاروق عبداللہ اور دوسرے قائدین تھے جن میں سے کوئی بھی اب اس پوزیشن میں نہیں کہ بلدیاتی اداروں کے انتخاب میں بھی کشمیری عوام کا اعتماد حاصل کر سکے۔ نیشنل کانفرنس جو اپنی ’’دہلی نوازی ‘‘ کی وجہ سے کشمیری عوام کے لیے نفرت انگیز چیز بن چکی ہے ۔اسے ہندوستانی پریس ایک مضبوط اور عوامی بنیادوں پر قائم مقبول ترین پارٹی گردان رہا ہے۔
ہندوستانی پریس کو اگر کبھی ’’ہند دشمن‘‘ قیادت کے بارے میں خبر دینی پڑ جائے تو ہندوستانی اخبارات و رسائل کے لیے قائدین بے بنیاد ڈھونڈ نکالتے ہیں جو اسلامی فکر کے حامل نہیں۔ اس کے ساتھ آج کل ہندوستانی پریس یہ بھی قبول کرتا ہے کہ کشمیری عوام اسلامی نظام کے دیوانے ہیں۔یہ ایک مضحکہ خیز تضاد ہے کہ عوام اسلامی نظام کے داعی ہیں مگر ان کے لیڈر لادینی فکر کے حامل ہیں۔ تاہم اس تضادسے ہندوستانی صحافت کے معیار میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ جبکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلام پسند عوام کے نزدیک سیکولرازم کے گیت گانے والوں کی حیثیت صفر سے زیادہ نہیں۔
حیرت ہے کہ اصل اور حقیقی عوامی قیادت کو نظر انداز کرنے کی پالیسی پر ہندوستانی پریس صرف کشمیر میں ہی عمل پیرا ہے۔ آسام، ناگا لینڈ اور دوسری ہنگامہ پرور ریاستوں کے عوامی جذبات اور قیادت کیصحیح عکاسی میں ہندوستانی صحافی قدرے ایمان دار واقع ہوئے ہیں۔
ہندوستان کو بے گناہ ثابت کرنا:
کشمیر میں ہندوستانی حکمرانوں نے جو ظلم و ستم اور فسطائیت قائم کر رکھی ہے، اس کی ایک معمولی جھلک رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی ہے لیکن 1947ء سے لے کر آج تک ہندوستانی حکمرانوں نے اپنا IMAGE خوب بنا سنوار کر پیش کیا ہے اور پریس نے اس سلسلے میں ان کے ساتھ پورا پورا تعاون کیا ہے۔21جنوری 1990ء کو آپریشن سرچ کے دوران میں ہندوستانی فوجی دستوں کا ظلم و تشدد ہندوستان کی جمہوریت کا چہرہ مسخ کر دینے کے لیے کافی تھا لیکن پریس نے فوراً ایک طرف پاکستانی مداخلت کا شور مچا کر ہندوستانی مظالم سے توجہ ہٹا دی۔ تو دوسری طرف ہندوستانی حکومت کوبے گناہ ثابت کرنے کے لیے قتل عام کی تمام تر ذمہ داری چند نا معلوم افسران پر ڈال کر عوام کو گمراہ کیا۔ INDIA TODAY کے الفاظ قا بل غور ہیں۔
’’آپریشن سرچ کا منصوبہ فاروق عبد الله اور کانگریس (آئی) کے قریبی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے افسران نے گور نر کو خبر کیے بغیر تیار کیا تھا لیکن لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ گورنر کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ اس لیے گور نر کے خلاف لوگوں کی محبت، غصے میں تبدیل ہوگئی۔‘‘
اس اقتباس میں ذمہ دار پولیس افسران میں سے کسی کا نام نہیں لیا گیا۔ اگر واقعی یہ بات صحیح ہے تو ذمہ دار افراد کے نام افشاء کرنے چاہیں اور ان پر مقدمہ چلنا چاہیے جن کے غیر ذمہ دارانہ فیصلے کے نتیجے میں سات سو افراد موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے تھے۔ گور نر کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے یہ بیان دراصل ہندوستانی حکومت کا IMAGE بنانے کی کوشش ہے تاکہ دنیا کو اور خود کشمیری عوام کو یقین دلایا جائے کہ ہندوستانی حکومت کشمیری عوام کی قاتل نہیں ہے اور نہ کشمیری عوام بھارت کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں بلکہ یہ آپریشن کچھ افسران کی ملی بھگت سے تیار کیا گیا جو فاروق عبداللہ کی گور زکے خلاف سیاسی چال تھی۔
مسئلہ کشمیر اور فرقہ پرستی:
ہندوستانی تصور قومیت کا براہ راست تعلق چونکہ ہندو قومیت سے ہے اس لیے ہندوؤں کا قومی مفادات کے پیش نظر کشمیر کے مسئلے پر متحد ہونا بھی بہت ضروری ہے ۔چنانچہ دائیں بازو اور بائیں بازو والے مسئلہ کشمیر پر مثالی اتحاد کے قائل ہیں۔ لہٰذا مسئلہ کشمیر پر ہندوستان میں ہندو قوم کو متحد کرنا بہت ضروری ہے۔ آزادی کے بعد ہندو قومی اتحاد صرف مسلم دشمنی پر ٹکا ہوا ہے۔ اول کشمیر کے مسئلہ کو ہندو-مسلم مسئلہ بنا کر ہندووں کی مسلم دشمنی کو خوب غذا بہم پہنچائی گئی تاکہ ہندوستان کی ہندو آبادی مسئلہ کشمیر کے تعلق سے جنون کی حد تک آگے بڑھنے کے لیے تیار ہوجائے۔ دوم یہ کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی کمزوری کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے ہندوؤں کو بھڑکا کر مسلمانوں کو خوفزدہ کیا جائے اور بعد میں کشمیری مسلمانوں کے سامنے ہندوستانی مسلمانوں کو ہندوؤں کا یرغمال بنا کر پیش کیا جاسکے تا کہ مجاہدین کشمیر بھارتی مسلمانوں کے جان ومال کی حفاظت کے پیش نظر تحریک آزادی سے باز آجائیں۔ سوم یہ کہ عالمی سطح پر یہ تاثر عام کیاجائے کہ کشمیر کی ہندوستان سے علیحدگی کا نتیجہ ملک میں ہندو مسلم خون خرابے کی صورت میں نمودار ہو گا اس لیے ایسا نہ ہونے دینا بہت ضروری ہے۔
اس منصوبے کے تحت ایک طرف ہندوستانی ارباب اقتدار نے اپنے مختلف بیانات اور حرکات سے یہ واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر ہندوستان کی مسلم اقلیت سے تعلق رکھتا ہے۔ اٹل بہاری با چپائی نے کشمیر کی علیحدگی کی صورت میں مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال دینے کی دھمکی دی اور ان کے دوش بدوش ہندوستانی پریس نے مسئلہ کشمیر پر ہندو نفرت کو بھڑکانے کا خوب سامان مہیا کیا۔ اس مقصد کے لیے کشمیر میں ہندوؤں پر مظالم کی فرضی داستانیں اختراع کی گئیں۔ وادی کشمیر میں پیٹرو ڈالرز کے سیلاب بہتے دکھائے گئے اور وادی میں پاکستانی جاسوس پکڑے جانے کی من گھڑت داستانیں سنائی گئیں۔
دینی درسگاہوں میں درس و تدریس میں مصروف علماء پر کشمیری مسلمانوں کو ہندوؤں کے خلاف بھڑکانے کے الزامات عائد کیے گئے۔ انگریزی ہفتہ وار ’’ویک ‘‘کے ایک مضمون میں یہ تاثر دیا گیا کہ کشمیری مسلمان مسئلہ کشمیر پر پاکستانی ایجنٹ ثابت ہو سکتے ہیں۔
کشمیر کی تحریک آزادی کو فرقہ پرستی کا نام دیتے ہوئے ہندوستانی اخبارات نے فرقہ پرستی کی اصل تعریف ہی مسخ کر دی ہے۔ فرقہ پرستی در اصل دوسرے مذہبی فرقے کے تئیں جارح رویہ اپنانے کا نام ہے جبکہ کشمیری مسلمانوں نے مسئلہ کشمیر کو لے کر کبھی کسی ہندو کو مذہبی تعصب کی بنیاد پر نقصان نہیں پہنچایا۔ ہندوستانی اخبارات فرقہ پرستی کا نام لے کر یہ تاثر عام کر رہے ہیں کہ حق خودارادیت کا مطلب ہندووں پر ظلم ہے۔ ‘‘دغان‘‘ میں کشمیری ہندؤوں پر مسلمانوں کے مظالم کی من گھڑت رپورٹ شائع ہوئی جس کی سرخی ہی یہ تھی۔ ’’ کشمیر میں (ہندو) پنڈتوں کا حال جنگلی ہرنوں سے بھی بد تر ہے۔‘‘
مضمون میں مزید وضاحت کی گئی کہ وادی کشمیر کے ہندوؤں کا حال اس ہرن سے بھی بد تر ہے جو کھلے جنگل میں ہو اور جس کے چاروں طرف خونخوار شیر اور شکاری موقع کے منتظر ہوں۔
شیخ عبداللہ کا تیار کیا ہوا باز آبادکاری بل 1983ء میں ایک خاص سازش کے تحت فاروق عبداللہ نے اسمبلی میں پیش کر دیا۔ باز آبادکاری بل پر پریس نے ایسا واویلا مچایا اور ایسی تصویر تھی کہ شاید آزاد کشمیر کے لوگ آ کر ہندوؤں کے گھروں میں آباد ہو جائیں گے۔ اس واویلے کو انجہانی اندرا گاندھی نے مزید ہوا دی اور جموں میں ہندوؤں کی محافظ بن کر وارد ہوئیں۔ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو فرقہ وارانہ شکل میں پیش کرتے ہوئے ایک دانشور نے اس طرح تجزیہ کیا۔
’’مرکز مخالفت تصادم کشمیر میں اکثر فرقہ وارانہ شکل میں سامنے آتا ہے اور کشمیر کی اکثریت بغیر کسی ہنگامے کے علیحدگی پسندی کا شکار ہوجاتی ہے۔‘‘
اس ایک جملے میں لفظوں کے سہارے غلط فہمیوں کا جو جال بننے کی کوشش کی گئی ہے، اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
مسئلہ کشمیر کو فرقہ پرستی کی پیداوار ثابت کرنے کے لیے ہندوؤں کی مظلومیت کے کچھ ثبوت بھی درکار تھے لہٰذا دلائل کی عدم موجودگی میں جھوٹی خبریں اختراع کی گئیں۔ 19 جنوری 1990ء کو ٹائمز آف انڈیا گروپ کے نمائندے ارون رنجن ARUN RANJANنے وادی کے تین سوہندو خاندانوں کے گھر چھوڑ کر چلے جانے کی خبر دی۔ لیکن اس خبر میں کسی ایک مہاجر خاندان کا بھی نام نہیں دیا گیا اور نہ یہ معلوم ہوا کہ نمائندہ مذکور کسی مہاجر خاندان سے ملا بھی تھا۔ بعد میں یہ خبر جھوٹی ثابت ہوئی۔ 11 جنوری 1990ء کو تو بھارت ٹائمزنے بھی ایسی ہی من گھڑت خبر شائع کی۔ جس کی تصدیق نہ ہو سکی۔
وادی کشمیر اور علاقہ جموں کے درمیان امتیازی سلوک کی من گھڑت داستانیں شائع کی گئیں۔INDIA TODAYمیں علاقہ جموں کے ہندوؤں کے ساتھ وادی کے مسلمانوں کے مقابلے میں ہر سطح پر امتیازی سلوک برتنے کی رپورٹ شائع ہوئی۔ لیکن اس رپورٹ میں تمام اعداد وشمار فرضی دئیے گئے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ حکومت ہند نے علاقہ جموں کے مقابلے میں وادی کشمیر کے ساتھ جو سوتیلا سلوک روا رکھا تھا اس پر کسی بھی رسالے نے ایک لفظ تک نہیں لکھا۔ سلال ڈیم کی بجلی سے معاہدے کے بر خلاف وادی کو محروم رکھنا، جموں سیکریٹریٹ، کشمیر یونیورسٹی اور ہوائی اڈے کی مساجد کو بند کر دیا جبکہ سری نگر سیکریٹریٹ میں مندر قائم رہنے دینا، ترقیاتی اسکیموں اور صنعتوں سے وادی کو محروم رکھنا، وادی کی صنعت کو منصوبہ بندی کے ساتھ تباہ کرنا وغیرہ سوتیلے سلوک کی بے شمار مثالوں میں سے چند ایک ہیں جو ہندوستان کے قوی پریس نے بالکل نظر انداز کر دیں۔ ظاہر ہے کہ پریس کا یہ جانبدارانہ اور اشتعال انگیز رویہ مرکزی حکومت کے طویل المیعاد منصوبے کی تکمیل میں مددگار ثابت ہورہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بلوچستان میں پانی کی قلت کے خطرات

فوجی مظالم کی پردہ پوشی:
وادی کے عوام پر پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں نے جس قدر ظلم و ستم روا رکھے ہیں ان کی تفصیل تاریخ انسانیت کا ایک المناک باب ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ظلم و ستم کے یہ واقعات منظر عام پر نہ آئے ہوں۔ کشمیر میں مقیم ہندوستانی فوجوں نے عشرت کدے آبادکرنے کے لیے عورتیں اغواء کیں۔ اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والے کتنے ہی افراد کو فرضی مڈبھیڑ کا نام دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ سیاسی انتقام کی خاطر نوجوانوں کو جیل میں ڈالا گیا۔ بے گناہوں پر تعذيب خانوں میں تشدد کے پہاڑ توڑے گئے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کسی ایک واقعہ کی جزوی خبر تک پریس میں جگہ نہ پا سکی۔ اس کے برعکس جب سری نگر کی عدالت نے چند نوجوانوں کی بے گناہی تسلیم کرتے ہوئے ان کو رہا کیا توپریس سے یہ برداشت نہیں ہو سکا اور اس نے اس رہائی کو علیحدگی پسندوں کی حوصلہ افزائی قرار دے ڈالا۔
اسے بھیانک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انتہا پسندی کو شہ مل رہی ہے اور وادی میں پروان چڑھتی ہوئی انتہا پسندی، مذہبی کٹرپن اور علیحدگی پسندی کی ’’ناجائز اولاد‘‘ ہے۔
تحریک جہاد میں فوجی و نیم فوجی دستوں نے بے بس اور نہتے عوام پر جو ظلم روا رکھا ہے اور خانہ تلاشی کے نام پر جس طرح عصمتیں تار تار کی ہیں۔ گھروں کا سازوسامان لوٹا ہے اور تلاشی کے نام پر جس طرح لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے اس کی بھنک بھی ہندوستانی اخبارات کو نہیں ملی۔
فسطائیت:
ہندوستانی پریس کبھی کبھی ہندوستان کے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے بالکل کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ آذربائیجان میں روسی فوجوں نے مظلوم عوام پر فوج کشی کر کے چند ہی روز میں پندرہ ہزار مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ روسی فوجوں کے اس ظالمانہ اقدام کی جتنی بھی مذمت کی جا تی کم تھی لیکن ہندوستان نے روس کی سرکاری پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے جواباً کشمیر میں اپنی فوجی جارحیت پر روسی حمایت طلب کی۔
جنوری 1990ء میں ہندو پاک کے درمیان جو ڈپلومیٹک جنگ چل رہی تھی، اس میں ہندوستان کو روس کی حمایت در کار تھی۔ اس کے ساتھ ہندوستانی حکمرانوں کی یہ خواہش تھی کہ امریکہ چاہے ہندوستان کے موقف کی حمایت نہ کرے لیکن اس نازک موقع پر پاکستان کو اس کی کھلم کھلا حمایت حاصل نہ ہو۔ چنانچہ روسی مقبوضہ مسلم ریاستوں میں اٹھتی ہوئی اسلامی لہرسے ہندوستان کے ذرائع ابلاغ نے امریکہ کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی۔ امریکی پالیسی ساز خود بھی اس نئی کروٹ سے پریشان تھے اور اس لہر کو دبانے کے لیے روس سے ان کی خاموش مفاہمت ہوگئی تھی۔ بھارت نے کشمیر میں اسلامی انقلاب لہر کا تعلق مذکورہ روسی مقبوضہ مسلم ریاستوں کی بیداری سے جوڑ کر امریکہ کو تذبذب میں ڈال دیا۔ ہندوستان کے ذرائع ابلاغ نے بار بار امریکہ کو باور کرایا کہ اگر کشمیر میں اسلامی انقلابی کی لہر کامیاب ہوجاتی ہے تو اسرائیل میں بھی انتفاضہ کی کامیابی کے امکانات پیدا ہوجائیں گے۔ خارجہ پالیسی کی کامیابی و ناکامی کا انحصار دنیا پر اپنی اہمیت واضح کرنے پر ہوتا ہے لہٰذا ہندوستان کے اخبارات نے اپنی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے روس کو یاد دلایا۔
’’اگر جموں و کشمیر میں حق خود ارادیت کی خاموش حمایت کی جاسکتی ہے تو آذر بائیجان وغیرہ میںاسے کیسے روکا جاسکتا ہے۔ روس یہ کیوں چاہے گا کہ کشمیر سے اسرائیل تک بنیاد پرستی کی ہوائیں چلیں۔ 1979ء میں اس نے اسلامی بنیاد پرستی کو روکنے کی دلیل سے ہی افغانستان میں اپنی فوجیں بھیجی تھیں اور خواہ اسے غلط کہا جائے مگر ہندوستان نے روس کی اس فوجی مداخلت کی حمایت کی تھی جبکہ دوسری طرف پاکستان سے تحریک پالنے والے مجاہدین روسیوں سے برسر پیکار تھے۔‘‘
الفاظ پر غور کیجئے۔ سیدھا مطلب ہے کہ خواہ کشمیر میں ہندوستان کا موقف کتنا ہی کمزور ہو یا یہ زبردستی کی مداخلت ہو لیکن روس کو اس غلط اقدام کی حمایت کرنی چاہیے۔ واضح رہے کہ یہ الفاظ ہندوستانی اخبارات نے ٹھیک اس وقت تحریر کیے تھے جب ہندوستانی نمائندہ ایس۔ کے۔ سنگھ ماسکو میں روسی حکام سے اسی قسم کی سودے بازی کر رہا تھا۔ کم و بیش اس قسم کے الفاظ وزیر خارجہ اندر کمار گجرال نے فلسطین کے حوالے سے عرب ممالک کے سفراء سے کہے تھے۔ بھارتی پریس نے عرب ممالک کو یقین دلایا کہ اگر وہ اسرائیل کے مقابلے میں مسئلہ فلسطین پر بھارتی حمایت کے خواہشمند ہیں تو انہیں مسئلہ کشمیر پر کم از کم غیر جانبدار ہونا پڑے گا۔
ہندوستانی پریس کا یہ چہرہ یقیناً فسطائی ذہنیت کا غماز ہے جس کا اظہار کشمیر کے تعلق سے اندرونی و بیرونی سطح پر ہوتا رہتا ہے۔ کشمیر میں ہندوستانی حکومت جس طرح من مانی قیادت عوام پر مسلط کرتی رہی ہے۔ پریس بھی کٹھ پتلی قیادت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر تا رہا ہے۔لہٰذا جب 19 جنوری 1990ء کو فاروق عبداللہ مستعفی ہوئے۔ ہفت روزہ ’’نوبھارت ٹائمز ‘‘کا تبصرہ یہ تھا۔
فاروق اب بلا جھجھک مرکزی حکومت کے مخالف کشمیری عوام کے مرکزی لیڈر بن سکتے ہیں، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ دم توڑتی نیشنل کانفرنس میں روح پھونک کر اسے ایک مرتبہ پھر دھارنے والا شیر بنا سکتے ہیں اور یہی سب سے ضروری ہے کیونکہ وادی میں کا نفر نس ہی ایک واحد سیاسی تنظیم ہے جس سے امید کی جا سکتی ہے اگر وادی میں ایک دہلی مخالف لیڈر کے بغیر کام نہیں چلتا اور یہ دہلی مخالفت کشمیر کو بھارت کا حصہ بنائے رکھتا ہے تو نئی حکومت کے سیاسی مخالف ہوتے ہوئے بھی فاروق عبداللہ بھارت کے دوست ثابت ہو سکتے ہیں بشرطیکہ دہشت گردوں سے بازی چھین لی جائے۔‘‘
غدار قیادت کو پنپنے کا موقع دے کر سیدھے سادے کشمیری عوام کی گردن پر اسے مسلط کرنے کا جو کام ہندوستان کے حکمران کر رہے تھے، مذکورہ الفاظ اسی فسطائی ذہنیت کی پیداوار ہیں۔
ایک اور المیہ یہ ہے کہ ہندوستانی ذرائع ابلاغ اس حقیقت سے واقف ہوتے ہوئے بھی کہ موجودہ مسلح جدوجہد، عوامی تحریک ہے۔ عوامی تحریک کو کچلنے کی روش پر گامزن ہو نا چاہتے ہیں۔ ہفت روزہ ’’چوتھی دنیا‘‘ کے مطابق :
’’جموں و کشمیر کی سرزمین سیاست پر ہند دشمن رویہ ہی قبول عام حاصل کرتا ہے، لیکن بھارت کو پاکستان سے جنگ کا خطرہ مول کر بھی اس جذبے کو کچل دینا چاہیے‘‘۔
کیا اس کا سیدھا مطلب یہ نہیں کہ عوام کو بزور طاقت بغیر کسی خوف و خطر کے کچل دینا چاہیے۔ نازی آمریت اسی ذہنیت کا نام ہے ،ہندوستانی پریس پر حاوی ہے۔
کشمیری حریت پسند اگر آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ہندوستان کا سپر پاور بننے کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ اس لیے جہاد کشمیر کی کامیابی کے ممکنہ خطرے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہندوستانی حکومت نے ایک طویل المیعاد جنگی پالیسی وضع کی ہے جس کے تحت ایشیا میں اپنے سب سے بڑے اور قریبی حریف پاکستان کے اندرونی معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق چلائے جانے کی قوت حاصل کرنا شامل ہے۔ تاکہ بعد میں ہندوستان، مسئلہ کشمیر پر پاکستان سے من مانا فیصلہ کرسکے اور علاقے کا چوہدری بننے کی قوت حاصل کی جائے۔ ہندوستانی پالیسی کے مطابق ہندوستان میں پاکستان کی مداخلت کا ہوا کھڑا کر کے خطرے سے بچنے کے نام پر پاکستان میں کھلم کھلا مداخلت کا راستہ ہموار کیا جائے۔ انڈین پریس اس پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جہاں ایک طرف کشمیری عوام کے جائز اور قانونی مطالبے کو پاکستانی مداخلت کا نام دے کر خوف و دہشت کا جال بن رہا ہے وہیں اس خیالی بال کو توڑنے کے لیے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں ہندوستان کی مداخلت کی راہ بھی ہموار کر رہا ہے ’’نو بھارت ٹائمز‘‘ کا نمائندہ کہتا ہے :
’’آخر کار بے نظیر کو ہند مخالفت رخ اختیار کرتے ہوئے ان باتوں پر خاموش ہونا پڑا جو ہندوستان کو کافی کھنک رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے بھارت کو براہ راست ان طاقتوں سے نپٹنا ہو گا جو بے نظیر کو ایسا کرنے اور کہنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ ‘‘
مسئلہ کفر و اسلام:
ہندوستان کے حکمرانوں نے کشمیر کے اسلامی تشخص کو مٹا کر انڈو۔ یورپین (INDO EUROPEAN) بے حیا تہذيب عام کرنے کی بھر پور کوشش کی، لیکن وادی کے مسلمانوں نے جب بھی اپنے تہذیبی تشخص کے تحفظ کے لیے کسی خواہش کا اظہار کیا تو ہندوستانی حکومت نے اس صدائے حق کو پاکستان نواز اور ملک دشمن کہہ کر کچل دیا۔ انڈین پریس بھی وادی کے ان بیدار مغز عناصر کے کچلنے کا مشورہ دیتا رہا۔ ہفت روزہ ’’ویک‘‘ اس بیداری پر واویلا مچاتے ہوئے کہتا ہے۔
’’کشمیر میں کچھ طاقتیں بالآخر ہندوستانی کلچرسے خطرہ کیوں محسوس کرتی ہیں۔‘‘
مضمون نگار کے مطابق ہندوستانی کلچر کے مخالفین کے پروپیگنڈے سے پاکستانی عناصر کو تقویت مل رہی ہے۔ اخبارات بار بار حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ موجودہ صورت حال اسلامی بنیاد پرستی کی پیداوار ہے اس لیے وادی کے بنیاد پرستوں کو کچل دینا چاہیے۔ اس طرح ان اخبارات نے کشمیری تحریک جہاد کے خلاف ایک محاذ کھول کر پوری دنیا کو متوجہ کرنے کی بھر پور کوشش کی کہ کشمیر میں اسلام پسند بنیاد پرستوں کی کامیابی دنیا کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ بھارتی بساط سیاست پر بائیں بازو کے جمہوریت پسند ہوں یا دائیں بازو والے فرقہ پرست ہندو سرمایہ دار، اسلامی ریاست کے قیام سے دونوں خوفزدہ ہیں۔’’ نو بھارت ٹائمز ‘‘کشمیر میں اسلامی حکومت کے تصور کا مضحکہ اڑاتے ہوئے لکھتا ہے کہ
’’کشمیر میں اسلامی حکومت کا تصور محض یوٹوپیا (UTOPIA) ہے۔‘‘
1987ء کے انتخابات، جن میں مسلم متحدہ محاذنے نظام مصطفی کا نعرہ دیا تھا، گواہ ہیں کہ ہندوستان کی حکومت کشمیری مسلمانوں کے اسلام پسندانہ جذبات کو کچلتی ہے اور پریس اس کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ ان انتخابات میں ہندوستان کی حکومت نے بزعم اگر خود کشمیری اسلام پسندوں کی کلائی موڑدی تواخبارات کہتے ہیں:
’’اس چناؤ کا سب سے اہم فائدہ کئی تنظیموں سے بنے مسلم متحدہ محاذ کی شکست ہے۔ مسلم متحدہ محاذنے بڑے پیمانے پر مسلم اکثریتی علاقوں میں کانگریس نیشنل کانفرنس محاذ کو چیلنج کیا تھا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ رائے دہندگان نے انتہا پسند اور علیحدگی پسند طاقتوں کا ساتھ نہیں دیا اور ایک طرح سے یہ کشمیر کو ’’اسلامیانے‘‘ کے خلاف رائے ہے۔‘‘
ہندوستانی حکومت اسمبلی انتخابات کو استصواب رائے کا نعم البدل گردانتی ہے۔ اس لیے دنیا کو دکھانے کے لیے ان انتخابات کی تشہیر ضروری ہے، چنانچہ اخبارات نے ہندوستانی حکومت کی مرضی کے مطابق انتخابات کی تشہیر کی اور انہیں استصواب رائے کا نعم البدل گردا تا۔ لیکن اخبارات کبھی بھی اس حقیقت کو زیر بحث نہیں لائے کہ کشمیر میں اسمبلی انتخا بات ہمیشہ مرکزی حکومت کے اشارے پر دھاندلیوں سے طے کیے جاتے ہیں کیونکہ اگر یہ حقیقت قبول کر لی جاتی تو ہندوستان کی اس بے بنیاد دلیل کا جنازہ نکل جاتا ہے۔
سرکاری دباؤ:
کشمیر کے بارے میں انڈین پریس کی مذکورہ بالا تمام بد دیانتیوں کے باوجود مزید بد دیانتی پر مجبور کرنے کے لیے اخبارات کو اکثر و بیشتر وزارت داخلہ کی طرف سے زبانی ہدایات ملتی رہتی ہیں جس کا کوئی تحریری ثبوت نہیں ہوتا۔ 21 جنوری 1990ء کو ’’آپریشن سرچ ‘‘میں تقریباً سات سو افراد شہید ہوئے۔ ابتدائی خبروں کے مطابق اخبارات میں 135 افراد کی شہادت کی خبریں شائع بھی ہوئیں۔ حکومت نے اخبارات پر مزید پابندیاں عائد کر دیں اور بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرنے کے لیے تمام صحافیوں کے کرفیو پاس منسوخ کر دئیے۔ ان کو ہوٹلوں تک محدود کر دیا یا وادی سے نکال دیا۔ 24 جنوری 1990ء کو گور نر جگ موہن نے ایک اعلان جاری کر کے تمام مقامی اخبارات بھی عارضی طور پر بند کر دئیے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو کو نکیل دے۔ ہندوستانی اخبارات سے اپیل کی کہ وہ آذر بائیجان کی خبریں شائع کرنے سے پرہیز کریں تاکہ وادی کے عوام آذر بائیجان کے سرفروشوں سے تحریک حاصل نہ کر سکیں۔ گورنر نے مزید کہا کہ گذشتہ پانچ دنوں میں 125 ہلاکتوں کی خبریں غلط ہیں۔ صرف 28 افراد مارے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو اخبارات گورنر کے اعلامیہ سے قبل تک 100 یا 125 افراد کی ہلاکتوں کی خبریں سنارہے تھے اور گھٹ کر 35 افراد کے مرنے کی خبریں دینے لگے۔ اس صورت حال سے ہندوستانی پریس کی حیثیت کافی مضحکہ خیز ہو کر رہ گئی۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اخبارات نے ان پابندیوں کے خلاف احتجاج تو کیا لیکن ان کا احتجاج صرف اس حد تک ہی رہا کہ ان کے کرفیو پاس کیوں منسوخ کیے گئے مگر پریس کو گور نر کی مہیا کی گئی غلط اطلاعات کے احتساب یا تحقیق کی ضرورت محسوس نہ ہوئی اور نہ یہ صورت حال کی تلاش و جستجو کی کوشش کی گئی۔ ان کا اعتراض صرف یہ تھا کہ کرفیو پاس منسوخ کرنے سے صحافیوں نے اپنی بے عزتی محسوس کی ہے۔ اس لیے چند اخبارات میں گور نر کے خلاف شور شرابا بھی ہوا۔ اس ہنگامے کے دوران میں ایک روز 10 فروری کو وزارت داخلہ کی طرف سے سینئر صحافیوں کو ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں یہ یقین دلایا گیا کہ دراصل یہ پابندیاں غیر ملکی صحافیوں کی وجہ سے لگائی تھیں تا کہ اقوام عالم فوری کارروائی کی تفصیلات سے واقف نہ ہو سکیں۔ وزارت داخلہ کی اس خفیہ بریفنگ کے بعد قومی اخبارات جو طویل احتجاج کا منصوبہ بنا رہے تھے، خاموش ہو گئے اور اس کے بعد اخبارات سے آذر بائیجان کی خبریں بھی غائب ہو گئیں یا سرکاری اداروں سے چھن کر آنے لگیں۔
ہندولابی:
در اصل وادی کشمیر میں ہندو صحافیوں کی ایک مضبوط لابی ٹیلی ویژن اور تمام قومی اخبارات پر قابض ہے اور یہ لابی کبھی بھی کوئی صحیح خبر چھن کر باہر نہیں جانے دیتی ۔ پنڈتوں کی اس لابی نے وادی میں صحافتی بددیانتی کو پروان چڑھایا ہے۔ اس میں چند مسلم صحافی بھی بطور فیشن غوطے لگارہے ہیں ۔ صحافیوں کی یہی لابی تمام غیر ملکی صحافیوں کے وار د کشمیر ہوتے ہی ان کو گھیر کر خیر خواہانہ انداز میں کشمیر کے حالات من مانے طریقے سے ان کے سامنے ر کھتی ہے اور ان صحافیوں کو عوام تک براہ راست رسائی حاصل نہیں کرنے دیتی۔
اس طرح کٹر ہندو اور لادین بائیں بازو والوں کے باہمی تعاون سے کشمیر کے متعلق تیار کی گئی پالیسی کے دائروں میں رہ کر قومی مفادات کے تئیں حالات کی غلط ترجمانی بھارتی قومی پریس کی لازمی صفت اور قومی فریضہ ہے، جس سے سرمو انحراف کسی کے لیے بھی ناممکن ہے۔ ہندوستان کے ایک سینئر صحافی نے جواب ایک پالیسی ساز ادارے سے وابستہ ہیں ، کی ملاقات میں یہ انکشاف کیا تھا کہ ہندوستان کی حکومت کشمیر کے تعلق سے قومی مفاد کے پس منظر میں وضع کیے گئے چند بنیادی اصولوں کی پابند ہے جن کی پابندی تمام صحافیوں پر لازم ہے۔ اس لیے اگر آپ بھولے بسرے مسئلہ کشمیر پر غور و فکر کا باب دوبارہ کھولیں گے تو آپ پر ملک دشمنی کا الزام لگ سکتا ہے۔ لہٰذا یہ حقیقت بغیر کسی اختلاف کے عیاں ہے کہ کشمیر کے تئیں ہندوستان کے قوی پریس کا معاملہ پیشہ ورانہ دیانتداری کے بجائے ہاتھ کی صفائی کارہا ہے جو معاملات کو اس طرح الجھاتا ہے کہ سرا ہاتھ نہ آ ئے اور الجھا نے والے ہاتھ بھی بے نقاب نہ ہوں اور ہندوستان کے پریس کو الجھائوکے فن میں پیشہ ورانہ مہارت سے زیادہ عبور حاصل ہے۔ (ختم شد)

یہ بھی پڑھیں:  سیلز مین آسان نہیں ہے یہ جاب

تہباز ثاقب