muslim_marriage

حق مہر کا بیان

EjazNews

مہر کس کو کہتے ہیں اور کتنا مقرر کرنا چاہئے ؟:
جس چیز اور مال کے بدلے میں نکا ح کیا جاتا ہے اس کو مہر اور صداق کہتے ہیں۔ نکاح میں مہر کا دینا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”جن عورتوں سے نکاح کرو ان کے مقرر شدہ مہر ان کو دو ۔ “ (النساء)
”اورتم عورتوں کے مہر کو خوشی خوشی ادا کردو ۔“
حضرت سہیل بن سعدؓ نے روایت کی ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کرنے لگی کہ حضور میں نے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کر دیا ہے جو آپ میرے متعلق فیصلہ فرمائیں گے مجھے منظور ہے۔ آپ نے اسے دیکھ کر نیچے سرجھکا لیا وہ عورت وہیں بیٹھ گئی۔ ایک صحابی نے عرض کیا اگر آپ کو ضرورت نہیں ہے تو میرا ہی اس سے نکاح کر دیجئے۔ آپ نے فرمایا تیرے پاس مہر دینے کے لئے کچھ ہے۔ اس نے کہا خدا کی قسم میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا تو اپنے عزیزوں کے پاس جا کر کچھ لے آ۔ وہ گیا اور واپس آکر کہنے لگا۔ خدا کی قسم یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی چیز نہیں ملی۔ آپ نے فرمایا پھر دیکھ اگر چہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی وہی لے آﺅ۔ وہ پھر لوٹ کر آیا، کہنے لگا، خدا کی قسم ایک لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ہے۔ البتہ یہ میری لنگی سے کیا ہو سکتا ہے اگر تو اس کو پہنے تو عورت پر کچھ نہیں رہے گا وہ ننگی رہے گی اور اگر عورت پہنے تو تیرے پاس کچھ نہیں رہتا ہے۔ یہ سن کر وہ مایوس ہو کر بیٹھ گیا۔ بہت دیر تک بیٹھا رہا۔ دیر کے بعد اٹھ کر چلا آپ نے دیکھ لیا کہ وہ پیٹھ موڑ کر چلا جارہا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ اس کو بلا لو وہ بلایا گیا ۔ جب وہ حاضر ہوا، آپ نے فرمایا : ”تجھے قرآن کی کون کون سی سورتیں یاد ہیں وہ کہنے لگا مجھے فلا ں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ کئی سورتیں اس نے گنوادیں۔ آپ نے فرمایا تو یہ سورتیں اس کو زبانی پڑھا دے گا۔ اس نے عرض کیا ”حضور ہاں “ ۔ آپ نے فرمایا ”اس قرآن کے بدلے میں نے اس عورت کا نکاح تیرے ساتھ کر دیا۔ جا کر قرآن اس کو سکھلا دے۔ (بخاری)
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کا مہرایک سو پچیس روپیہ کا تھا۔ (مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک لپ بھر کر ستو یا کھجور دے دیا تو اس نے اس کو حلال کر لیا۔ “ (ابوداﺅد)۔
حضرت عامر بن ربیعہ ؓ فرماتے ہیں بنی فزارہ قبیلہ کی ایک عورت نے دو جو تیوں کے بدلے میں نکاح کیا آپ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تو ان جوتیوں کے بدلے میں اپنے نفس کو دینے پر راضی ہے۔ اس نے کہا جی ہاں! آپ نے اس کوجائز رکھا۔ “
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ۔ ابو طلحہؓ نے ام سلیم سے نکاح کیا ”اسلام لانا ہی مہر مقرر ہوا۔“(نسائی)
ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ میاں بیوی جس چیز کے لینے دینے پر راضی ہو جائیں گے وہ مہر میں دیا جا سکتا ہے۔ خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ ہو۔ کوئی خاص مقدار نہیں ہے کہ کم سے کم کتنا ہو البتہ زیادہ مہر باندھنا اچھا نہیں ہے۔ حضرت عمر ؓفرماتے ہیں ”خبر دار ! عورتوں کا مہر زیادہ نہ مقرر کرو ۔ اگر زیادہ مہر باندھنا اچھا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ مستحق تھے۔ آپ نے اپنی ازواج اور صاحبزادیوں کا مہر سوا سو روپیہ سے زائد نہیں باندھا تھا۔ “ (ابن ماجہ۔ دارمی) اور کم مہر باعث خیر و برکت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نکاح بہت برکت والا ہے جس میں کم خرچ ہو۔ “ (بیہقی)
کیا بغیر مہر کے نکاح ہو سکتا ہے ؟:
ہو جائے گا لیکن نکاح کے بعد مہر مثل دینا پڑے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واثق کے لئے یہی فیصلہ کیا تھا کہ نکاح کے وقت ان کا مہر مقرر نہیں ہوا تھا اور بغیر رخصتی خاوند کا انتقال ہوگیا۔ آپ نے فرمایاان پر عدت ہے وارث بھی ہوں گے۔ اور مہر مثل کی مستحق بھی ہونگی۔ (ترمذی)۔
مہر مثل سے کیا مراد ہے اور مہر کی کتنی قسمیں ہیں؟:
خاندانی مہر کو مہر مثل کہتے ہیں جو اس کی خاندان کی (ماں، دادی، نانی، خالہ، پھوپھی ، بہن وغیرہ) کے لیے ہے اور مہر کی تین قسمیں ہیں:
(۱) موجل کہ اس کی ادائیگی کے لئے کوئی خاص وقت مقرر نہیں کیا ہے۔
(۲) معجل جو خلوت سے پہلے ادا کرنا طے ہوا ہو۔
(۳) مطلق جس میں تاجیل ، تعجیل کی کوئی شرط نہ ہو۔
کیا مہر کا ادا کرنا ضروری ہے؟:
ادا کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جن عورتوں سے نکاح کر کے تم نے فائدہ اُٹھایا تو جو مہر تم نے ٹھہرایا ہے وہ ان کو دے دو ۔ (النساء)
اور فرمایا: ”عورتوں کے مہر خوشی سے ادا کردو اور اگر وہ اپنی مرضی سے معاف کر دیں تو تمہارے لئے اس کا کھانا بالکل جائز ہے۔“(النساء)
اگر بلا مہر مقرر ہوئے اوربغیر ہاتھ لگائے طلاق دے دو تو کتنا مہر دیناپڑے گا؟:
اگر بلا مہر مقرر ہوئے نکاح ہوا تھا اور بلا ہم بستری کے طلاق دے دی گئی تو مہر کا دینا ضروری نہیں ہے اور نہ عورت مہر کی مستحق ہو سکتی ہے۔ البتہ اس نسبت کی وجہ سے مرد ایک جوڑا کپڑا عورت کو دے دے اور اگر مہر مقرر ہوا تھا اور بغیر ہم بستری کے طلاق دی تو آدھا مہر دینا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اگر تم عورتوں کو بغیر ہاتھ لگائے اور بغیر مہر مقرر کئے طلاق دے دو تو بھی تم پر گناہ نہیں ہے۔ ہاں ان کو کچھ فائدہ کی چیز دے دو۔ وسعت والا اپنے اندازے سے اور تنگدست اپنی طاقت کے موافق دستور کے مطابق ، بھلائی کرنے والوں پر ضروری ہے اور اگر تم عورتوں پر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو اور تم نے ان کا مہر بھی مقرر کیا ہے تو مقررہ مہر کا آدھا مہر دے دو مگر یہ کہ وہ خود ہی معاف کر دیں یا وہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ “ (البقرہ)
اگر کوئی کسی عورت سے نکاح کرے (کم یا زیادہ مہر پر) لیکن اس کی نیت مہر کے ادا کرنے کی نہیں ہے تو وہ کیسا ہے؟:
حدیث میں ایسے کوزانی کہا گیا ہے۔ (الطبرانی)

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں نکاح کی اہمیت