imran-khan-kashmir

کشمیر میں 80لاکھ لوگ محصور ہیں ،ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء تک نہیں ہیں:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیر اعظم عمران خان نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب میں وزیراعظم بنا تو پہلی کوشش تھی کہ بھارت سے اچھے تعلقات ہوں، بھارتی وزیر اعظم کو پہلا پیغام دیا کہ ایک قدم بڑھاؤ ہم دو قدم بڑھائیں گے، ان سے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے، ہمارے درمیان صرف ایک مسئلہ ہے وہ ہے مسئلہ کشمیر اس کو بیٹھ کر بات چیت سے حل کرتے ہیں لیکن وہاں سے ایسے ہو رہا تھا جیسے کوئی سپر پاور ہو اور دوسری جانب وہ کسی غریب ملک سے بات کر رہے ہوں۔ پہلے یہ ایکشن لیں پھر وہ ایکشن لیں ۔ حالانکہ ان کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ موسیمیاتی تبدیلی کے کس بڑے چیلنج کا سامنا ہونے والا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی مسئلہ جنگ سے حل نہیں ہوتا، احمق سے احمق ترین آدمی بھی جانتا ہے کہ جنگ مسئلوں کا حل نہیں ہوتی۔اس سے ایک مسئلہ حل ہوتا ہے تو چار اور پیدا ہو جاتے ہیں۔بدقسمتی سے آر ایس ایس کی حرکتیں انسانیت کے خلاف ہیں۔ کوئی گائے لے جارہا ہے یا گوشت کھا رہا ہے اسےقتل کر دیا جاتا ہے کیا کوئی دین اس کی اجازت دیتا ہے۔نہیں ،ہندو دین بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انسانی معاشرے میں اور جانوروں کے معاشرے میں فرق صرف رحم کا ہوتا ہے ۔ورنہ جانور بھی آتے ہیں بچے پیدا کرتے ہیں اور مر جاتے ہیں لیکن انسانی معاشرے میں رحم ہوتا ہے لیکن بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں 28 روز سے کرفیو نافذ کر رکھا ہے، 80 لاکھ افراد محصور ہیں ، لوگوں کے پاس ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء تک نہیں ہیں۔اگر رحم ہوتا تو کیا یہ کیا جاتا ۔ بھارت میں آج اقلیتوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے مجھے اس پر خوف ہے، جس طرف آر ایس ایس بھارت کو لے کر جارہی ہے اس کے اندر کسی کی جگہ نہیں۔ آج بھارت میں 20 کروڑ مسلمان خوفزدہ ہیں، ان پر بھی کشمیریوں کی طرح مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ یہاں رکے گا نہیں، دیگر اقلیتوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ‘سب کو آر ایس ایس کے اس نظرئیے کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے، ہم دو جوہری طاقت رکھنے والے ممالک ہیں، اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو اس سے دنیا کو خطرہ ہے، ہماری طرف سے کبھی کشیدگی بڑھانے میں پہل نہیں ہوگی، اگر کشمیری مسلمان نہ ہوتے تب بھی ہم وہاں کے حالات پر آواز بلند کرتے۔
وزیراعظم عمران خان نے دنیا بھر سے پاکستان آنے والے سکھوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ‘ ہماری حکومت ویزا کی فراہمی کا عمل آسان بنا رہی ہے، پاکستان آنے والے سکھوں کو ملٹی پل ویزے دیں گے اور کوشش کریں گے کہ آپ کو ایئرپورٹ پر ہی ویزا مل جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  ماسک نہ پہننے پر لاہور میں پہلا مقدمہ درج، پنجاب میں کورونا کی صورتحال تشویشناک