Neuclear Jang

کیا جنگ کے نتائج جانتے ہو؟

EjazNews

بڑی عالمی طاقتیں انسانی حقوق کی باتیں تو خوب بڑھ چڑھ کر کرتی ہیں، لیکن مہلک ترین ہتھیاروں کی صنعت سے اربوں ڈالرز بھی کماتی ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد سے یورپ اور امریکہ خود تو امن کی راہ پر چل رہے ہیں، لیکن باقی دنیا میں تنازعات پیدا کرکے قتل و غارت کو ہوا دیتے ہیں، اُن کی فیکٹریاں دھڑا دھڑ اسلحہ فروخت کررہی ہیں۔ امریکی سامراج نے نائن الیون کے بعد مسلم دنیا کے خلاف جو پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے، اس کے لیے پہلے پہل یہ جواز تراشا گیا کہ ’’عراق میں تباہ کن ہتھیاروں کے انبار ہیں، لہٰذا اس سے پہلے کہ وہ دنیا کو تباہ کرے، ہم عراق کو آمریت سے بچا کر امن کی راہ پر لائیں گے‘‘، یوں مشرق وسطیٰ کو ایک ایسی جنگ میں جھونک دیا گیا، جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔اسی طرح مودی سرکار نے بھی جنوبی ایشیا کے اربوں انسانوں کو خطرات میں دھکیل دیا ہے۔ وہ’’کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن‘‘ کے ذریعے پاکستان کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن پاکستانی فضائیہ، نیوی اور بری فوج کے بروقت اقدام سے بھارت کی اقوامِ عالم میں سفارتی اور جنگی، دونوں محاذوں پر سبکی ہوئی۔اس کے جہازوں کو پاکستانی فضائیہ نے گرایہ، اس کا پائلٹ گرفتار ہوا، بھارتی جاسوس پاکستان میں قید ہے۔ عالمی عدالت سے رسوائی ہوئی۔
بھارت کی عالمی سطح پر جانی پہچانی ناول نگار اور سوشل ورکر، ارون دھتی رائے لکھتی ہیں’’بھارت میں گزشتہ ایک عشرے میں 5لاکھ کسانوں نے مالی تنگی اور بھوک و افلاس سے بے زار ہوکر خودکشی کرلی‘‘۔ ایک طرف غربت کا یہ عالم ہے اور دوسری طرف جنگی جنون میں مبتلا بھارتی قیادت اربوں ڈالرز کا اسلحہ خرید رہی ہے۔ وہاں طبقاتی تقسیم سے آگاہی کے لیے ڈاکٹر مبارک علی کا صرف یہ جملہ کافی ہے کہ ’’ اگر اچھوت، برہمن کے اشلوک سن لے، تو اُس کے کانوں میں کھولتا تیل ڈالا جاتا ہے۔‘‘ ارون دھتی رائے کہتی ہیں کہ’’کشمیر، تاریخی طور پر کبھی بھی بھارت کا حصّہ نہیں رہا۔‘‘ پنڈت نہرو نے استصواب رائے کا اعلان کیا تھا، لیکن مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی مزاحمتی تحریک دبانے کی خاطر سات لاکھ فوج کے ذریعے قتل و غارت کی بدترین تاریخ رقم کردی۔ ظاہر ہے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے اور مسلم اقلیت تو خاص طور پر نشانے پر ہے، مگردنیا یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود لب سیے ہوئے ہے۔
گجرات میں نریندر مودی نے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی، جس پر امریکہ نے اُن کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگادی تھی، مگر آج وہی نریندر مودی، ایشیا میں امریکہ کا سب سے بڑا حاشیہ بردار ہے۔ پھر دورنگی دیکھیے، بھارت میں گائے کو مقدس تصور کیا جاتا ہے، مگر ہندو سیٹھ اس کے گوشت کے کاروبار سے لاکھوں ڈالرز کماتے ہیں، دوسری جانب، گاؤ ماتا کی آڑ میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا گیا ہے۔ بھارت اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے اور سیاسی فوائد کے حصول کے لیے اپنے عوام میں پاکستان کے خلاف جنگی جنون پیدا کر رہا ہے، لیکن اب اُس کا منفی پروپیگنڈا اور کشمیر میں پُرتشدد کارروائیاں میڈیا کے ذریعے دنیا پر آشکار ہوچکی ہیں۔کشمیر کی تحریک اب ایک عالمگیر تحریک ہے جس میں دنیا بھر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔بھارت کا یہ جنون خود بھارت کے لیے بھی خطرناک ہے کہ وہاں آسام، تری پورہ اور نکسل باڑی وغیرہ میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں، جن کا ہراول دستہ کشمیریوں کی تحریک آزادی ہے۔ نیز، خالصتان کی خاموش تحریک کسی بھی وقت آتش فشاں بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، آبادی کا بم اور غربت بھی اس کے لیے سنگین خطرے کا الارم ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کے وزیر اعظم ،آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے لیے مختلف منصوبوں کے اعلانات کررہے ہیں، نیلم وادی میں بدھ مت اور ہندومت کے مذہبی مقامات ہیں۔
بھارت میں ایک ارب 30کروڑ آبادی میں سے صرف 50کروڑ’’ آسودہ آبادی‘‘ کی مارکیٹ ہے۔ بھارت کے نوبل انعام یافتہ معیشت دان، امرتاسین اور دیگر کا کہنا ہے کہ ’’بھارت کے چار بڑے مال دار ترین ارب پتیوں کی دولت، 80کروڑ افراد سے زیادہ ہے۔‘‘ وہاں خواتین کے ساتھ دلت ذات کے لوگوں سے بھی زیادہ بُرا سلوک کیا جاتا ہے اور اس موضوع پر عالمی سطح پر بھی بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔یہاں تک کہ اگر ماں کے پیٹ میں بچّی ہو، تو اُسے پیدائش سے پہلے ہی مار دیا جاتا ہے۔ انگریزوں نے بھارت کی ایک قدیم رسم پر پابندی لگا دی تھی، لیکن اب بھی کہیں نہ کہیں یہ رسم جاری ہے، جس کے مطابق شوہر کے مرنے پر بیوی کو دلہن بنا کر، ہار سنگھار کرکے شوہر کے ساتھ جلا دیا جاتا ہے، اس رسم کو ’’ستی‘‘ کہتے ہیں۔ اس میں پنڈتوں اور پرہتوں کا فائدہ ہے کہ خاتون کے جلنے کے بعد راکھ سے ملنے والا سونا انھیں ملتا ہے۔

انڈین وزیراعظم مودی نے بدحواسی میں کوئی احمقانہ حرکت کی اور اندازے بھی غلط ہوگئے، تو پھر تاریخ کا سب سے زیادہ انسانی نقصان ہوگا۔ دور دور تک دھواں ہی دھواں ہوگا اور اس کے اثرات دنیا بھر پر مرتب ہوں گے۔ اس لیے ہوش کے ناخن لیے جائیں، تو بہتر ہے ۔ بھارت کے جنگی جنون کو لگام نہ دی گئی، تو اس سے صرف دنیا بھر کی معیشت ہی متاثر نہیں ہوگی بلکہ خطے کے معاشی حالات بھی ابتر ہوجائیں گے۔ بھارت میں جن ممالک نے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، وہ جنگ کے لیے نہیں ہے، بدامنی کی صورت میں یہ سرمایہ کاری واپس بھی جا سکتی ہے۔
برٹرینڈرسل نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ’’ سرمایہ داری جب زوال پذیری کی طرف جاتی ہے، تو جنگ ناگزیر ہوجاتی ہے۔‘‘ اس جنگ کو فلاسفر نے’’ ابلیسی باغ کا بدبودار پھول‘‘ کہا ہے۔ جنگ کے بعد دنیا کی ازسرنو تقسیم کی جاتی ہے اور ایک نیا سامراج کھڑا ہوجاتا ہے، جیسے دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانوی سامراج کے خاتمے پر امریکی سامراج اُبھرا۔ اس لیے اس مرتبہ اور خاص طور پر ڈیجیٹل عہد میں جنگ ہوئی، تو کوئی فاتح ہوگا اور نہ مفتوح ہوگا۔ بھارتی چینلز پر بچگانہ باتیں کرنے والوں نے ابھی جنگ کی ہول ناکیاں نہیں دیکھیں، اس لیے جنگی جنون کو ہوا دی جارہی ہے۔1945ء کے بعد جنگ کی ہولناکیاں دیکھ کر یورپ اور امریکہ میں امن کو بنی نوع انسان کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا اور اب یورپ کی اقوام 75سال سے پُرامن طور پر زندگی بسر کررہی ہیں، لیکن امریکی اور یورپی ممالک نے اسلحہ سازی سے تیسری دنیا کو جنگوں میں الجھا رکھا ہے۔
پاکستان تو ہمیشہ بات چیت سے مسائل کے حل بات کرتا رہا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کب سبق سیکھ کر مذاکرات پر آمادہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پیسے سے سب کچھ نہیں خریدا جاسکتا -عرب میڈیا نے بھارت کا بھانڈہ پھوڑ دیا