kashmir

ہندوستان کامیڈیا اور کشمیر

EjazNews

کشمیر سے متعلق ہندوستان کے قومی پریس اور پریس کے تیئس سرکاری پالیسی کا اصل چہرہ جنوری 1990ءکے آخری عشرے میں اس وقت بے نقاب ہوگیا۔ جب آپریش سرچ کے نام سے ہندوستان کے مسلح فوجی دستے کشمیری عوام پر بلائے بے درماں اور قہر بے اماں بن کر نازل ہوئے۔ چھ روز کے مختصر عرصے میں تقریباً سات سو افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ہندوستان کے ذرائع ابلاغ نے صرف 35افراد کے ہلاک ہونے کی خبر دی۔ 21-22 اور 23جنوری کو چند اخبارات نے تقریباً نوے ہلاکتوں کی خبر شائع کی لیکن دو روز بعد گورنر کشمیر کی جانب سے جاری کر دہ اعلامیے میں صرف 28 جانوں کا زیاں تسلیم کیا گیا۔ وہ اخبارات جو دو دن پہلے اپنے ذرائع معلومات کے مطابق تقریباً نوے افراد کی ہلاکت کی خبر دے چکے تھے، گورنر کے اعلامیے کے بعد 35اموات کی تصدیق پر واپس آگئے۔
فرقہ وارانہ فسادات میں ایک سو مسلمان شہید ہوں تو پچاس اور پچاس ہندو مارے جائیں تو ایک سو کی تشہیر ہندوستان کی قومی پریس کی خصوصیت ہے لیکن کشمیر میں سا ت سو افراد کو 35یعنی پانچ فیصد مشتہر کر کے ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے کفایت شعاری کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کے عوام کی سیاسی تربیت اور مسلسل پروپیگنڈے کے نتیجے میں کشمیر ہندوستان کے قومی مفادات کا جزو بن چکا ہے۔ یہ بات آپ بخوبی جانتے ہیں کہ موجودہ سیاسی اخلاقیات میں حق و انصاف کے بجائے قومی مفادات کو زیادہ اہمیت حاصل ہے اور ہندوستان کے تصور قومیت کے مطابق قومی مفادات کا مطلب ہندو مفادات ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کو ہندوستان کے ساتھ ضم کر کے ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کے قیام کا برہمنی تصور ہندوستانی قومیت کا جزو لاینفک ہے۔ظاہر ہے کہ کشمیر بھی اس کا ایک حصہ ہے اس لیے ہندوستان سے کشمیرکی علیحدگی اس کے قومی مفاد کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر حزب اختلاف کی جماعتوں سے لے کر حکمران جماعتوں تک سے تعلق رکھنے والے تمام اخبارات و رسائل متحد نظر آتے ہیں۔ ان اخبارات و رسائل کے درمیان فکر و نظر کا جزوی اختلاف تو موجود ہے لیکن مسئلہ کشمیر کو قومی مفادات کا حصہ مان کر اس کی پاسداری ہندوستان کے اخبارات و رسائل کی بنیادی کمنٹ ہے۔ اس لیے مسئلہ کشمیر اور کشمیر کے معاملات کے لیے حکومت کی جو بھی پالیسی ہوتی ہے، اخبارات و رسائل اس کا احترام کچھ بڑھ چڑھ کر ہی کرتے ہیں۔
بلاشبہ ہندوستان میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی چند ایسی قوتیں ہیں جو ہندو جارحیت سے مکمل طور پر متفق نہیں تاہم ہندوستان کے توسیع پسندانہ عزائم اور اس کے سپر پاور بننے کے خواب میں وہ بھی شریک ہیں۔ اس لیے فی الحال بائیں بازو کی لادین طاقتیں اور دائیں بازو کی اکھنڈ بھارت کی علمبردار ہندوفسطائی قوتیں توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کی حد تک متحد ہیں۔ دونوں کے درمیان اصل تصادم اس وقت شروع ہو گا جب توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل اور اکھنڈ بھارت کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے لگے گا اور ان دونوں قوتوں کا وہ ممکنہ تصادم اکھنڈ بھارت کے مذہبی یا لا مذہبی کر دار کے مسئلہ پر ہوگا۔ ظاہر ہے ہر دو صورتوں میں اسلام کے لیے کوئی گنجائش نہ ہوگی۔
مسئلہ کشمیر کے تعلق سے بائیں بازو کی لادین قوتیں اور اکھنڈ بھارت کی علمبردار طاقتیں عالمی حمایت حاصل کر سکتی ہیں اور موجودہ عالمی نظریہ سیاست میں اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ ایک مسلم ممالک کو چھوڑ کر پوری دنیا مذکورہ دونوں طاقتوں کی حمایت کرے گی۔ اس لیے جہاد کشمیر کو سیکولر ازم کا جامہ پہنانے کا مشورہ دینے والے اگر ہندوستان کے نظریہ قومیت اور عالمی سیاسی منظر نامے پر غور کرتے ہوئے ہندوستان کی دائیں اور بائیں بازو کی طاقتوں کے عزائم کا مطالعہ کریں تو ان کے سامنے جہاد کشمیر کے اسلامی کر دار کی اہمیت واضح ہو جائے گی۔
ہندوستان کے معاشرے کی اس نظریاتی تفہیم کے بعد یہ بات بہت آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے کہ ہندوستان کا قومی پریس واضح طور پر مذکورہ دو عناصر کے زیر اثر ہے اور بلا کسی اختلاف کے مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کے اجتماعی موقف کا محافظ اور پاسبان ہے۔ کشمیر سے متعلق پالیسی سازی میں چونکہ دائیں اور بائیں دونوں بازوئوں کا مشترکہ دماغ کام کرتا ہے اس لیے کشمیر سے متعلق ہندوستانی موقف ان کی متحدہ کاوشوں کا ثمر اور ان کے مستقبل کے عزائم کا حصہ ہے اور ہندوستان کا قومی پریس ان عزائم کی تکمیل کے لیے ملکی اور عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کا فریضہ انجام دیتا ہے۔
بھارتی ’’کشمیر پالیسی‘‘ سے قومی پریس کی ہم آہنگی:
مسلح جدو جہد کی ابتداء میں ہندوستان کی وفاقی حکومت کے لیے یہ ضروری ہوگیا تھا کہ وادی کشمیر کا انتظام عملاً فوج کے سپرد کر دیا جائے لیکن ایک کٹھ پتلی منتخب حکومت بھی قائم رہے جس کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلائی جاسکے۔
ماضی میں ہندوستان کی نو منتخب حکومت کے وزیراعظم وی ۔ پی ۔ سنگھ اور ان کے ساتھ برسر اقتدار آنے سے پہلے بارہا مطالبہ کر چکے تھے کہ انتخابات میں دھاندلی کے نتیجے میں بننے والی فاروق عبداللہ سرکار کو معزول کیا جائے۔ لیکن جب وی ۔ پی۔ سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے اقتدار ہاتھ میں لیا تو بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے عناصر کے نزدیک ریاست میں نام نہاد جمہوری سرکار کا وجود ضروری ہوگیا اس لیے انہوں نے اپنے گزشتہ موقف کو فراموش کرتے ہوئے دھاندلی سے قائم کی گئی فاروق عبد اللہ سرکار کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا۔ دوسری طرف دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے عناصر سخت گیر جگ موہن (جو دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام کا ریکارڈ قائم کر چکا تھا اور ریاست کشمیر میں بھی اس کا ظالمانہ ریکارڈ کافی ’’روشن‘‘ تھا) کو دوبارہ گورنر بنانے پر مصر تھے۔ لہٰذا نو منتخب ہندوستان سرکار نے جگ موہن کی گورنر ہائوس میں واپسی اور فاروق عبد اللہ سرکار کے قائم رکھنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ دائیں اور بائیں بازو کی مشترکہ پالیسی کے تحت ماضی میں ہندوستانی پریس کے نشانہ تنقید۔ فاروق عبداللہ۔ کی حکومت قائم رکھنے کے لیے دلائل تراشے جانے لگے اور غیر محسوس طور پر ان کی image Makingکا کام شروع کر دیا گیا۔

برہان وانی شہید نےنوجوانوں میں آزادی کی ایک نئی امنگ پیدا کی

فاروق عبد اللہ اگر ’’آپریشن سرچ‘‘ کی بدنامی سے بچنے کی خاطر میدان چھوڑ کر نہ بھاگتے تو کشمیر میں جمہوری ڈرامے کے پردے میں ہندوستان کے مفادات کی بخوبی حفاظت ہوتی رہتی ہے۔ فاروق عبداللہ کے میدان چھوڑ کر بھاگ جانے سے اب تمام کارروائی دائیں بازو والوں کی خواہش ہو رہی ہے۔
پندرہ روزہ India Today( دہلی) (۱) نے جو اپنے سیاسی تجزیوں کے لحاظ سے فاروق مخالف سمجھا جاتا تھا، یہ تاثر عام کیا ہے کہ فاروق عبد اللہ کو جس عظیم اکثریت نے منتخب کیا تھا وہ معاشی محاذ پر ان کی ناکامی کی سبب ناراض ہوگئی ہے۔ لہٰذا اگر بہتر معاشی پالیسی رو بعمل لائی جاتی تو عوام دوبارہ ان کے قریب ہوجائیں گے۔ یہ تاثر ہندوستان کی نو منتخب مشترکہ حکومت کے اہم ستون۔ بائیں بازو کی فکر کے مطابق تھا۔ دوسری طرف دائیں بازو کی پیش کردہ تجویز کے مطابق جگ موہن کو واپس بلایا گیا تو اسی پرچے نے گورنر جگ موہن کی معصومیت کے چرچے عام کرنے شروع کر دئیے۔ India Today کی اس پالیسی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہندوستانی پریس قومی مفاد کے پیش نظر وضع کی گئی مشترکہ پالیسی کا پروپیگنڈا کرنے والی مشین کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
ہندوستان کی ’’کشمیر پالیسی‘‘:
ہندوستانی قیادت زبانی طور پر خواہ کچھ بھی جمع خرچ کرتی رہی ہو حقیقت یہ ہے کہ اس نے 1947ء میں مسئلہ کشمیر کو حل شدہ سمجھ لیا تھا اس لیے ہندوستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسی کے جو بھی تشکیلی عناصر رہے ان میں مسئلہ کشمیر کی حقیقت کو چھپانے کی کوششیں کی گئیں تاکہ ایک عرصے تک حقیقت سامنے نہ آنے کے نتیجے میں ملکی و عالمی رائے عامہ مسئلے کو مکمل طور پر بھول جائے اور اگر کشمیر میں کبھی آزادی کے لیے کوئی عوامی اضطراب پیدا ہو تو اسے پاکستان کی شرارت یا عوام کے معاشی و معاشرتی مسائل سے پیدا شدہ ایک ناخوشگوار جھونکا سمجھا جائے۔ اس صورت میں اقوام عالم مسئلہ کشمیر سے ناواقفیت کی بنیاد پر کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو محض شور شرابہ سمجھ کر یا تو نظر انداز کر دیں گی یا اس سے نفرت کرنے لگیں گی۔
ہندوستان کا قومی پریس روز اول سے اس سرکاری پالیسی کے مطابق مسئلہ کشمیر کے وجود اور اس کے قانونی، انسانی اور اخلاقی جواز کو چھپاتے ہوئے اس پر سماجی و معاشی مسائل کی ملمع کاری میں مصروف ہے۔ نیو یارک میں قائم India League of Americaکے ترجمان India Today (۲) نے اکتوبر 1947ء کی اشاعت میں امریکی عوام کو قبائلیوں کے بھیس میں دس ہزار مسلح پاکستانیوں کے ہندوستان گھس آنے کی خبریں سنا کر پاکستان کے خلاف اور ہندوستان کے حق میں رائے عامہ ہموار کی تھی۔ اس پر مستزاد اس رسالے کے ایڈیٹر نے ہندوستان سے کشمیری عوام کی الفت و محبت کے فرضی قصے عام کیے۔
چالیس سال کے عرصے میں کشمیر میں جتنے بھی سیاسی ہنگامے ہوئے، ہندوستان کے قومی پریس نے کسی موقع پر بھی مسئلہ کشمیر کی معقولیت کا جائزہ نہیں لیا اور اب جب کہ حکومت ہند اقوام عالم سے اس مسئلے کی حقیقت پوشیدہ رکھنے کے لیے اس عوامی بغاوت کو صرف سماجی اور معاشی اضطراب کہہ رہی ہے تو قومی پریس، تجزیہ نگار اور دانشور ان قوم بڑی چالاکی سے حکومت ہند کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کو معاشی اضطراب کا لبادہ پہنانے میں مصروف ہیں۔ قومی پریس میں یہ تاثر دینے میں مصروف ہے کہ کشمیری عوام بنیادی طور پر ہندوستان کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ریاست میں موجود اضطراب ریاستی حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور معاشی ناآسودگی کے خلاف اظہار نفرت ہے۔
اس ضمن میں یہ حقیقت بھی مدنظر رکھی جائے کہ 1983ء میں کشمیر کے گورنر جگ موہن نے دہلی حکومت سے کشمیر کے سیاسی حالات کو نظر انداز کر کے معاشی حالات کو بہتر بنانے کی درخواست کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  با تیں قائد اعظم ؒکی
کشمیر میں ظلم و ستم کی انتہا ہے

جب کشمیر اسمبلی اور وادی کے گلی کوچوں میں آزادی کی گونجتی صدا نے ہندوستانی حکمرانوں کے نزدیک بھولے بسرے مسئلہ کشمیر کی طرف ملکی و عالمی ذہن مائل کیے تو قومی پریس کے لیے اس صورت حال کو نظرانداز کر دینا ممکن نہ رہا ۔ مگر رپورٹنگ میں جانبداری برتی گی اور اس پر مستزاد اداریوں میں خوب خوب ہاتھ کی صفائی دکھائی گئی۔ 3مارچ 1989ء کی اشاعت میں کشمیر ٹائمز (سری نگر) نے مسئلے کو حل طلب کہنے والوں اور حق خود ارادی کے طالبوں کو یہ کہہ کر مورد الزام ٹھہرایا کہ یہ لوگ جب کرپشن، انتظامیہ کی بدعنوانی، معاشی ناآسودگی ، بے روزگاری اور اقرباء پروری جیسے بڑے مسئلے حل کرانے میں ناکام رہے تو عوام سے منہ چھپانے کے لیے مسئلہ کشمیر کی آوازیں بلند کرنے لگے ہیں تاکہ عوام اپنے بنیادی مسائل بھول جائیں۔
تاریخ مسخ کرنا:
مسئلہ کشمیر کی حقیقت دنیا کے ذہن سے محو کر دینے کے لیے تاریخی حقائق کی پردہ پوشی یا ا نہیں مسخ کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ ہندوستانی اخبارات و رسائل یا تو مسئلہ کشمیر کے تاریخی حقائق سے بالکل ہی نگاہیں پھیر لیتے ہیں یا غیر جانبدارانہ انداز میں حقائق پیش کرنے کی بجائے مسخ شدہ تاریخ نقل کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید احتیاط برتتے ہوئے تاریخی تسلسل سے حسب منشاء واقعات حذف کر دئیے جاتے ہیں۔ پندرہ روزہ (الٰہ آباد) الحاق کشمیر کی تاریخ اس طرح بیان کرتا ہے۔
’’وادی کے 94فیصد مسلم عوام نے تاریخ کشمیر کے نازک لمحات میں ہندوستان سے الحاق کر کے پاکستانی حملے کے مشکل ایام میں ہندوستان سے مدد لی تھی اور اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستانی حملہ آوروں کو بے یارومددگار کر کے نکال دیا تھا۔‘‘
اسی مضمون میں دستاویز الحاق میں حق خود ارادیت سے متعلق دفعہ کی شمولیت کا پس منظر اس طرح بیان کیا گیا ہے:
’’مقامی لوگوں نے چونکہ پاکستانی حملہ آوروں کی مدد نہیں کی تھی اس لیے جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل کویقین ہوگیا تھا کہ اگر وادی کشمیر میں ریفرنڈم کرایا جائے تو نتیجہ بہر حال ہندوستان کے حق میں ہوگا۔ اس لیے انہوں نے یہ شرط لگا دی تھی۔‘‘
اکتوبر 1947ء کے آخری عشرے کی تاریخ سے واقف حضرات مذکورہ بالا الفاظ کی مضحکہ خیزی کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ مضمون نگار مزید معلومات کا مظاہرہ اس طرح کرتا ہے کہ اس وقت الحاق کوئی مسئلہ نیں تھا، مسئلہ انضمام کا تھا لہٰذا مہاراجہ کشمیر نے چند شرائط کے ساتھ ریاست کو ہند یونین میں ضم کر دیا۔
مضمون نگار تضادات کا شکار ہے۔ اگر اکتوبر 1947 ء میں کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ انضمام ہواتھا تو دستاویز الحاق اور اس میں حق خود ارادیت کی دفعہ کی شمولیت کا مطلب کیا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہند یونین میں 525ریاستوں کا انضمام 1952ء میں ہوا ہے نہ کہ 1947ء میں مضمون نگار مزید لکھتا ہے کہ
’’ہنگامی طورپر انتظام کے لیے شیخ محمد عبد اللہ کو لایا گیا اور شیخ صاحب کے انتظام سنبھالتے ہی ریاست کی راجدھانی دہلی سے سری نگر منتقل کر دی گئی جس سے جموں کے ہندوئوں کو صدمہ ہوا۔‘‘
حیرت ہے کہ مضمون نگار کو اس تاریخی حقیقت کا بھی علم نہیں کہ راجہ کے دور ہی میں راج دھانی سری نگر اور جموں دونوں جگہ پر تھی۔ لازمی طورپر ہندوئوں کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے یہ افسانہ اختراع کیا گیا ہے۔
تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ایک اور ماہرانہ کوشش پر نظر ڈالتے جائیے۔ ہندی ہفت روزہ ’’چوتھی دنیا‘‘ ہندوستان میں انسانی حقوق کا علم بردار خیال کیا جاتا ہے اور اسے کئی مرتبہ حکومت کی طرف سے حق گوئی کی سزا بھی مل چکی ہے مگر کشمیر کے سلسلے میں ’’چوتھی دنیا‘‘ سرکاری موقف کی پیروی کرتا نظر آتا ہے۔ اس کے ایک مضمون نگار سنجیو کمار سنہا کشمیری عوام کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
’’لوگ یہ نہیں بھول سکتے کہ آزادی کے لیے کشمیری عوام نے بھارت واسیوں کے کندھے سے کندھا ملا کر برطانوی سامراج کے خلاف بغاوت کا بگل بجایا تھا اور حصول آزادی کے فوراً بعد پاکستانی حملہ آوروں کو سرحد سے نکال باہر کیا تھا۔ ‘‘
مذکورہ بیان یا تو کشمیر کی تاریخ سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے یا صریحاً غلط بیانی۔ تحریک آزادی کشمیر وہاں کے ہندو راجہ کے خلاف تھی نہ کہ برطانوی حکومت کے خلاف ۔ مضمون نگار نے جوانداز اختیار کیا ہے اس سے کانگریسیوں ، راجہ اور شیخ عبد اللہ کی باہمی سازش اور 1948ء میں شیخ عبد اللہ انتظامیہ اور ہندوستانی فوجوں کی طرف سے کشمیری عوام پر ڈھائے گئے مظالم کی پردہ پوشی ہو جاتی ہے اور ہندوستان حکومت کا مقصد بھی یہی ہے۔
حقائق کی پردہ پوشی کی ایک اور مثال لیجئے۔ ٹائمز آف انڈیا گروپ کے ہفت روزہ ’’دغان‘‘ نے فاروق عبداللہ کا مفصل شخصی خاکہ شائع کیا ہے۔ جس میں ان کے لندن کے شب و روز ، شادی اور بیوی بچوں کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا ہے لیکن کشمیر لبریشن فرنٹ سے ان کے تعلق تذکرہ غائب کر دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے فاروق عبد اللہ کی موجودہ حب الوطنی کا فائدہ اٹھانے کے لیے ان ناگوار ایام کا تذکرہ سرکاری پالیسی اور قومی مفاد کے منافی ہے۔ 1987ء کے انتخابات میں دھاندلی کی وجہ سے بیشتر اخبارات فاروق عبداللہ کے مخالف تھے۔ لیکن جب فاروق عبد اللہ کی کٹھی پتلی حکومت کی بقاء قومی مفاد کے لیے ناگزیر ہو گئی تو سارا ہندوستانی پریس خود وزیراعظم ہند کی طرح 1987ء کی دھاندلیاں بھول گیا۔ قومی مفادات کے تحت کشمیری معاملات سے متعلق پریس کے کمزور حافظے کی ان گنت مثالیں مل سکتی ہیں۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں:  قائداعظم محمد علی جناحؒ کی دور اندیشی

شہاب ثاقب