imran khan

مقبوضہ کشمیر میں آر ایس ایس کے غنڈے دہشت گردی کر رہے ہیں:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کی اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے کنونشن سے ویڈیو لنک کے ذریعے سے خطاب کیا جس میں ان کا کہناتھا کہ مغربی دنیا کو آر ایس ایس کے انتہا پسندانہ نظریات کو سمجھنا ہوگا، آزادی اظہار کا یہ مطلب نہیں کہ مذہبی جذبات کو مجروح کیا جائے۔ بھارت میں آر ایس ایس مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہی ہے۔ آر ایس ایس کی شروعات کیسے ہوئی وہ انٹرنیٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔ مودی کا بھارت گاندھی اور نہرو کے بھارت کے برعکس ہے، آج بھارت پر ایک انتہاپسندانہ نظریہ قابض ہو گیا ہے۔
وزیراعظم کا کہناتھا کہ بھارت میں مسلمانوں کو برابری کے حقوق نہیں مل رہے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگ کرفیو میں زندگی گزار رہے ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں میڈیا بلیک آئوٹ ہے۔ مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے، مقبوضہ وادی میں 26 روز سے کرفیو نافذ ہے، عوام طبی سہولیات سے محروم اور کمیونیکیشن کا نظام معطل ہے، مقبوضہ کشمیر کی قیادت کو حراست میں لیا گیا ہے اور ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔جبکہ مقبوضہ کشمیر میں آر ایس ایس کے غنڈے دہشت گردی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان نے سائوتھ افریقہ کو 308رنز کا ہدف دے دیا

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت پلوامہ جیسا کچھ دوبارہ کر سکتا ہے۔ وہ کشمیر سے توجہ ہٹا نے کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے کسی بھی ایکشن کا بھرپور جواب دیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ مغربی ممالک کبھی بھی ہماری محمد صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے محبت کو نہیں سمجھ پائیں گے۔ مسلمان اپنے نبی ﷺ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔ اسلام امن کا مذہب اور امن سے رہنے کا درس دیتا ہے، مسلمان ناصرف اپنے نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں بلکہ پہلے آئے تمام انبیائے کرام کا احترام کرتے اور اُن پر ایمان رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں لیکن نائن الیون کے بعد ہر واقعے کو اسلام سے جوڑا گیا، آزادی اظہار کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا جائے لیکن یورپ میں مسلمانوں کی مساجد پر بھی حملے ہوئے۔کیونکہ ہر مسلمان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کسی ایک شخص کے عمل کو پوری کمیونٹی سے نہیں جوڑا جا سکتا، نائن الیون سے پہلے تو تامل ٹائیگرز دہشت گرد حملے کرتے تھے۔ دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، کسی ایک شخص کے عمل کو مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:  گلگت بلتستان میں18اگست کو الیکشن ہوں گے