Hazrat umar

خلیفہ دوئم،مُراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

EjazNews

امیر المومنین،خلیفہ دوم ،مراد پیمبر ، عشرۂ مبشرہؓ کے بزم نشین،امام عادل، فاروق اعظم ، شہید منبر و محراب سیدنا حضرت عمر ؓ بن خطاب قریش کی مشہور شاخ بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا نام عمرؓ،لقب فاروق اور کنیت ابو حفص تھی۔ والد کا نام خطاب بن نفیل اور آپ کی والدہ کا نام خنتمہ تھا۔یہ عرب کےمشہور سردار ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں۔ آپؓ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت پر آنحضرت ﷺ سے مل جاتا ہے ۔قریش کی سفارت اور مقدمات کی ثالثی کا عہدہ آپؓ کے خاندان سے مخصوص و متعلق تھا۔ آغازشباب ہوا تو نسب دانی، تیر اندازی ،سپہ گری، پہلوانی اور خطابت میں خصوصی مہارت حاصل کی۔ انتہائی نڈر اور بہادر تھے اور اکثر عکاظ کے میلے میں اپنے کمالات کا مظاہرہ کرتے تھے، آپ ؓ کا شمار عرب کے ان چند افراد میں ہوتا تھا، جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ ذریعہ معاش تجارت تھا،چنانچہ اس ضمن میں حضرت عمرؓ نے عراق، شام اور مصر کے متعدد سفر کئے جن سے آپؓ میں تجربہ کاری اور معاملہ فہمی کے اوصاف میں نکھار پیدا ہوا۔نبوت کے چھٹے برس مشرف بہ اسلام ہوئے اور دربار رسالت سے ’’فاروق‘‘کا خطاب حاصل کر کے تاریخ عالم کی فقید المثال شخصیات میں داخل ہو گئے۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عمرؓ! قسم ہے اس ذات پاک کی، جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جب تمہیں شیطان کسی راستے پر چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے کو اختیار کر لیتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ کا مسلمان ہو جانا فتح اسلام تھا۔ان کی ہجرت ’’نصرت الٰہی‘‘ اور ان کی خلافت اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی۔
حضرت عمرؓ کے اسلام لانے سے قبل تقریباً چالیس افراد دولت اسلام سے فیضیاب ہوچکے تھے۔ آپؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں نےاعلانیہ خانہ کعبہ میں نماز ادا کی۔حضرت عمرؓ کو اسی جرأت پر ’’فاروق‘‘ کا لقب عطا ہوا۔تاریخ شاہد ہے کہ فاروق اعظمؓ کو سید عرب و عجم، رحمت دو عالم، خاتم النبیین، نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے اپنے رب کریم سے دامن دعا پھیلا کر مانگا تھا۔آپؓ کے قبول اسلام کے بعد اسلام کی شوکت و سطوت کا آغاز ہوا اور زمین و آسمان کے اہل حق شاداں و فرحاں تھے۔جو اپنے مرشد کریم ﷺکی نگاہ لطف و کرم کا تارا تھا، جسے آغوش نبوت نے بڑے اہتمام اور ناز سے سنوارا تھا۔ جس کی ہجرت اعلانیہ اور نصرت الٰہی سے معمور تھی۔جس کی زبان سے، حق گویا تھا۔ جس کے دل پر انوار الٰہی کا نزول ہوا کرتا تھا۔جس کا شمار عالم ، محدث ،مفسر اور مجتہد اکابر صحابہ ؓ میں تھا۔ جس کی نیکیاں آسمان کے ستاروں کے برابر اور جو چراغ اہل جنت ہے، جس کا وقار آسمان دنیا کا ہر فرشتہ کرتا ہو۔آپؓ کی صاحبزادی حضرت سیّدہ حفصہؓ کو حضور ﷺ کی زوجہ محترمہ اور مسلمانوں کی ماں(اُم المومنین) ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔
ایک روز سرکار دو عالم ﷺ گھر سے مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور آپ ﷺ کے ہمراہ دائیں بائیں ابو بکر ؓ وعمرؓ بھی تھے۔آپ ﷺ ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، اسی حالت میں آپﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ہم اسی طرح اٹھیں گے۔ (ترمذی)۔
ایک اور موقع پر حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کے دو وزیر آسمان والوں میں سے ہوتے ہیں اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہوتے ہیں، میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے جبرائیلؑ اور میکائیلؑ ہیں اور زمین والوں میں سے دو وزیر ابو بکرؓ و عمرؓ ہیں۔(ترمذی)
حضرت علیؓ کا ارشاد ہے، عمرؓ کے سوا کوئی شخص ایسا نہیں جس نے اعلانیہ ہجرت کی ہو۔جس وقت حضرت عمرؓ ہجرت کے ارادے سے نکلے،آپ نے تلوارکی میان شانے پر لٹکائی اور تیر پکڑ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا۔پھر وہاں موجود کفار قریش میں سے ایک ایک فرد سے الگ الگ فرمایا،تمہاری صورتیں بگڑیں،تمہارا ناس ہوجائے،ہے کوئی تم میں جواپنی ماں کو بیٹے سے محروم،اپنے بیٹے کو یتیم اور اپنی بیوی کو بیوہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، وہ آئے اور پہاڑکے اس طرف آکر مجھ سے مقابلہ کرے۔میں اس شہر سے ہجرت کررہا ہوں۔‘‘کفار کو آپ کا مقابلہ کرنے کی جرأت نہ ہوسکی۔
حضرت عمر ؓ بن خطاب سابقون الاولون ؓاور عشرہ مبشرہؓ میں شامل ہیں۔500پانچ سو سے زائد احادیث مبارکہ آپؓ سے مروی ہیں۔آپ ایک عظیم عادل حکمراں ،فاتح سیاست داں ومدبر اور منتظم بھی تھے۔ پیچیدہ فقہی مسائل میں آپ ؓ کی مجتہدانہ رائے تمام عقدے کھول دیا کرتی، یہ حرف آخر کی حیثیت رکھتی تھی۔آپؓ فصیح و بلیغ خطیب تھے اور سخن فہمی کا عمدہ ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ شعرا ئے عرب کے کلام پر تنقیدی نگاہ رکھتے تھے۔ آپؓ کے حکیمانہ مقولے آج بھی عربی ادب کی جان ہیں۔سیدنا حضرت عمرؓ کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں۔آپ کی فضیلت و برتری اور عظمتِ شان سے متعلق بہت سی احادیث مبارکہ وارد ہیں، آپؓ مرادِ رسولؐ ہیں۔آپﷺ نے فرمایا :(ترجمہ) ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ؓ ہوتے ‘‘۔(ترمذی)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کی فضیلت وبزرگی چار باتوں سے ظاہر ہے۔بدر کے قیدیوں کے سلسلے میں قتل کا حکم دیا گیا اور آیت مبارکہ نازل ہوئی(جس سے فاروق اعظمؓ کی رائے کی تائید فرمائی گئی)آپ نے ازواج مطہراتؓ کے پردے کی بابت اپنی رائے کا اظہار کیا جس پر آیت نازل ہوئی(یوں حضرت عمر ؓ کی تجویز کی وحی کے ذریعے تائید کی گئی)حضور پرنور ﷺ نے آپ کے متعلق دعا فرمائی کہ اے اللہ، عمر کو مسلمان بناکر اسلام کو غلبہ عطا فرما۔آپﷺ نے سب سے پہلے صدیق اکبر ؓ سے بیعت خلافت کی۔
آنحضرت ﷺاور آپﷺ کے اہل بیت اطہارؓ سے سیدنا عمرؓ والہانہ عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ جس کے ان گنت واقعات تاریخ و کتب سیرت کی زینت ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ میں آپ خاتم النبیین ﷺ کے انتہائی قریب اور مشیر خاص رہے اور تمام معرکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تمام غزوات میں نبی کریم ﷺ کے شانہ بشانہ رہے۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد خلافت میں بھی ان کے دست راست، مشیر اور قاضی رہے۔ خلیفۂ رسول ،افضل البشر بعد ازانبیاء سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ کے وصال کے بعد خلافت راشدہ کی باگ ڈور سنبھالی اور زندگی کے ہرشعبے میں اصلاحات کیں ۔ جن سے اقوام عالم ہمیشہ فیضیاب ہوتی رہیں گی۔ فاروق اعظم ؓنے اپنے مبارک دور میں بہت سی سیاسی، انتظامی، معاشی ، معاشرتی اور تمدنی اصلاحات ایجاد فرمائیں ان کو اولیات عمر ؓ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔جن میں سے کچھ یہ ہیں۔ بیت المال کا قیام، سن ہجری کا آغاز، امیرالمومنین کا لقب اختیار کیا، عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقرر کئے۔ فوجی دفتر ترتیب دیئے اور فوجی چھائونیاں قائم کیں۔ مردم شماری کرائی ،ملک کی پیمائش کا قاعدہ جاری کیا۔ جیل خانہ جات اور پولیس کا محکمہ قائم کیا۔ نہریں کھدوائیں، کئی شہر آباد کرائے، مثلاً کوفہ، بصرہ، فسطاط (قاہرہ) وغیرہ، رضا کاروں کی تنخواہیں مقرر کیں۔
خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں سیدنا عمر ابن خطاب ؓ نے فرمایا: ’’لوگو!مجھے تم سے آزمایا جارہا ہے اور تمہیں مجھ سے۔ میں اپنے پیش روئوں کے بعد تم میں جانشین بن رہا ہوں، جو چیز ہمارے سامنے ہوگی اُسے ہم شخصی طورپر انجام دیں گے اور جو چیز غائب ہوگی تو اس کے لیے قوی اور امین لوگوں کو مامور کریں گے۔جو اچھا کام کرے گا اس پر ہمارا احسان بھی زیادہ ہوگا اور جو بُرا کام کرے گا، ہم اُسے سزا دیں گے۔اللہ ہمیں اور تمہیں معاف کرے۔ ‘‘
اس کے بعد آپ نے اپنے مقرر کردہ عمال اورگورنروں سے مخاطب ہو کر فرمایا:’’یاد رکھو! میں نے تمہیں لوگوں پرحاکم اور جبار بناکر نہیں بھیجا کہ تم لوگوں پر سختی کرو،بلکہ میں نے تمہیں لوگوں کا امام بناکر بھیجا ہے، تاکہ لوگ تمہاری تقلید کریں۔ لہٰذا تمہارا فرض ہے کہ تم لوگوں کے حقوق ادا کرو اور انہیں زدوکوب نہ کرو کہ ان کی عزت نفس مجروح ہوجائے اور نہ ان کی بے جا تعریف کرو کہ وہ غلط فہمی میں مبتلا ہوجائیں۔ ان پر اپنے دروازے بند نہ رکھو کہ زبردست کمزوروں کو کھا جائیں اور نہ ان پر کسی بات میں اپنے آپ کو ترجیح دو کہ یہ ان پر ظُلم کرنے کے مترادف ہے۔‘‘
سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دور خلافت میں’’بیت المقدس‘‘ کو فتح کرنے اور ’’قیصر وکسریٰ‘‘ کو پیوند خاک کر کے اسلام کی عظمت کا پرچم لہرانے کے علاوہ شام، مصر، عراق، جزیرہ خوزستان، آرمینیہ، آذر بائیجان، فارس، کرمان، خرسان اور مکران (جس میں بلوچستان کا بھی کچھ حصہ آجاتا ہے) سمیت دیگر کئی علاقے فتح کیے۔
سیدنا حضرت عمر فاروقؓ 22لاکھ مربع میل کے مقتدر فرماں روا تھے، لیکن آپؓ کے تقویٰ ، سادگی اور زہد و قناعت کا یہ عالم تھا کہ آپؓ کے کرتے پر کئی پیوند لگے ہوتے اور غذا میں خشک روٹی اور کھجور کھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی اور احساس ذمہ داری کا احساس اتنا شدید تھا کہ آپؓ فرمایا کرتے تھے۔ اگر ساحل فرات پر کوئی کتا بھی بھوک پیاس سے مرگیا تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں اس کی جواب دہی کرنی پڑے گی۔
27 ذوالحجہ 23ھ کو آپؓ حسب معمول نماز فجر کےلیے مسجد میں تشریف لائے اور نماز شروع کروائی۔ ابھی تکبیر تحریمہ ہی کہی تھی کہ ایک شخص ’’ابو لولو فیروز مجوسی‘‘ جو پہلے سے ہی ایک زہر آلود خنجر لئے مسجد کی محراب میں چھپا ہوا تھا، اس نے خنجر کے تین وار آپؓ پر کئے جس سے آپؓ کو کافی گہرے زخم آئے۔ آپؓ بے ہوش ہو کر گر گئے، اس دوران قاتل کو پکڑنے کی کوشش میں مزید صحابہ کرامؓ زخمی ہو گئے ۔سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے زخم درست نہ ہوئے اور پانچویں روز ’’یکم محرم الحرام‘‘ کو 63 برس کی عمر میں ’’جام شہادت ‘‘ نوش کیا۔حضرت صہیبؓ نے آپؓ کا جنازہ پڑھایا اور ’’روضہ نبویؐ‘‘ میں خلیفہ اول سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پہلو میں دفن ہونے کی ابدی سعادت پائی۔

یہ بھی پڑھیں:  پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے نبھائیں