MR-MRS

کیا نکاح سے پہلے اجنبی عورت کو دیکھنا جائز ہے؟

EjazNews

اجنبی کو دیکھنا جائز نہیں ہے۔ لیکن اگر اس سے نکاح کرنے کا ارادہ ہے تو دیکھنا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب کسی عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو تو اگر دیکھنا ممکن ہو تو دیکھ لینا چاہیے۔ (اگر اس کو پسند ہو تو نکاح کرے نہیں تو نہیں) ‘‘۔ (ابودائود)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے آکر عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک عورت سے نکاح کرنا چاہاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ھل نظرت الیھا‘‘ تم نے اس کو دیکھ بھی لیا ہے ؟۔ میں نے عرض کیا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم دیکھ لو اس سے تم دونوں کے درمیان محبت اور اُلفت قائم رہے گی۔ ‘‘(احمد و ترمذی)
اور اس کے علاوہ کسی اور اجنبیہ کی طرف دیکھنا حرام ہے ۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مسلمان مرد اپنی نگاہو کو نیچی رکھیں اور مسلمان عورتیں بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ (سورہ النور)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مرد کسی مرد کی ستر (شرمگاہ) کی طرف نہ دیکھے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کی ستر کی طرف دیکھے۔ (مسلم )
اور کسی غیر محرم کو کسی اجنبی عورت کے پاس اکیلے رات کو رہنے سے منع فرمایا۔
اگر کسی عورت پر اچانک نظر پڑ جائے تو دوبارہ نہیں دیکھنا چاہئے۔ (احمد، ترمذی)
دیوروں سے پردہ کرنا چاہئے۔ (بخاری)
اگر کسی عورت پر اچانک نظر پڑ جانے سے دل میں کسی قسم کا خیال پیدا ہو گیا تو اپنی بیوی کے پاس آکر اپنی خواہش پوری کر لے۔ (الدارمی)
جن عورتوں کے خاوند گھر پر موجود نہیں ان کے گھر آنا جانا منع ہے۔ (ترمذی)
اندھوں سے بھی پردہ کرنا چاہئے۔ (احمد، ترمذی)
ہجڑوں کو گھروں میں نہیں آنے دینا چاہئے بلکہ ان سے پردہ کرنا چاہئے۔ (بخاری)
ننگا ہونا منع ہے۔ (ترمذی)
قصداً دیکھنے والے اور قصداً دکھانے والوں دونوں ملعون ہیں۔ (بیہقی)
جس لڑکی کا نکاح کرنا ہے اس کی اجازت ضروری ہے یا نہیں؟:
بہت ضروری ہے، بلا اجازت اور رضامندی کے اگر نکاح کر دیا گیا تو نکاح نہیں ہوگا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے خاوند والی عورت کا نکاح نہ کیاجائے۔ یہاں تک کہ اس سے صاف صاف امر دریافت کر لیا جائے اور کنواری کا نکاح نہ کیا جائے یہاں تک کہ اس سے اجازت لے لی جائے ۔ لوگوں نے کہا وہ شرم سے بات نہ کریگی اس کی اجازت کیسے معلوم ہوگی آپ نے فرمایا کہ اس کا چپ رہنا ہی اجازت ہے۔ ‘‘(بخاری)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کنواری لڑکی سے اس کے نکاح کے بارے میں دریافت کرلینا چاہئے اگر وہ خاموش رہے تو یہی اجازت ہے اگر انکار کر دے تو زبردستی نکاح جائز نہیں ہے۔‘‘ (ابودائود)
اگر باپ اپنی مرضی سے بغیر بیوہ کی مرضی اور اجازت کے نکاح کر دے تو یہ باپ کا کیا ہوا نکاح صحیح ہوگا یا نہیں؟:
صحیح نہیں ہوگا، حضرت خنساء بنت خدام فرماتی ہیں کہ : ’’ان کے باپ نے ان کا نکاح کر دیا تھا اور اس سے وہ راضی نہیں تھیں، وہ بیوہ تھیں۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا۔ ‘‘ (بخاری)
اور اگر کنواری کا نکاح بغیر اس کی مرضی کے کر دے تب بھی یہی حکم ہے۔ حضرت عباس ؓ فرماتےہیں:’’ ایک کنواری لڑکی نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہا کہ میرے باپ نے بغیر میری مرضی کے نکاح کر دیا تو آپ نے اس کو اختیار دیا۔(اگر چاہے تو توڑ دے یا باقی رکھے )۔‘‘ (ابودائود)۔
جوان لڑکے لڑکیوں کے نکاح میں جلدی کرنا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس کے کوئی بچہ پیدا ہو تو اس کا اچھا نام رکھنا چاہیے اور اچھا ادب سکھانا چاہیے۔ بالغ ہونے کے بعدنکاح کر دینا چاہئے اگر بالغ ہونے کے بعد نکاح نہیں کیا اور وہ کسی گناہ کا مرتکب ہو گیا تو اس کا گناہ اس کے باپ پر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ توریت میں لکھا ہوا کہ جس کی لڑکی بارہ برس کی ہو جائے اور اس کے باپ نے اس کا نکاح نہیں کیا اور وہ گناہ کر بیٹھے تو وہ گناہ باپ کے ذمے ہوگا۔ ‘‘ (بیہقی)۔

یہ بھی پڑھیں:  نکاح میں ولی کی کیا اہمیت ہے؟