indian kashmir

کشمیرکی آزادی میں تعلیمی اداروں، اساتذہ اور طلبہ تنظیموں کا کردار

EjazNews

کشمیر میں موجود اداروں ، تنظیموں ، اساتذہ ، طالب علموں آزادی کے ہر اول دستے کے طور پر ہمیشہ آگے رہے ہیں۔ ان کی تحریک میں پرتشدد پن ہمیشہ اس وقت آیا جب ان کو مجبور کیا گیا ۔ جیسا کہ اب ان کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ ایک ماہ کے قریب آنے کو ہے اور کشمیر میں کرفیوہے۔ دنیا خاموش ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری ہمیشہ سے حق و سچ کیلئے لڑے ہیں ۔ طلبہ تنظیموں اور اداروں کے کردار کو جانتے ہیں کہ کس طرح آزادی کشمیر میں ان کا اہم کر دار ہے۔
جماعت اسلامی کے تعلیمی ادارے:
جماعت اسلامی جموں و کشمیر نے 1953ء میں اپنے قیام کے فوراً بعد جس محاذ پر سب سے پہلے توجہ دی وہ تعلیم کا محازتھا، جماعت کے بانی امیر سعید الدین چونکہ خود ایک ماہر تعلیم تھے، اس لیے انہیں تعلیمی محاذ پر بھارت کی شروع کردہ تباہ کن یلغار کے اثرات و نتائج کا پوری طرح اندازہ تھا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی، جس کے مطابق پوری ریاست کے طول و عرض میں معیاری اسلامی تعلیمی اداروں کا ایک جال بچھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پہلا تعلیمی ادارہ 1956ء میں نواب بازار سری نگر میں قائم کیا گیا اور پھر 1975ء تک ان تعلیمی اداروں کی تعداد ڈیرھ سو سے زیادہ ہو چکی تھی۔ ان تعلیمی اداروں کے لیے مڈل کی سطح تک ایک ایسا جامع نصاب تعلیم تیار کیا گیا جس میں قرآن و حدیث اور اسلامی تعلیمات کو کلیدی حیثیت دی گئی جبکہ باقی مضامین مثل تاریخ، جغرافیہ، معاشرتی علوم ریاضی وغیرہ کی نصابی کتابیں بھی اس طریقے سے تیار کی گئیں کہ ان پر اسلام کی گہری چھاپ واضح طور پر دکھائی دے۔ مزید برآں ان کتابوں میں مسلمانوں کے جداگانہ ملی وجود، ریاست جموں و کشمیر کے اسلامی تشخص اور اس کی متنازعہ حیثیت کو بھی بھر پور طریقے سے اجاگر کیا گیا نیز علوم اسلامیہ پر مشتمل ایک ایسا نصاب تعلیم اضافی طور پر شامل کیا گیا جس سے سرکاری نصاب تعلیم کے ذریعے اسلام کے بارے میں پیدا کردہ غلط فہمیوں اور مغالطوں کا ازالہ بھی ہو سکے اور طلبہ و طالبات اسلام کی صحیح روح اور تعلیمات سے آشنا اور غلبہ اسلام اور آزادی و حق خود ارادیت کے جذبے سے سرشار ہو سکیں۔ علاوہ ازیں ان اداروں کی دیگر ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کا مرکز و محور بھی طلبہ کو علوم اسلام، جہاد فی سبیل للہ آزادی اور حق خودارادیت کے جذبے سے سرشار کرنا ہوتا ہے۔
جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے قائم کردہ ان تعلیمی اداروں میں پرائمری اور مڈل سکول بھی ہیں، ہائی سکول اور کالج بھی، طلبہ کے تعلیمی ادارے بھی اور طالبات کے تعلیمی ادارے بھی۔ اور ان کا معیار تعلیم اس قدر بلند ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو مشن سکولوں سے ہٹا کر جماعت کے سکولوں میں داخل کراتے ہیں۔ اسی طرح جماعت کے بعض شدید مخالفین نے بھی اپنے بچوں کو بہتر اور معیاری تعلیم و تربیت کے لیے جماعت کے تعلیمی اداروں میں داخل کرا رکھا ہے بلکہ یہاں تک کہ بعض ہندوؤں کے بچے بھی ان اداروں میں زیر تعلیم ہیں، چنانچہ ایک بار ریاست کے ایک ہندو وزیر نے جس کے بچے جماعت کے ایک سکول میں زیر تعلیم تھے، کشمیر اسمبلی میں یہ بات کہی تھی کہ جماعت اسلامی اتنی اچھی جماعت ہے کہ اگر اس کی طرف سے رکنیت کے لیے مسلمان ہونے کی شرط نہ ہوتی تو میں اس جماعت کا رکن بننا اپنے لیے باعث فخر سمجھتا۔
جماعت اسلامی کے ان تعلیمی اداروں میں جو خاموش انقلاب پروان چڑھ رہا تھا، اس کی وسعت کا انداز 1975ء میں اس وقت ہوا جب میر عبداللہ نے بھارتی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی سے معاہدہ کر کے کشمیری مسلمانوں کا ایک بار پھر سودا کیا اور بحیثیت وزیر اعلیٰ پہلے سے بھی کم تر تنخواہ پر بھارتی مقاصد کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ ان کے اس طرز عمل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والوں میں جماعت اسلامی، پیپلز لیگ اور محاذ آزادی و غیرہ جماعتوں کے ساتھ ساتھ ان تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والے نوجوان بھی پیش پیش تھے۔
شیخ عبداللہ نے جب یہ دیکھا کہ اس کے آقا ئے ولی نعمت بھارت کی طرف سے نافذ کردہ تباہ کن تعلیمی پالیسی کے باوجود نوجوان کشمیری مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نہ صرف یہ کہ ’’تہذیب شدھی‘‘ سے بچی ہوئی ہے بلکہ وہ ایمان اور جہاد کے جذبے سے سرشار اور آزادی و حق خود ارادیت کے علم بردار بن چکی ہے، تو اس نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہ سخت جان نوجوان کہاں سے آ گئے ہیں اور پھر جب اسے یہ معلوم ہوا کہ یہ جماعت کے قائم کردہ تعلیمی اداروں سے نکلنے والے نوجوان ہیں تو اس نے حواس باختہ ہو کر جماعت کے زیر اہتمام چلنے والے ان تمام تعلیمی اداروں کو بند کر دیا اور ان کی تمام جانداد بحق سرکار ضبط کر لی۔ اس وقت ان تعلیمی اداروں کی تعداد ڈیڑھ سو اور ان میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کی تعداد بیس ہزار کے قریب تھی۔
1981ء میں جماعت نے اس محاذ پر اپنی کاوشوں کا دوبارہ آغاز کیا۔ ’’فلاح عام ٹرسٹ‘‘ کے نام سے ایک رفاہی ادارہ قائم کر کے اس کے زیر اہتمام تعلیمی ادارے قائم کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس وقت ان تعلیمی اداروں کی تعداد ساڑھے تین سو کے لگ بھگ اور ان میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کی تعداد پچاس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار کے قریب ’’ ایوننگ سکول اور کالج ہیں جن میں سرکاری اور مشنری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو قرآن و حدیث اور اسلامی تعلیمات پر مشتمل ایک اضافی نصاب تعلیم پڑھایا جاتا ہے اور ان کی دینی و اخلاقی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تا کہ وہ غلبہ اسلام اور آزادی و حق خودارادیت کے جذبے سے سرشار ہو سکیں اور سرکاری اور مشنری تعلیمی اداروں کا مخصوص نظام اور نصاب تعلیم انہیں ان کے دین و ایمان اور شخص سے محروم نہ کر دے۔ ان تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کی موجودہ تعداد کم و بیش پچاس ہزار کے لگ بھگ ہوگی۔
یہاں یہ بات بطور خاص قابل ذکر ہے کہ ان تعلیمی اداروں سے گذشتہ برسوں کے دوران میں لاکھوں کی تعداد میں نوجوان زیور تعلیم سے آراستہ اور اسلام، آزادی اور حق خودارادیت کے جذبے سے سرشار ہو کر نکل چکے ہیں۔ اور یہ ایک امر واقعہ ہے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں آزادی و حق خودارادیت کی جو تحریک چل رہی ہے، اس کا ہر اول دستہ ان اداروں سے نکلنے والے نوجوان ہیں۔ چنانچہ اسلام ، آزادی اور حق خود ارادیت کی علم بردار سیاسی و دینی جماعتیں- جماعت اسلامی، پیپلز لیگ ،مسلم کانفرنس اور محاذ آزادی وغیرہ ہوں ، یا مجاہد تنظیمیں، حزب المجاہدین، حزب اسلامی، اللہ مائیگرز، لبریشن فرنٹ، آپریشن بالا کوٹ وغیرہ، ان کی صفوں میں غالب اکثریت ان تعلیمی اداروں سے نکلنے والے نوجوانوں کی ہے۔
مزید برآں ان تعلیمی اداروں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی کئی تنظیموں کے اکثر و بیشتر راہنما کئی کئی سال تک ان سے وابستہ رہے ہیں اور ان اداروں کی مخصوص مجاہدانہ فضا اور ماحول سے متاثر ہو کر انہوں نے بعد میں اپنی تنظیمیں قائم کیں۔ مثلاً ممتاز رہنما مقبول بٹ مرحوم جنہیں 1983ء میں جدوجہد آزادی کے جرم کی پاداش میں تہاڑ جیل میں پھانسی پر لٹکایا گیا، شروع میں ایک مدت تک جماعت کے ایک سکول میں بحیثیت مدرس کام کرتے رہے تھے۔ اسی طرح آپریشن بالا کوٹ کے نقیب اعلیٰ اور محاذ آزادی کے سابق صدر اعظم انقلابی بھی ایک مدت تک جماعت کے ایک ادارے میں پڑھاتے رہے ہیں۔ آزادی کے بارے میں ان حضرات کا نقطہ نظر اگرچہ جماعت کے نقطہ نظر سے خاصا مختلف ہے لیکن ایک بات بہر حال واضح ہے کہ ان حضرات میں آزادی و حق خود ارادیت کا جذبہ پروان چڑھانے میں ان اداروں کا بہت بڑا کردار ہے۔
اسلامک سٹڈی سرکل کے تعلیمی ادارے
جموں و کشمیر اسلامک سٹڈی سرکل ان اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو تحریک اسلامی کی دعوت سے متاثر ہیں، لیکن اپنی ملازمت کی مجبوریوں یا کسی دوسری وجہ سے تحریک اسلامی کے ساتھ باقاعدہ وابستگی اختیار نہیں کر سکتے۔ مثلاً یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں کے اساتذہ، ڈاکٹرز، انجینئرز اور دوسرے سرکاری ملازمین، وکلاء وغیرہ۔ اس تنظیم کے موجودہ سربراہ انجینئرنگ یونیورسٹی سری نگر کے شعبہ برقیات کے سربراہ ڈاکٹر یوسف العمر ہیں۔ اسلامک سٹڈی سرکل کی شاخیں ریاست کے طول و عرض میں قائم ہیں۔ اسلامک سٹڈی سرکل کی طرف سے ریاست میں معیاری اسلامی تعلیمی ادارے قائم کرنے کی طرف بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ اسلامک سٹڈی سرکل نے تعلیمی اداروں کے قیام کا یہ کام اگرچہ ستر کے عشرے میں شروع کیا ہے مگر مختصر سی مدت میں اس تنظیم کے زیر اہتمام ریاست کے تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں ایک سو سے زیادہ معیاری تعلیمی ادارے معرض وجود میں آ چکے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں وہی نصاب تعلیم پڑھایا جاتا ہے جو جماعت اسلام کے قائم کردہ تعلیمی اداروں میں پڑھایا جاتا ہے اور طریق تربیت بھی دی ہے۔ خصوصیت کے ساتھ اسلامک اسٹڈی سرکل کے زیر اہتمام سری نگر میں قائم کردہ اقبال میموریل انسٹی ٹیوٹ تو اپنے اعلی معیار تعلیم اور مخصوص دستی و اخلاقی ماحول کے اعتبارے اندرون و بیرون ریاست یکساں طور پر معروف ہے۔
انجمن تبلیغ اسلام کے ادارے:
انجمن تبليغ الاسلام ایک معروف دینی و تبلیغی جماعت ہے اور اس کے سر براہ معروف عالم دین مولانا قاسم شاہ بخاری ہیں۔ اس تنظیم نے بھی ریاست کے مختلف شہروں اور قصبوں میں اپنے تعلیمی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں مروجہ سرکاری نصاب تعلیم کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی اور دینیات کی وہ کتب نصاب بھی پڑھائی جاتی ہیں جو پہلے سرکاری تعلیمی اداروں میں رائج تھیں لیکن جن کی تدریس شیخ عبداللہ نے اپنے دوسرے دور حکومت میں ممنوع قرار دے دی تھی۔ اس اعتبار سے یہ انجمن خاصی مفید خدمت انجام دے رہی ہے۔
انجمن نصرت الاسلام کے ادارے:
انجمن نصرت الاسلام ریاست کی ایک قدیم تعلیمی اور تبلیغی انجمن ہے۔ اس کی داغ بیل ریاست کے ممتاز مذہبی خانواد، میر واعظ خاندان نے ڈالی تھی۔ اس انجمن کی سر پرستی کسی زمانے میں تحریک آزادی کے ممتاز قائد حضرت مولانا میر واعظ محمد یوسف شاہ فرمایا کرتے تھے۔ اس انجمن نے سری نگر سوپور اور کئی دوسرے شہروں اور قصبوں میں تعلیمی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں بھی مروجہ نصاب تعلیم کے ساتھ ساتھ عربی و فارسی اور دینیات کی وہ کتا میں پڑھائی جاتی ہیں جو 1981ء میں نصاب سے خارج کر دی گئی تھیں۔
جمعیت اہل حدیث کے ادارے:
جمعیت اہل حدیث ایک خالص دینی جماعت ہے۔ اس جماعت نے بھی ریاست کے مختلف حصوں میں اپنی مساجد کے ساتھ دینی تعلیم کے لیے ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ ان اداروں میں خالص دینی علوم پڑھائے جاتے ہیں۔
انجمن اتحادالمسلمین کے ادارے:
انجمن اتحاد المسلمین ریاست کے شیعہ مسلمانوں کی تنظیم ہے جس کے سر براہ مولانا عباس انصاری ہیں۔ اس انجمن نے ریاست کی شیعہ آبادیوں میں اپنے تعلیمی ادارے قائم کر رکھے ہیں جہا ں ان کے مخصوص عقائد و نظریات کے مطابق دینی تعلیم دی جاتی ہے۔
یوں اس وقت ریاست کے طول و عرض میں اسلام اور آزادی پسند قوتوں کے زیر اہتمام چلنے والے دینی اور تعلیمی اداروں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور ان تعلیمی اداروں سے اب تک فارغ ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ یہی وہ نوجوان ہیں جو آج مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف جاری تحریک جہاد میں ہر اول دستے کا کردار کر رہے ہیں اور جنہیں آج مقبوضہ کشمیر میں اسلام اور آزادی و حق خود ارادیت کی علم بردار جماعتوں اور مجاہد تنظیموں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ یوں یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ کہ اگر وہاں پر اسلام اور آزادی کی علم بردار قوتوں نے ان اداروں کے قیام کی طرف بروقت اور بھر پور توجہ نہ دی ہوتی تو آج وہاں پر بھارتی تسلط کے خلاف کسی تحریک کا اٹھنا تو الگ، شاید وہاں پر مسلمانوں کی نئی نسل میں اسلام اور آزادی و حق خودارادیت کا نام لینے والا بھی کوئی شخص نہ ملتا۔
اساتذہ کی تنظیم اسلامک سٹڈی سرکل:
تعلیمی محاذ پر بھارت کی تباہ کن یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلام اور آزادی کی علم بردار قوتوں نے اپنے جداگانہ تعلیمی اداروں کے قیام کے ساتھ ساتھ دوسرا بڑا کام یہ کیا کہ سرکاری اور مشنری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات میں دعوت دین کا کام کرنے کے لیے اساتذہ اور طلبہ کی ایسی تنظیمیں قائم کیں جو ان اداروں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو بھارت کی تہذیبی یلغار سے بچانے اور انہیں اسلام اور آزادی کی جدوجہد میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرتی ہیں۔
یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں کے اساتذہ میں کام کرنے کے لیے قائم کی جانے والی تنظیم اسلامک سٹڈی سرکل کا ذکر ہم قبل ازیں کر چکے ہیں۔ اس تنظیم میں اگرچہ ڈاکٹروں، انجینئروں، وکلاء اور تمام سرکاری ملازمین کی خاصی بڑی تعداد شامل ہے، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس میں غالب اکثریت یو نیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں کے اساتذہ پر ہی مشتمل ہے اور اس کے سربراہ ڈاکٹر یوسف العمر بھی ایک استاد ہی ہیں۔ اس تنظیم کی شاخیں ریاست کے طول و عرض میں چھوٹے بڑے تعلیمی اداروں میں قائم ہیں۔ اس سے وابستہ اساتذہ کی تعداد ہزاروں میں ہے۔نیز اس کے زیر اہتمام ریاست کے طول و عرض میں جگہ جگہ اسلامی لٹریچر پر مشتمل لائبریریاں اور دار الطالع قائم ہیں اور یہ تنظیم بیک وقت اساتذہ اور طلبہ دونوں طبقوں میں کام کر رہی ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کے خلاف مزاحمت کی موجودہ تحریک کے کئی راہنما ایسے ہیں جو اسلامک سٹڈی سرکل کی صفوں ہی سے آئے ہیں۔
طلبہ تنظیمیں:
تعلیمی محاذ پر بھارت کی سامراجی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں اسلام اور آزادی کی علم بردار قوتوں نے ایک دوسرا بڑا کام یہ کیا کہ طلبہ اور طالبات میں کام کرنے کے لیے اسلام اور آزادی کی علم بردار طلبہ تنظیمیں قائم کیں، ان طلبہ تنظیموں میں اسلامی جمعیت طلبہ اسلامی تحریک طلبہ اور اسلامک سٹوڈنٹ لیگ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
جموں و کشمیر اسلامی جمعیت طلبہ:
جموں و کشمیر اسلامی جمعیت طلبہ کا قیام 1974ء میں عمل میں آیا تھا۔ اس تنظیم کے قیام کا مقصد یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو بھارت کی تہذیبی و ثقافتی یلغارے بنا کر اسلام اور آزادی کے لیے کام کرنے والی قوتوں کی صفوں میں شامل کرنا تھا۔ اس کے پہلےناظم اعلیٰ جناب اشرف صحرائی تھے۔ 1976ء میں ایک دوسری طلبہ تنظیم اسلامک سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا اس میں ادغام ہو گیا جس کے نتیجے میں اس کے اثر و نفوز کے دائرے میں مزید وسعت کی۔ 1981ء میں جب اس کے ناظم اعلی شیخ تجمل الاسلام اور سیکریٹری جنرل ڈاکٹر ایوب ٹھا کر تھے، جمعیت نے تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونکنے اور مسئلہ کشمیر کو از سر نو زندہ کرنے کے لیے سری نگر میں ایک انٹر نیشنل کشمیر کا نفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا نفر نس کا موضوع تھا ’’مسئلہ کشمیر کا حل – اسلامی انقلاب‘‘۔ اگرچہ ریاست کی کٹھ پتلی حکومت نے اس کا نفر نس پر پابندی لگا دی تھی اور اس میں شرکت کے لیے بیرون ملک سے آنے والے ممتاز راہنماؤں کو ویزا دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ نیز کا نفر نس کے منتظمین کو گرفتار کر کے پس دیوار زنداں بھیج دیا گیا، لیکن اس کے انعقاد کے اعلان اور اس کو روکنے کے لیے کٹھ پتلی حکومت کے منتقمانہ اقدامات نے مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر عالمی ذرائع ابلاغ کا موضوع بنا دیا۔ داخلی طور پر اس صورت حال نے جمود اور بے حسی کو ختم کرنے اور عوام کے جذ بہ آزادی میں تحریک پیدا کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ یوں جمعیت کا یہ انقلابی اقدام تحریک آزادی کی راہ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ یوں اپنی اس جرأت رندانہ کے لیے جمعیت کی قیادت کو بڑے جانگسل مراحل سے گزرنا پڑا۔ چنانچہ جمعیت کے ناظم اعلیٰ تجمل الاسلام ایک مدت تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد جب رہا ہوئے تو ان کے لیے کھلے بندوں کام کرنا اس قدر ناممکن بنا دیا گیا کہ انہیں اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے روپوش ہونا پڑا اور وہ روپوش رہتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری رکھے رہے۔ اس طرح جمعیت کے سیکریٹری جنرل ایوب ٹھاکر کو جو اُس وقت کشمیر یونیورسٹی میں نیوکلیئر فزکس کے پروفیسر تھے، یونیورسٹی سے نکال دیا گیا اور پھر ان کے لیے کھلے بندوں کام کرنا اس قدر نا ممکن بنا دیا گیا کہ کچھ عرصہ روپوش رہنے کے بعد انہوں نے وہاں سے ہجرت کر لی۔ کچھ عرصہ کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ سے وابستہ رہنے کے بعد وہ برطانیہ میں مقیم ہو گئے تھے اور انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر سٹڈیز کے چیئر مین کی حیثیت سے تحریک آزادی کے سلسلے میں عالمی تائید و حمایت حاصل کرنے کے لیے کام کر تے رہے۔
اسلامی تحریک طلبہ:
اس تحریک کا قیام 1980ء کے عشرے میں عمل میں آیا۔ یہ تنظیم تحریک اسلامی کی دعوت سے متاثر ان نوجوانوں پر مشتمل ہے جو یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ اس عظیم کا طریق کار بھی قریب قریب وہی ہے جو اسلامی جمعیت طلبہ کا ہے۔
اسلامک سٹوڈنٹ لیگ :
یہ تنظیم بھی اسلام اور آزادی کے شیدائی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اسلام اور آزادی کی جدوجہد کی راہ میں اس کے ناظم طویل عرصے تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں اور ان کے والدین اور بہن بھائیوں کو بھی جیل میں رکھ کر اذیتیں دی گئیں لیکن اس کے باوجود ان کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آئی تھی۔ یہ تنظیم بھی 1980ء کے عشرے میں ہی قائم ہوئی تھی۔
ماحصل
مقبوضہ جموں و کشمیر کے اساتذہ و طلبہ میں برسوں سے کام کرنے والی ان اسلامی تنظیموں کے ذکرسے یہ بات پوری طرح نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ بھارتی سامراج نے کشمیری مسلمانوں کی نئی نسل کو ان کے دین و تہذیب سے بیگانہ کر کے اس کی ’’شدھی ‘‘کرنے کے لیے جو نظام تعلیم نافذ کیا تھا۔ الحمد للہ اسلام اور آزادی کی علم بردار قوتوں کی مؤثر منصوبہ بندی اور روز و شب کی کوششوں کے نتیجے میں اسی نظام تعلیم کے تحت قائم تعلیمی اداروں میں بھارت کے خلاف مزاحمت کی تحریک پروان چڑھتی رہی اور ان تعلیمی اداروں سے وابستہ اساتذہ اور طلبہ بھارتی تسلط کے خلاف مصروف جہاد قوتوں کے دست و بازو بنتے چلے گئے اور یوں
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
پروفیسر الیف الدین ترابی
(گزشہ سے پیوستہ )

یہ بھی پڑھیں:  خیبر پختونخوا میں ضم شدہ علاقے آپ کی مزید توجہ کے طالب ہیں