marriage

اسلام میں نکاح کی اہمیت

EjazNews

نکاح کے لغوی اور شرعی معنی ہیں :
نکاح کے معنی جماع اورہمبستری اور شادی کرنے کے ہیں۔ شرعی محاورہ میں اس عقد کا نام ہے۔جس سے مرد عورت کے درمیان جماع اورمیاں بیوی کے دیگر تعلقات حلال ہو جاتے ہیں۔ اس کی بہت شرطیں ہیں۔
عاقدین، ولی ، شاہدین، ایجاب ،قبول، استیذان ، استیمار،کفاءت،مہراور وغیرہ جن کا بیان آگے آرہا ہے۔
شرعی نکاح کی کیا دلیل ہے؟ :
قرآن مجید اور حدیث شریف سے اس کا ثبوت ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے۔” مشرکہ عورتوں سے نکاح مت کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں ۔“(البقرہ)۔ ”اپنی پسندیدہ عورتوں سے نکاح کرو ۔ دو یا تین یا چار سے۔“(النساء)۔ ”جن عورتوں سے تمہارے باپ دادوں نے نکاح کیا ان سے تم نکاح مت کرو ۔ “(النساء)۔ ”اپنی رانڈ عورتوں کا اور نیک غلاموں اورباندیوں کا تم نکاح کر دیا کرو۔ “(النور)۔ ”ان عورتوں کو اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے سے مت روکو۔ اور آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کوبھیجا اور ان کو بیبیاں دیں اور اولاد بھی ۔ “(الرعد)
اورتقریباً تمام نبیوں اور رسولوں نے نکاح کیا یہ ان کی سنت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”چار چیزیں رسولوں کی سنت سے ہیں۔ حیا ، خوشبو، مسواک، نکاح۔ (ترمذی)
اور آپ نے فرمایا: ”نکاح میری سنت ہے جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں۔ “ (ابن ماجہ)
نکاح کی فضیلت :
اس کی بڑی فضیلت ہے۔ ذیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چند حدیثیں نکاح کے فضائل کے بارے میں نقل کی جاتی ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے نوجوانو! جو تم میں سے نان نفقہ اورنکاح کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے اور جسے اس کی طاقت نہ ہو تو اسے روزہ رکھنا چاہئے اس لئے کہ اس سے اس کی نفسانی خواہش دب جائے گی گویا روزہ اس کو خصی کر دیتا ہے۔ تین شخصوں کی اعانت اللہ تعالیٰ کے ذمہ ضروری ہے غلام مکاتب جو مال کتابت کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتاہے۔ نکاح کرنے والا جو زنا سے بچتا ہے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا۔“(ترمذی)
ایک اور حد یث میں ہے ”جب بندہ نکاح کر لیتا ہے تو آدھے ایمان اور دین کو پورا کرلیتا ہے اب وہ آدھے باقی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ “(بیہقی)
ابوداﺅد میں ہے ”زیادہ اولاد جننے والی اور محبت کرنے والی عورت سے نکاح کرو کیونکہ میں تمہاری وجہ سے اور اُمتوں پر فخر کروں گا۔
ابن ماجہ میں ہے ”جو اللہ سے پاک و صاف ملنا چاہتا ہے وہ آزاد شریف عورتوں سے نکاح کر لے۔“
مسلم میں ہے ”انسان کے مرجانے کے بعد اس کے سارے اعمال موقوف ہو جاتے ہیں لیکن ان تین چیزوں کا برابر ثواب ملتا ہے۔ صدقہ جاریہ، نفع بخش علم، نیک اولاد جو اس کے حق میں دعا کرے۔ (نکاح کرنے سے اولاد پیدا ہوگی۔ “
ان حدیثوں سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوئیں۔
(۱)نکاح کرنے سے آدمی زنا اور حرام کاری اور نظر بازی سے محفوظ رہتا ہے۔ (۲) اللہ تعالیٰ اس کا معین و مددگار ہوتا ہے۔ (۳)اپنے آدھے دین اور ایمان کو پورا کر لیتا ہے۔ (۴) اس سے اولاد پیدا ہوگی اُمت محمدیہ میں زیادتی ہوگی اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیگر امتوں پر مباہات کا موقع ملے گا۔ (۵) اس سے اللہ اور رسول کی خوشنوی حاصل ہوتی ہے۔ (۶)گناہوں سے پاک صاف ہو کر اللہ تعالیٰ سے ملے گا۔ (۷) اس سے اگر نیک اولاد پیدا ہو گئی تو مرنے کے بعد دعا کرتی رہے گی جس کے سبب سے ان کے باپ کو ثوا ب ملتا رہے گا۔ (۸) اگر اولاد بچپن میں مر گئی تو والدین کے حق میں سفارش کرے گی۔ اللہ تعالیٰ اس کی سفارش منظور فرما کر والدین کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ (۹) اس سے دل کو راحت ہوتی ہے جس سے زندگی آسانی سے گزر جاتی ہے۔ (۰۱) کھانا پکانے اور دیگر امور خانہ داری میں اسی سے امداد ملتی ہے۔ (۱۱) بی بی بچوں کی تربیت اور نان نفقہ کی تکلیف برداشت کرنے کی وجہ سے اجر عظیم اور ثواب ملتا ہے۔ (۱۱) بی بی بچوں کی تربیت اور نان نفقہ کی تکلیف برداشت کرنے کی وجہ سے اجر عظیم اور ثواب جمیل کا مستحق ہوجاتا ہے۔ (۲۱) اس سے آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نکاح کے مثل محبت دو محبت کرنے والوں میں اور کسی چیز میں نہیں دیکھوگے۔ “ (ابن ماجہ)۔
نکاح ہی جانبین میں محبت پیدا کرانے کا ذریعہ ہے۔ (۳۱) دنیا کے عام مہذب اور متمدن قوموں میں اسلامی نکاح کا رواج نہیں ہے لیکن اسلام میں اس کی بڑی اہمیت ہے اور اس کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی ہے جیسا کہ آئندہ معلوم ہوگا۔(۴۱) نکاح نہ کرنے سے دُنیا میں بہت فساد پھیلتا ہے۔
نکاح سے فتنہ فساد دب جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب کوئی ایسا نیک چلن، دیندار تمہارے پاس نکاح کا پیغام بھیجے جس کے دین اور اخلاقی باتوں سے تم راضی ہو تو تم نکاح کر دو اگر نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد ہوگا۔ “ (ترمذی)
نکاح کرنا فرض ہے یا سنت؟:
نکاح کرنا فرض اور سنت اور حرام بھی ہے۔ شہوت کے غلبہ کی وجہ سے اگر زنا میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہیں ہے اور حقوق زوجیت ادا کرنے پر قادر ہے اور نان و نفقہ وغیرہ اچھی طرح ادا کرسکتا ہے تو ایسی صورت میں نکاح کرنا سنت موکدہ ہے ایسی حالت میں نکاح نہ کرنے سے گنہگار ہو گا۔ یہ تقریباً تمام انبیاءکی سنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو نکاح سے اعراض کرے وہ میرے طریقہ پر نہیں ہے۔ (ابن ماجہ) ۔ اور اگر زنا کا اندیشہ ہے تو زنا سے بچنے کے لئے نکاح کرنا فرض ہے اور اگر وہ نان و نفقہ کی طاقت بھی نہیں رکھتا اور نہ زوجیت کے حق کو ادا ہی کر سکتا ہے تو اس کے لئے نکاح کرنا حرام ہے۔
کن عورتوں سے نکاح کرنا اچھا ہے؟:
نیک سیرت و نیک صورت کنواری محبت کرنے والی عورتوں سے نکاح کرنا افضل ہے، یعنی چال چلن کی اچھی دیندار اور خوبصورت دوشیزہ ہو، اولاد جننے والی ہو، بانجھ نہ ہو اور کم مہروالی اورکم خرچ والی نسب والی اور اپنے خاوند سے محبت کرنے والی ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ان چار باتوں کی وجہ سے عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال اور اس کے حسب وجمال اور دین کے سبب سے ۔ تم دین والی کو ترجیح دے کر اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کر و۔ “(بخاری و مسلم)
آپ نے نیکا ور دیندار سے نکاح کرنے کی ترغیب دلائی ہے اورصرف حسن و جمال اور عزت کی خاطر نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو عورت سے اس وجہ سے نکاح کرتا ہے کہ وہ عزت والی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کرتا ہے اور جو اس کے مال کی نیت سے کرتا ہے تو اللہ اس کو محتاج کردیتا ہے۔ اور جو حسب کے خیال سے نکاح کرتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی کمینگی میں اضافہ کر دیتا ہے اور جو اپنی فرج کو گناہوںں سے بچانے یا صلہ رحمی کے خیال سے نکاح کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا فرماتا ہے۔ (الطبرانی)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دوشیزہ اورکنواریوں سے نکاح کرو اس لئے کہ وہ شیریں دہن اور زیادہ بچے جننے والی اور تھوڑی چیز سے زیادہ خوش ہونیوالی ہوتی ہے۔ “ (الطبرانی)
اور فرمایا: ”دُنیا کی ساری چیزوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور سب سے زیادہ فائدہ کی چیز نیک عورت ہے۔(مسلم ، بیہقی)
بیہقی میں ہی ہے ”زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورتوںس ے نکاح کرو تاکہ میںاور امتیوں پر تمہاری وجہ سے فخر کر سکوں۔ “

یہ بھی پڑھیں:  ظہار کسے کہتے ہیں؟