kashmir hour today

تحریک آزادی کشمیر : تعلیمی اداروں، اساتذہ اور طلبہ تنظیموں کا کردار

EjazNews

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے سامراجی تسلط کے خلاف جو تحریک مزاحمت آج ایک ہمہ گیر تحریک جہاد کی صورت اختیار کر چکی ہے، یہ نہ تو کسی اتفاقی حادثے کے نتیجے میں یکا یک معرض وجود میں آ گئی ہے اور نہ کسی وقتی جذبے یا رد عمل ہی کی مرہون منت ہے بلکہ یہ تحریک جہاد ایک فطری تسلسل ہے اس تحریک مزاحمت کا جو وہاں اسلام اور آزادی کی علم بردار قوتوں نے زندگی کے مختلف میدانوں میں بھارت کے سیاسی اور تہذیبی تسلط کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھی ہے۔ موجودہ تحر یک جہاد کے صحیح رخ اور تشخص کے صحیح فہم اور اس کی غیر معمولی ہمہ گیری اور عوامی اثر و نفوز کے بھر پور ادراک کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ اس کی پشت پر موجود جہد مسلسل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ اس کے بغیر نہ تو ہم موجودہ تحریک جہاد کی غیر معمولی ہمہ گیری اور عوامی اثر و نفوز کاصحیح ادراک کر سکیں گے اور نہ اس کے صحیح رخ اور تشخص کو پوری طرح سمجھ سکیں گے۔ اور جب تک ہمیں اس کے صحیح رخ اور اس کی غیر معمولی ہمہ گیری کا صحیح اندازہ نہیں ہو گا اس وقت تک نہ تو ہم اس کے ساتھ صحیح انصاف کر سکیں گے اور نہ اس میں اپنے صحیح اور بھر پور کردار کا تعین کر سکیں گے۔ لہٰذا اس حوالے سے ہمارے لیے یہ ناگزیر ہو جاتا ہے کہ ہم مقبوضہ کشمیر میں زندگی کے مختلف میدانوں میں بھارتی تسلط کے خلاف جاری تحریک مزاحمت کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی آئندہ حکمت عملی کا تعین کریں۔ یہ تحریک مزاحمت یوں تو زندگی کے تمام میدانوں میں جاری رہی ہے۔ لیکن ہم اپنی گفتگو کو دینی و تعلیمی اداروں اور طلبہ و اساتذہ کی تنظیموں کے کردار تک محدود رکھیں گے۔
کشمیر پر ہندوستان کا قبضہ، اخلاقی و قانونی حیثیت:
برصغیر کی گذشتہ نصف صدی کی تاریخ اور سیاست سے معمولی آگاہی رکھنے والا شخص بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ 1947ءمیں تقسیم برصغیر کے موقع پر انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت نے نہ تو تقسیم برصغیر کے اصولوں کو دل سے تسلیم کیا تھا اور نہ ان اصولوں کی بنیاد پر معرض وجود میں آ نے والی دولت خداداد پاکستان کو۔ اور یہ بات ان لوگوں نے کچھ زیادہ چھپا کر بھی نہیں رکھی تھی۔ چنانچہ گاندھی جی نے تو برصغیر کی تقسیم کو گاو¿ ماتا کے ٹکڑے کرنے کے مشابہ قرار دے کر اپنے دلی کرب کا اظہار کیا تھا، جبکہ ان کے رفیق کار اور بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے 1946ءمیں جب پاکستان کی تحریک زوروں پر تھی، ایک برطانوی ڈپلومیٹ سے گفتگو کر تے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا تھا:
”ہم اس وقت تو مسٹر جناح کا مطالبہ پاکستان تسلیم کر لیں گے لیکن پھر بتدریج ان کے لیے ایسے حالات پیدا کریں گے کہ وہ خود ہمارے پاس آ کر ہم سے یہ درخواست کریں کہ انہیں اپنے ساتھ شامل کر لیا جائے۔“
اور یہ ایک امر واقعہ ہے کہ 1947ءمیں بھارت کی طرف سے تقسیم برصغیر کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے 85 فیصد مسلم اکثریت رکھنے والی ریاست جموں و کشمیر پر جارحانہ تسلط کی سازش کا مقصد پاکستان کے لیے یہی حالات پیدا کرنا تھا۔ اس لیے کہ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اپنی اقتصادی، دفاعی اور نظریاتی اہمیت کے اعتبار سے یہ ریاست پاکستان کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، ورنہ کسی پہلو سے بھی دیکھا جائے، ریاست جموں و کشمیر کے بھارتی سامراج کے ساتھ الحاق کی کوئی آئینی و قانونی اور اخلاقی بنیاد نہیں بنتی اور اس حقیقت کا خود بھارتی لیڈروں کو پہلے دن سے بخوبی علم تھا۔
وہ اس حقیقت سے بے خبر نہیں تھے کہ کشمیر کے پاکستان کا حصہ بننے کا مفہوم خود مطالبہ پاکستان کے اندر شامل تھا۔ لفظ پاکستان میں کشمیر کا ”ک “پہلے سے شامل تھا اور اب مطالبہ پاکستان کو تسلیم کرنے کے بعد اس کے وجود کے ایک حصے پر غاصبانہ تسلط اصولی، قانونی اور اخلاقی کسی اعتبار سے بھی صحیح نہیں ہے۔
وہ اس بات سے بھی پوری طرح آگاہ تھے کہ ریاست کی 85 فیصد آبادی پر مشتمل مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس جسے اس وقت ریاستی اسمبلی میں مسلما نوں کی مکمل نمائندگی حاصل تھی، ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کر چکی تھی۔

اور یہ حقیقت بھی ان کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں تھی کہ مہاراجہ ہری سنگھ جسے ریاست کے بھارت کے ساتھ جبری الحاق کی سازش کے لیے ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا، کسی اعتبار سے بھی ریاست کے بھارت کے ساتھ الحاق کا مجاز نہیں تھا۔ اول وہ ریاست کا قانونی حکمران تھاہی نہیں، کیونکہ اس کے دادا راجہ گلاب سنگھ نے 1846ءمیں جس بیع نامہ امرتسر کے مطابق کشمیر کو اس کے باشندوں سمیت پچھتر لاکھ روپے کے بدلے میں انگریزوں سے خریدا تھا وہ بیع نامہ ہی غیر آئینی و غیر اخلاقی تھا۔
ثانیاً جس وقت وہ بھارت کے ساتھ الحاق کا معاہدہ کر رہا تھا۔ اس وقت اس نے پاکستان کے ساتھ پہلے ہی ایک STAND STILL معاہدہ کر رکھا تھا اور اس کی تنسیخ سے پہلے وہ کوئی دوسرا معاہدہ کرنے کا مجازہی نہیں تھا۔
ثانیاً جب وہ بھارت کے ساتھ یہ معاہدہ کر رہا تھا، وہ عملاً ریاست کا حکمران تھا ہی نہیں۔ بلکہ وہ اس وقت مجاہدین کے خوف سے ریاست کے دارالحکومت سری نگر سے بھاگ کر جموں میں پناہ لے چکا تھا۔
رابعاً مہا راجہ کو ریاست کے مستقبل کے بارے میں جو اختیار تقسیم برصغیر کے فارمولے کی روشنی میں دیا گیا تھا وہ اس شرط کے ساتھ مشروط تھا کہ ایسا کرتے ہوئے ریاست کے جغرافیائی حالات اور آبادی کے رجحانات کو ملحوظ رکھا جائے گا، اور ان دونوں پہلووں سے ریاست کا الحاق بھارت سے نہیں، پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔
کشمیر میں بھارتی پالیسی:
لیکن جب تمام اخلاقی، آئینی اور اصولی ضا بطوں کو پامال کرتے ہوئے بھارت نے غالب مسلم اکثریت کی اس ریاست پر اپنا غاصبانہ تسلط جمایا تو اسے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ جب تک اس ریاست میں اسلام اور مسلمانوں کا وجود باقی ہے اور اس کا اسلامی تشخص قائم ہے، اس وقت تک نہ تو وہ اسے اپنا اٹوٹ انگ بناسکتا ہے اور نہ اسے پاکستان کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے اڈے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ لہٰذا کشمیر پر اپنے غاصبانہ تسلط کے استحکام اور دوام کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ وہ وہاں سے اسلام، اسلامی تہذیب و تمدن اور مسلما نوںکا مکمل طور پر قلع قمع کرے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے اس نے باقاعدہ منصوبہ بندی سے کام کرنے کا پروگرام بنایا اور مشہور کشمیری پنڈت ڈی۔ پی۔ دھر کی قیادت میں ایک ٹیم اندلس بھیجی تاکہ وہ اس بات کا مطالعہ کرے کہ اندلس سے جہاں مسلمان آٹھ سو سال تک حکمران رہے تھے، اسلام، اسلامی تہذیب و تمدن اور مسلمانوں کا مکمل قلع قمع کس طرح ہوا تھا۔ تا کہ کشمیر سے اسلام، اسلامی تہذیب و تمدن اور مسلمانوں کے قلع قمع کے لیے اسی تجربے سے استفادہ کیا جا سکے۔ اس ٹیم نے وہاں پر تین ماہ تک قیام کر کے اس بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کی۔ بعد میں ان صاحب کو سفیر بنا کر روس بھیجا گیا۔ اس کے بعد ان کے ذمے یہ کام کیا گیا کہ وہ وسط ایشیا سے اسلام اور مسلمانوں کے قلع قمع کے سلسلے میں روسی سامراج کی اختیار کردہ حکمت عملی کے بارے میں بھی ایک رپورٹ پیش کریں۔ اور پھر ان دونوں رپورٹوں کی روشنی میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے اسلام، اسلامی تہذیب و تمدن اور مسلمانوں کے قلع قمع اور ریاست کے اسلامی تشخص کے خاتمے کے لیے ایک مربوط پالیسی وضع کی۔ جس کے اہم ترین پہلوحسب ذیل
1) کشمیری مسلمانوں کی نئی نسل کو اپنے دین و تہذیب اور ملی تشخص سے مکمل طور پر بیگانہ کر کے بھارت کی ہندوانہ تہذیب و قومیت میں جذب کرنا۔
2) معاشرے کی دینی و اخلاقی اور تہذی قدروں کو تہ و بالا کرنے اور فحاشی و بے حیائی اور اخلاقی بے راہروی کو فروغ دینے کے لیے ذرائع ابلاغ اور دیگر وسائل کو بے محا با استعمال کرنا۔
3) مسلمانوں کی وحدت ملی کو پارہ پارہ کرنے کے لیے ان میں مختلف قسم کی عصیتوں کو پروان چڑھانا۔
4) اسلام ، آزادی اور حق خود ارادیت کی تحریک کو کچلنے کے لیے ترغیب و تحریص، مکرو فریب اور جبر و تشدد کے ہتھکنڈوں کا بے دریغ استعمال کرنا۔
مسلمانان کشمیر کے دینی و ملی تشخص پر حملہ:
بھارت کی سامراجی حکمت عملی کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کی نئی نسل کو ان کے دینی و تہذیبی اور ملی تشخص سے بیگانہ کر کے بھارتی تہذیب و قومیت کا حصہ بنا دیا جائے تاکہ ان کا کوئی جداگان وجود باقی نہ رہ سکے۔ اپنے اس مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے بھارت نے جو مختلف النوع اسالیب اختیار کیے، ان میں سب سے اہم ایک ایسے نظام تعلیم کا نفاذ تھا جو کہنے کو تو سیکولر نظام تعلیم ہے لیکن عملاً یہ چار مختلف بلکہ متضاد عناصر کا ملغوبہ ہے۔
(1) قدیم ہندوانہ اور دیو مالائی تصورات و عقائد
(2) فلسفہ وحدت ادیان و متحدہ تہذیب و قومیت۔
(3) جدید مغربی لادینی افکار و نظریات۔
(4) بھارت کا ہندوانہ سیکولرازم۔
اس نظام تعلیم میں قدیم ہندوستان کے دیومالائی تصورات و عقائد اور ماقبل تاریخ کے تخیلاتی قصے کہانیوں کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ وہ انسانیت کا سب سے مثالی ماڈل ہیں۔ اسی طرح مغربی افکار و نظریات کے ایسے پہلوﺅ ں کو جن میں دینی عقائد و تصورات اور تعلیمات سے کھلا انحراف یا تضاد پایا جاتا ہوں، بطور خاص نصاب تعلیم کا جزو بنایا گیا۔ کہنے کو تو اسلامی تعلیمات اور تاریخ کے بعض حصوں کو بھی شامل نصاب رکھا گیا ہے لیکن یا تو یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اسلام اور ہندو مذہب میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے اور یا پھر اسلامی عقائد و تعلیمات اور تاریخ کے استخفاف اور تضحیک کے لیے، تاکہ مسلمانوں کی نئی نسل کے اندر سے اپنے جداگانہ ملی وجود اور شخص کا احساس ختم ہوجائے، یا وہ اپنے دین اور تاریخ سے متنفر ہوجائے۔ مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ لکھنا کہ وہ مکہ کے ایک چرواہے تھے اور جب ان کی عمر چالیس برس کی ہوگئی تو انہیں نبی ہونے کا احساس ہوا، اور جب ان کے نئے دین کی وجہ سے اہل مکہ نے ان کی مخالفت شروع کی تو وہ بھاگ کر مدینہ چلے گئے اور پھر جب وہاں پر ان کے پیروکار فاقوں کا شکار ہوئے تو انہوں نے اپنے پیرو کاروں کو روزے رکھنے کا حکم دیا۔ اسی طرح برصغیر میں اسلامی تاریخ کی عظیم شخصیتوں مثلا ًمحمد بن قاسم، محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، اور نگ زیب عالمگیر رحمہم اللہ کو ڈاکووں اور راہزنوں کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ شروع میں کچھ عرصے کے لیے ان مضامین کے ساتھ ساتھ عربی و فارسی اور دینیات کی تدریس کا اہتمام بھی تھا، لیکن 1975ءکے اندرا – عبد اللہ معاہدے کے نتیجے میں جب کشمیری مسلمانوں کی آزادی کا ایک اور سودا کر نے کے بعد شیخ عبد اللہ دوبارہ برسراقتدار آئے تو انہوں نے 1981ءمیں ان مضامین کو نصاب سے خارج کر دیا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
مسلمانوں کی نئی نسل کو ان کے دینی اور تہذیبی تشخص سے بیگانہ کرنے کے لیے نصاب تعلیم کی شدھی کے ساتھ ساتھ مزید اہتمام یہ کیا کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں کمیونسٹ اساتذہ کی تعیناتی ترجیحی بنیادوں پر کی گئی چنانچہ ایک سروے کے مطابق کشمیر یونیورسٹی میں جتنے بھی وائس چانسلر تعینات کیے گئے ان میں سے ایک دو کو چھوڑ کر باقی سارے کمیونسٹ تھے۔ اس سلسلے میں مزید اہتمام یہ کیا گیا کہ غیر معمولی طور پر ذہین اور باصلاحیت طلبہ و طالبات کے لیے ہر ضلع میں ایک ایک ماڈل سکول قائم کیا گیا ہے۔ پھر ان ماڈل سکولوں میں جو طلبہ اور طالبات مقا بلے کے امتحانوں میں اول آتے ہیں، انہیں فیض آباد (انڈیا) میں قائم ایک ماڈل کالج میں داخلہ دیا جاتا ہے اور وہاں سے اعلی تعلیم کے لیے مختلف کمیونسٹ ممالک – روس، ہنگری، بلغاریہ وغیرہ بھیجا جاتا ہے اور جب یہ لوگ وہاں سے اعلی تعلیم حاصل کر کے واپس آتے ہیں تو ان کا نام کے سوا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق باقی نہیں رہ گیا ہوتا۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے ریاست کی کلیدی اسامیوں پر انہیں کا تقرر کیا جا تا ہے۔
نئی نسل کو اپنے دین و تہذیب سے بیگانہ کرنے کے لیے ایک اور سازش یہ کی گئی ہے کہ اردو اور کشمیری دونوں زبانوں میں سے عربی اور فارسی کے الفاظ نکال کر ان کی جگہ ہندی اور سنسکرت الفاظ داخل کیے جا رہے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا مقصد تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی نئی نسل کا تعلق اس عظیم دینی و علمی سرمائے سے منقطع ہو جائے جو ان دونوں زبانوں میں موجود ہے۔ جبکہ ایک دوسرا مقصد ان زبانوں میں ریاست سے باہر شائع ہونے والے لٹریچر سے نئی نسل کو بے خبر رکھنا بھی ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نافذ کردہ اس استعماری نظام کے تحت نظام تعلیم کی طرح دیگر ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی اصل تر کیز اس چیز پر ہے کہ مسلمانوں کی نئی نسل کو ان کے دین و اخلاق اور تہذیب وتشخص سے بیگانہ کیا جائے، چنانچہ اس مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے تعلیمی اداروں میں رقص و سرود کی تعلیم کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ چنانچہ ثقافتی پروگراموں کے نام پر رقص و سرور کے مقابلے میں حصہ لینے والے طلبہ اور طالبات کو مقابلے کے امتحانات میں خصوصی اضافی نمبر دئیے جاتے ہیں۔
پھر چونکہ وہاں پر تمام سطحوں پر مخلوط تعلیم رائج ہے۔ ہندو اور مسلمان طلبہ و طالبات ساتھ ساتھ پڑھتے ہیں۔ اس لیے اکثر اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس مخصوص ماحول سے استفادہ کرتے ہوئے ہندو اور مسلمان طلبہ و طالبات کی آپس میں شادیاں کرائی جائیں اور پھر انہیں ہندو مسلم اتحاد اور یگانگت کا SYMBOL قرار دے کر اس کی خوب خوب تشہیر کی جائے اور سرپرستی بھی۔ اس طرح کی شادیاں چونکہ باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ہوتی ہیں، اس لیے ان کے نتیجے میں شدھی بالعموم مسلمان خاو ندیا بیوی ہی کی ہوتی ہے۔
شراب نوشی کی ترویج:
تعلیمی محاذ کے علاوہ مسلمانوں کی نئی نسل کو ان کے دین و تہذیب سے بیگانہ کرنے کے لیے جن دوسرے محاذوں سے یلغار کی گئی، ان میں سے ایک اہم محاذ ریاست میں سیاحت کے فروغ کے نام پر سرکاری سرپرستی میں شراب اور دیگر منشیات کی وسیع پیمانے پر ترویج ہے۔ چنانچہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت شہروں اور قصبوں میں ہی نہیں بلکہ دور دراز دیہات میں بھی نہایت ارزاں بلکہ برائے نام نرخوں پر شراب کی فراہمی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اور ریاست میں چونکہ اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ اس لیے اس ام الخبائث سے متاثر ہونے والوں میں بھی اکثریت مسلمانوں ہی کی ہوتی تھی۔
عریانی و فحاشی کی سرپرستی:
ایک اور محاذ جس پر بھارتی سامراج نے اس دوران میں بطور خاص توجہ دی، وہ مختلف ذرائع ابلاغ ریڈیو ٹیلی ویژن ، اخبارات وغیرہ کا مجاز ہے، جسے دینی و اخلاقی قدروں کی پامالی اور فحاشی و بے حیائی اور اخلاقی بے راہروی کے فروغ کے لیے بطور خاص مختص کر دیا گیا۔ رہی سہی کسر پوری کرنے کے لیے سرکاری سرپرستی میں سنیماو¿ں اور ویڈیو سنٹروں کا جال بچھا دیا گیا جن میں عریاں و نیم عریاں بھارتی فلمیں دکھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس محاذ سے ہونے والی یلغار کا ہدف اگرچہ پورا معاشرہ تھا، لیکن اصل ترکیز نوجوان پرتھی۔
اسلام اور آزادی کی علم بردار قوتوں کی حکمت عملی:
بھارتی سامراج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں اسلام، اسلامی تہذیب و تمدن اور مسلمانوں کے قلع قمع اور ان کی آزادی اور حق خود ارادیت کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے اختیار کردہ ان سامر ابی ہتھکنڈوں کو نگاہ میں رکھا جائے تو یہ حقیقت پوری طرح کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اگر وہاں پر اسلام اور آزادی کی علم بردار قوتوں نے بھارت کے ان سامراجی ہتھکنڈوں کے مقابلے میں پہلے دن سے ہی کوئی باقاعدہ اور ٹھوس منصوبہ بندی اختیار نہ کی ہوتی تو آج مقبوضہ کشمیرسے اسلام، اسلامی تہذیب و تمدن اور مسلمانوں کا مکمل طور پر قلع قمع ہوچکا ہوتا۔ اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہاں پر اسلام اور آزادی کی علم بردار قوتوں نے پہلے دن ہی سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تمام محاذوں پر ان سامراجی ہتھکنڈوں کا موثر توڑ کر نے کے لیے ایک ایسی جامع حکمت عملی اختیار کی جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ بھارتی سامراج اس مسلم ریاست سے اسلام، اسلامی تہذیب و تمدن اور مسلمانوں کے جذ بہ آزادی و حق خود ارادیت کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا بلکہ الحمد للہ اسلام کے احیاءاور حصول آزادی و حق خود ارادیت کی تحریک کا دائرہ روز بروز وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ آج یہ تحریک، ایک ہمہ گیر تحریک جہاد کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہاں ہم اپنے موضوع کی مناسبت سے اس جامع اور حکیمانہ حکمت عملی کے بعض پہلووں کا ذکر کرتے ہیں۔
تعلیمی اداروں کا قیام:
بھارت کی تباہ کن سیاسی اور تہذیبی جارحیت کے خلاف مزاحمت کے لیے اختیار کردہ اپنی جامع حکمت عملی کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اسلام اور آزادی کی علم بردار قوتوں نے جس چیز کی طرف سب سے پہلے توجہ دی وہ تعلیمی محاذ تھا۔ ایسے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا جن میں مسلمان طلبہ و طالبات کو جدید مروجہ تعلیم بھی دی جاتی اور ان کی دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کا بھی بھر پور اہتمام ہوتا تھا کہ کشمیری مسلمانوں کی نئی نسل نہ صرف یہ کہ بھارت کی تباہ کن تعلیمی اور تہذیبی یلغار سے محفوظ رہے جو اس نے ریاست میں مسلمانوں کی نئی نسل کی شدھی کے لیے اختیار کر رکھی تھی بلکہ وہ غلبہ اسلام اور آزادی و حق خودارادیت کے جذبے سے بھی سرشار ہو سکے۔ اس محاذ پر اسلامیان کشمیر کی جن جماعتوں اور تنظیموں نے بطور خاص توجہ دی، ان میں جماعت اسلامی جموں و کشمیر، اسلامک سٹڈی سرکل، انجمن تبلیغ الاسلام ، انجمن نصرت الاسلام ، جمعیت اہل حدیث، انجمن اتحاد المسلمین جیسی تنظیمیں بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ذیل میں ان جماعتوں اور تنظیموں کے قائم کردہ تعلیمی اداروں کی خصوصیات کا الگ الگ ذکر کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈیجیٹل ڈیوائسز پر پابندی


پروفیسر الیف الدین ترابی

(جاری ہے)