divorce

ازدواجی پریشانیاں کیوں جنم لیتی ہیں؟

EjazNews

دنیا کے ہر دوہرے تعلقات کے درمیان اختلاف کے اسباب خود بخود پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بالکل مدو جزر کی طرح ہوتے ہیں۔ جب جب طول پکڑتے ہیں توسکڑنے لگتے ہیں۔ لیکن مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب یہ جھگڑے اپنے فطری دائرہ سے باہر نکل آ تے ہیں اور منفی رویہ کے سبب اور کسی بات کے پیش کرنے کے لیے مناسب فضا نہ بنانے کے سبب مزید بڑھ جاتے ہیں، اس لیے کہ نفی جذبات سے جبری فضا میں گفتگو خطرہ کو مزید بڑھاتی ہے اور چھپی ہوئی نفسیاتی تہہ بہ تہہ پریشانیوں کو بڑھاتی ہے پھر فوراًہی اوپری سطح پر آ کر دشمنی بھرے الزامات ایک دوسرے پر لگاتی ہے جس کے بعد کے مرحلے میں فریق مخالف پر نازیبا جملے کسنے اور دل توڑنے والی باتیں اگلواتی ہے۔ اس طرح کی گفتگو دونوں کے درمیان انتہائی گرم لڑائی کا سبب بنتی ہے، جس میں ہر فریق اپنے مخالف کو اپنی قوت اور ضد کی انتہا دکھلانے پر تل جاتا ہے۔ گفتگو کا یہ مرحلہ اکثر اوقات شادی شدہ مرد وعورت کے درمیان پیش آتا ہے۔ جس کا واضح نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ازدواجی زندگی اخیر میں بند راستے پر جا کر رک جاتی ہے۔
جب میاں بیوی دونوں کسی مشکل کو حل کرنے کی بنیادی مہارتوں سے محروم ہو جائیں اور آپسی اختلافات کو حل کرنے میں بنیادی اصولوں کی پابندی نہ کریں تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ازدواجی تعلق کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے۔ یہ نتیجہ ایک طرف بار بار کی ذہنی پریشانی کے سبب نکلتا ہے تو دوسری طرف بیوی کی مناسب حمل سے ناواقفیت کے سبب جواس رستے ہوئے خون کو بہنے سے روک دے، اور ہر ایک کا اپنی رائے پراٹل رہنا اور شریک حیات پر مسلط رہنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
جب ہم کسی مشکل کوحل کئے بغیر چھوڑ دیں تو وہ دور استوں کی طرف نکل پڑتی ہے۔ ایک یہ کہ ایک ایسے شخص کا وجود ہو جاتا ہے جو کسی حال میں آپ کے ساتھ خوش نہ ہو اور اس سے مسلسل شکوہ و شکایت اور بے زاری کا حال سنتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ایک مصیبت جنم لیتی ہے جو آپ کے گھر میں بڑھنے لگتی ہے اور بڑھتی ہی رہے گی یہاں تک کہ ہر معاملہ اور زیادہ برا ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیں:  یہ ضروری نہیں کہ گھریلو تشدد صرف جسمانی صورت ہی میں کیا جائے
۔کھنچے ر ہنے والے ساتھی کو منانے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھائیں اور زندگی کے ہر ٹھہراﺅ پر اس کا ساتھ دیں

ڈاکٹر باری دی انجلیس جو گھریلو پریشانیوں کے علاج کی ماہر ہے اپنی کتاب ”حقیقی لمحات “میں ایک جگہ لکھتی ہیں ہر اچھوتا کام کسی تخیل سے شروع ہوتا ہے ۔ایک آرٹسٹ اپنے قلم کے استعمال سے پہلے اس چارٹ کا تصور کرتا ہے جس کی تصویر وہ بنانا چاہتا ہے۔ ایک انجینئر کسی عمارت کے ڈیزائن سے پہلے اس شکل کا تخیل کرتا ہے جس کو وہ بنانا چاہتا ہے۔ اس لیے تخیل پر ہی نئی تحقیق کی جو محبت قائم ہو، بنیاد ہے۔ جب تم اپنے تعلقات کے بارے میں یہ نہ دیکھو کہ وہ کہاں تک جا سکتے ہیں تو پھر یہ تعلقات اپنی جگہ پر ہی باقی رہیں گے۔ جب آپ کسی شخص کے ساتھ ایک تعلق رکھیں اور اس سمت پر متفق نہ ہوں جس طرف اس تعلق کو چلنا ہے، تو گویا آپ دنیا کے اردگرد کا سفرکسی نقشہ کے بغیر کرنا چاہتے ہیں ایسی صورت میں وقت اورخت برباد ہوگی اور آپ اپنے سفر سے ہرگز کچھ بھی حاصل نہیں کرسکیں گے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا خاندانی سفر کامیاب اور بامراد ہو تو میں سب سے پہلے ایک طے شدہ اور واضع تخیل اس زندگی کے بارے میں رکھنا ہوگا کہ ہم کیا چاہتے ہیں اور ہر نئے واقعہ کو وہ مثبت یا منفی پہلو قبول کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ اپنے آپ کے ساتھ اس سچائی سے ہمیں زندگی کو انکی تمام تفصیلات اور جزئیات کے ساتھ کسی قدر واضح مقصد کے ساتھ گزارنا آسان ہو گا۔ اس کے ذریعہ ہمیں زندگی کے موڑ اور حالات کی تنگ ظرفی کا سامنا کرنے میں مدد ملے گی۔ جیسے کہ ایک بڑی کشتی کا ملاح ایک چھوٹے سے اسٹرنگ کو تھامے سمندر کے چھلکوں کو چیر کر اپنے مقصد کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے، وہ مقصد جس کاتعین اس نے پہلے سے کر رکھا تھا۔
اسی طرح آپ کو ازدواجی زندگی کے ہرقسم کے اور مختلف صدموں کو برداشت کرنے کے لیے نفسیاتی طور پر تیار رہنا ہوگا۔ اس کے ذر یعہ ہماری توجہ زندگی کے باقی پہلوﺅں کی طرف مرکوز رہے گی ۔ہم اس کے لمحات ہنسی خوشی گزار سکیں گے۔ کیوں کہ اس سے ہمیں معنوی طاقت کا بڑا حصول مل جاتا ہے جس کے سبب ہم اس مقدس رشتہ کی حفاظت کر سکیں گے۔ ہمارا از دواجی تعلق دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی نعمت ہے۔ اور ہمیں چاہئے کہ ہم اس کی حفاظت کا طریقہ سیکھیں۔
یہاں تک کہ جو مشکلات اور پریشانیاں ہمیں کبھی بھی پیش آتی ہیں، ہوسکتا ہے کہ ہم ان کو کسی قدر تنگ نظری سے دیکھیں، لیکن یہ ممکن ہے کہ ہم ان پریشانیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے بڑا کر کے دیکھیں اور ان سے زندگی کا سبق لیں۔ بجائے اس کے کہ ہم اس کے غبار میں سانس لیں ۔ہمیں چاہے کہ تجربہ کی زیادتی اور اس کی تنقیح کے لیے ان پریشانیوں کو مفت کے درس اور لیکچر دیں۔ کیوں کہ ہماری زندگی با لآخر ہماری اپنی بنائی ہوئی ہے تو ایسا نہ ہو کہ دوسرے لوگ اس کا نقشہ ہمارے لیے کھینچیں اور اس کے حدود متعین کریں۔ ہم اپنی نکیل سنبھالنے کے دوسروں سے زیادہ حق دار ہیں۔ میرے دوستوں اور ساتھیوں کو میرے بارے میں معلوم ہے کہ میں ہمیشہ زمانی شہنشاہیت کے دور کے فلسفی مارکوس اویلیوس کا قول دہراتا رہتا ہوں۔ وہ اپنے مریدوں کے سامنے چیختا رہتا تھا کہ (اے میرے بچو !ہماری یہ زندگی اپنے افکار سے مل کر بنی ہے) ہماری یہ زندگی جسے ہم جی رہے ہیں وہ اتنی معمولی اور آسان نہیں ہے کہ ہم اس کو اپنے غموں اور غصوں کے ساتھ ملا کر رکھیں۔ لیکن ہم یہ کوشش کریں کہ اس کے مثبت پہلووں پرنظر رکھیں اور اس کو محبت کا گہوارہ بنا دینے چیلنج کریں اور اس کے الجھے ہوئے دھاگوں کو سلجھانے کے لیے مناسب اقدامات کریں نہ یہ کہ ہم اس کے رحم وکرم جئیں کیونکہ یہ ہم پر کبھی رحم نہیں کھائے گی ،زندگی در اصل ہر لحاظ سے تخت اور تکلیف دہ ہے ہم اپنے شوہروں پرغصہ ہونے اور لعنت اور ملامت کرنے اور اپنی منحوسیت کا سبب قرار دینے کے بجائے کیوں نہ یہ کوشش کریں کہ ہم ان کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنی زندگی کو پورے سکون سے ان کے ساتھ خوش وخرم گزاریں۔ اس لیے کہ انسانی نفسیات ایک دن اور رات میں نہیں بدل جاتی بلکہ اسے ایک وقت درکار ہوتا ہے۔ کیوں نہ ہم انھیں قبول کر لیں اور ان کی طبیعتوں کوبھی تا کہ ہم ان کے ساتھ ہم آہنگ ہوں اور ساتھ ساتھ ایک ہی راستہ پر چل پڑیں۔ ذراس پر بھی غور فرمائیں کہ زندگی کے جس ساتھی پر ہم ساتھ رہنے کے لیے راضی ہو چلے تھے وہی اب کیوں بدل رہا ہے اور اس طرح کارویہ اختیار کررہا ہے۔ شاید ہم ہی اس کا سبب ہوں گے ۔کھنچے ر ہنے والے ساتھی کو منانے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھائیں اور زندگی کے ہر ٹھہراﺅ پر اس کا ساتھ دیں۔ اپنی دعاوں میں اس کونہ بھولیں کیوں کہ انسانی دل جیسا کہ آپ جانتے ہیں اللہ رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہے اور وہ جیسے چاہتا ہے انھیں پھیر دیتا ہے۔
مترجم: سید محمد ظفر ندوی

یہ بھی پڑھیں:  بہتر سے بہتر کی تلاش میں شادی کی عمر گنواتی لڑکیاں