hajj-2019

حج سے واپسی پر حاجی کا استقبال کیسے کیا جائے؟

EjazNews

جو حاجی سے ملنے آئیں وہ حاجی کو یہ دعا دیں :”اللہ تیرے حج کو قبول فرمائے اور تیرے گناہوں کو بخش دے اور تیرے خرچ کا نعم البدل عطا فرمائے “۔ (طبرانی)
حاجی کا جواب:
اب تم حاجی ہو گئے ہو اپنے ملاقاتیوں کے حق میں دعا استغفارکرو ، حدیث میں ہے کہ حاجی جس کے لئے دعا استغفار کرتا ہے وہ بخشا جاتا ہے۔ اس کے لئے کوئی خاص دعا حدیث میں نہیں ہے جو مناسب ہو مانگو۔
اختتام سفر کی دعا:
الحمد للہ الذی لعزتہ وجلالہ تتم الصلحت (حاکم)۔ ”اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس کی عزت اور جلال کی بدولت اچھے کام سرانجام پاتے ہیں۔ “
شکریہ کی دعوت:
اگر تمہیں خدا توفیق دے تو غرباءو مساکین اور احباب کی ضیافت کرو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ بخاری شریف میں ہے:
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے مدینہ تشریف لاتے تو اونٹ یا گائے ذبح کرتے ۔
بحمد اللہ اب تم حاجی ہوگئے ہو حرمین شریفین کے مقامات مقدسہ کی زیارت سے مشرف ہو گئے ۔ تمہارے سارے گناہ معاف ہوگئے، تم نوزائیدہ بچے کی طرح بالکل پاک صاف ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کے پیارے ہو گئے، اللہ کے رسول کے لاڈلے بن گئے۔دنیا کی نظروں میں بزرگ بن گئے، غرض تم حاجی ہو کرسب کچھ ہو گئے، یہ سوچو کہ تم کیا لے کر گئے تھے اور اب کیا لے کر آئے اور اب کیا ہو گئے، اس لئے تم اپنے سفر کی ابتدائی اور انتہائی حالتوں پر غورکرو کہ ان تمام مرحلوں کے ختم کرنے کے بعد تمہارے ایمان و عمل میں کیا اضافہ ہوا۔ اگر دونوں پہلے سے زیادہ ہیں تو تمہارا حج مبرور اور تمہاری سعی مشکور اور تمہاری نیکی مقبول ہو گئی نہیں تو نہیں۔
حج سے پہلے تمہارے دل میں کامل ایمان تھا۔ جس نے تمہیں ان تکلیفوں کو برداشت کرنے پر آمادہ کیا اور تمہارے دل میں خدا کا خوف تھا کہ استطاعت کے باوجود نہ حج کرنے کی صورت میں یہودیت و عیسائیت کی موت ہو گی۔ تمہارے دل میں بیت اللہ اوربیت رسول کی محبت تھی ۔ جس نے تم کو مال و دولت وغیرہ کے خرچ کرنے پر مستعد کیا۔ ہزاروں روپے خرچ کئے ۔ تم نے ماں باپ خویش و اقارب کو چھوڑا، دنیاوی کاروبار کو بالائے طاق رکھا۔ چلتے وقت تم نے استخارہ کیا۔ تمہارے گناہوں سے توبہ کی ، حق والوں کو دیا، ان سے معافی چاہی لوگوں سے اپنا کہا سنا معاف کرایا۔ کیونکہ تمہارے دل میں یہ خیال تھا کہ یہ گویا آخرت کا سفر ہے واپس ہوں یا نہ ہوں۔ حق العباد کی عدم ادائیگی کی صورت میں حج نہیں ادا ہو گا مر گئے تو سخت سزا ہو گی گویا تم خدا کو دیکھنے لگے تمہیں برائیوں سے نفرت ہو گئی۔ نیکیوں سے رغبت ہو گئی دل میں تقویٰ، پرہیزگاری پیدا ہو گئی۔ چلتے وقت احباب اصحاب اور اہل وعیال کو روتے ہوئے چھوڑا۔ خود بھی آنسوﺅں کا دریا بہایا۔ سب کو اللہ کے حوالہ کیا آخر اللہ کے نام پر چلے سفر شروع کیا سفر کی دعائیں پڑھیں۔ خدا کے گھر کی طرف چلے جتنا ہی تم چلتے جاتے اتنی ہی محبت بڑھتی جاتی۔ راستہ میں تم نے کسی کو نہیں ستایا بلکہ حتیٰ الامکان آرام پہنچانے کی کوشش کرتے رہے اور بدکلامی اور بدزبانی سے رکے رہے۔ پانچوں نمازیں جماعت سے ادا کرتے رہے یا ادا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ہر وقت ذکر الٰہی میں گزارتے رہے۔ موقع موقع پر سفر کی دعائیں بھی پڑھتے رہے اور قرآن مجید کی تلاوت میں حصہ لیتے رہے توبہ استغفار میں مصروف رہے۔
احرام کے بعد:
تم نے احرام باندھ کر بعض مباح چیزوں کو حرام کر لیا فقیری لباس پہن لیا۔ پورے زاہد اور تارک الدنیا بن گئے ہر وقت لبیک اور خدا کی حاضری کا دم بھرنے لگے زینت اور بناﺅ سنگار کی چیزوں کو ایک دم چھوڑ دیا حتیٰ کہ عورتوں کی بے تکلفی سے بھی کنارہ کش ہو گئے اور چند دن کے لئے رہبانیت کی لنگوٹ کس لی سفر میں نہ شکار کیا اور نہ شکارپر کسی کو آمادہ کیا اور نہ کسی جاندار چیز کو مارا اور نہ ظلم کیا۔لبیک لبیک صدائیں دیتے رہے تمہاری اس ندا سے فضائیں گونجتی رہیں تم خشکی اورتری کی چیزوں کو اپنا گواہ بناتے جاتے رہے آخر تم خدا کے گھر پر گویا خدا کے پاس پہنچے اور نہایت شوق و محبت سے اس گھر کے گوشہ کو بوسہ دیا اس کے گھر کا چکر لگا اور ہر چکر آستانہ بوسی سے شروع کیا اور رکن کا استیلام کر کے خداکے ہاتھ پر مصافحہ کیا اور اسی پر ختم کیا ۔ ختم پر شکر کی مقام پر پہنچ کر دو رکعت نماز ادا کی پھر صفا و مروہ کی سعی کر کے حضرت حاجرہ ؓ کی یادگار کو زندہ کیا پھر منیٰ گئے اور عرفات میں پہنچ کر موقف خداوندی حاصل کر کے مزدلفہ میں شب باشی کی اور مشعر الحرام میں خدا کو خوب یاد کیا پھر منیٰ واپس آکر قربانی کی شیطانوں کو مار کر حجامت کرائی گویا آج عقیقہ جیسا سرمنڈایا مکہ میں آکر طواف زیارت سے مشرف ہو گئے۔ دنیا کے مختلف اطراف کے مسلمان بھائیوں سے ملاقاتیں کیں مسجد الحرام میں ہزاروں ولیوں کے ساتھ نمازیں ادا کیں سچ پوچھو تو تمنے نیکیوں سے اپنا دامن مراد کو بھر لیا اور جس چیز کو لینے کے لئے گئے تھے وہ سب کچھ لے کر آئے ۔ گناہوں سے بالکل پاک و صاف ہو گئے تمہارا ایمان حج کے پہلے کے ایمان سے بڑھ گیا ہے۔ تم نیکیوں کے سانچے میں ڈھل گئے تم شکل کے اعتبار سے انسان لیکن سیرت کے اعتبار سے فرشتہ بن گئے اس سے بھی افضل ہوگئے۔
حج کے بعد:
حج کے بعد سے زیادہ ایمانی شوق و جذبہ رکھو اور حج کی نیکیوں کو بچاﺅ ۔ تقویٰ پر ہیز گاری میں زیادہ سے زیادہ حصہ لو۔ حج کے فائدے سے خوب واقف ہو گئے ہو۔ ان فائدوں کو حاصل کرو ۔ جس طرح تم حج میں احکام شرعیہ پر پورے کاربند رہے حج کے بعد بھی اس سے زیادہ کار بند رہو۔ حج مبرور اور مقبول کی یہی علامت ہے کہ حج کے بعد اخلاقی اور ایمان و دینداری کا بہت زیادہ شوق ہو نیکیوں سے رغبت ہو، برائیوں سے نفرت ہو ۔ اعمال صالحہ کا زیادہ اہتمام رکھو۔ ہر کام سنت کے مطابق کرو، شرک و بدعت سے بچتے رہو۔ گناہ کرنا تو بہت دشوار جانو بلکہ گناہ کا ارادہ بھی نہ کرو۔

یہ بھی پڑھیں:  جنایاتِ حج