روم جلتا رہا اور نیرو بانسری بجاتا رہا

روم جلتا رہا اور نیرو بانسری بجاتا رہا

EjazNews

روم جلتا رہا اور نیرو بانسری بجاتا رہا۔ یہ محاورا یا کہانی یا کہاوت بہت عام ہے۔ آخر 18جولائی 64ءقبل از مسیح میں کیا ہوا جو آج بھی جملوں میں محاوروں کے طورپر استعمال ہوتا ہے۔ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔
اس روز رات کے وقت روم کی ایک عمارت نے آگ پکڑ لی اور اس نے پھیلتے پھیلتے بے شمار مکانوں کو راکھ کا ڈھیر بنادیا۔ یہی وہ آگ ہے جس نے روم کی تاریخ بد ل دی اور قدیم جلے ہوئے روم کی راکھ سے ایک نئے روم نے جنم لیا۔
نیرو کا زمانہ تھا ،آگ لگنے کے باوجود وہ بے فکر رہا۔ جس وقت یہ آگ بھڑک رہی تھی، اس وقت نیرو پہلے چین کی نیند سوتا رہا اور پھر دن کے اجالے میں بھی اس نے اس نے روم کی راکھ پر حکومت کرنے کی کوشش کی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آگ را ت کے اندھیرے میں نیرو نے خود لگائی ،وہ روم کے باشندوں کو جلا کے راکھ کر دینا چاہتا تھا۔ ایسی بے رحمی کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اسی لیے اس نے آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی۔ آخر یہ کس قسم کی آگ تھی جس پر قابو نہیں پایا جاسکا اور جس نے واقعتا پورے شہر کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ ایسی آگ پھر دنیا کے کسی شہر ، محلے میں نہ لگی۔تاریخ دانوں نے کسی گہرائی میں جانے کی بجائے سطحی طور پر ہی اس کا جائزہ لیا ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ آگ ایک مذہبی فرقے نے لگائی اور مذہبی فرقے کے نزدیک نیرو نے اسے نیست و نابود کرنے کے لیے آگ کا سہارا لیا۔ ان نظریوں کے پیچھے کوئی ٹھوس دلائل تو نہیں لیکن آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے خیال آرائی کی جارہی ہے۔ مبرخین کے نزدیک یہ دوسری آتش زدگیوں سے کہیں زیادہ شدید اور خوفناک تھی جب ہی تو پورے شہر کو آگ کا ڈھیر بنا دیا۔ کچھ نے اسے قدرتی المیہ قرار دیا۔
115قبل از مسیح نے مارکوس لی سینیس نے جنم لیا۔ اس نے 5سو غلاموں پر مشتمل اپنی ایک فوج بنائی۔ یہ فوج دراصل ماہرین تعمیرات ، انجینئرزاور بلڈرز پر مشتمل تھی۔ مورخین کے مطابق بعض لوگ جائیدادوں کے حصول کے لیے آگ کا سہارا لیا کرتے تھے۔ پہلے مکان کو نذر آتش کیا جاتا اور پھر اسے سستے داموں خرید لیاجاتا آخر جلا ہوا مکان کوئی مہنگے داموں کیوں خریدتا۔ مورخ Plutarchلکھتا ہے کہ روم نے 5سو ماہرین کے جتھے کی مدد سے مارکوس تعمیر و مرمت اور خریدو فروخت میں لگائی جاتی۔ اتنی بڑی فوج کا پیٹ پالنا عام آدمی کے بس میں نہیں۔ اس کے لیے اسے بڑے پیمانے پر تباہ حال عمارتوں کی ضرورت تھی۔ مبرخ لکھتا ہے کہ مارکوس Crassusکے علاقے میں جلی ہوئی عمارتوں کا کاروبار بھی کرتا تھا۔ جلے ہوئے مکانوں سے جڑے ہوئے مکانوں کی قیمتیں بھی گر جاتی ہیں۔ خوفزدہ مکین ان مکانوں سے بھاگ جاتے ہیں۔ وہ کئی عشروں تک یہی کاروبار کرتا رہا۔ 22قبل از مسیح میں آگسٹس نے آگ سے نبٹنے کے لیے 6سو غلاموں پر مشتمل فائر فائٹر کا جتھا بنایا۔ شہر بھر کی گشت کرنا اور جہاں کہیں آگ کو دیکھنا اسے بجھا دینا ہی اس کا کام تھا۔ یہ تمام غلام مجسٹریٹوں کی نگرانی میں کام کرتے تھے۔ روم میں ان مجسٹریٹوں کو Aedilesکہا جاتا تھا۔ شہر کی دیکھ بھال انہی کے ذمہ تھی۔ تاہم یہ جتھہ رسمی طور پر منظم نہ تھا۔ تاہم 21ویں قبل از مسیح میں ایک Egnatius Rufusنامی مجسٹریٹ نے لوگوں کی آگ بجھانے سے بہت شہرت حاصل کرلی۔ پتہ نہیں کیوں روفس کو حکومت نے گرفتار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
اس زمانے میں طاقتور سیاسی، لوگوں کا سب سے بڑا ہتھیار آگ ہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس ملکوں کے مستقبل کا تعین کرے گا
کشمیری روز مر رہے ہیں

چٹھی صدی عیسوی میں ایک سرکس کے گرد اور ایون ٹائن کی پہاڑی پر لگنے والی آگ کے نقصانات کا ازالہ بادشاہ نے اپنی جیب سے کیا۔ TYiberiusنامی شہنشاہ نے اپنی جیب سے لوگوں کو 10کروڑ Sestercesادا کیے۔ جس سے پورے روم میں اس کی نیک نامی میں اضافہ ہوا۔ 38ویں صدی عیسوی میں اسی شہنشاہ کے بنائے گئے ڈھانچے کو بادشاہ Caligulaنے ترقی دی اور اس نے آگ بجھانے کے لیے مزید فنڈز خرچ کیے۔ اب شروع ہوتی ہیں اس آگ کی کہانی کی جانب جس نے روم کو راکھ کا ڈھیر بنایا۔
مبرخین کے مطابق یہ آگ سب سے پہلے Circus Maximusسے شروع ہوئی۔ یہ علاقہ شہر کے مرکز میں قائم ہے اور آج کے جدید روم کے Colosseumکے قریب ہی واقع ہے۔ تاہم اس وقت اس عمارت کا نام و نشان نہ تھا۔ پھر یہ آگ Palatine hillکی طرف پھیلی اور پھر اس کے بعد Cealian hillکے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت وہا ں ایک سرکس لگا ہوا تھا۔ تیز ہوا کے ذریعے سے اس آگ نے سرکس میں لگی لکڑیوں اور اس کے کپڑوں کو جلا کر راکھ کر دیا۔ اس کے قریب ہی رومیوں کی رہائش گاہیں تھیں۔ نیرو یہاں سے 40میل کے فاصلے پر city of Antumمیں موجود تھا۔ مبرخین کے مطابق آگسٹس اور اس کی بیوی کے برعکس اسے آگ بجھانے میں کوئی دلچسپی نہ تھی نہ ہی وہ شہر کو بچانا چاہتا تھا۔ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ آگ کے پھیلنے کے بعد وہ اپنے شہر سے بھاگ نکلا۔ کیونکہ آگ کے شعلے Domus Transitoriaکے قریب پہنچ چکے تھے۔ یہ وہی جگہ ہے جس کی پیلا ٹائن ہل نامی پہاڑی پر اس کا محل واقع تھا۔ آگ کو پھیلتے دیکھ کر پہلے اس نے اپنے باغات کا جائزہ لیا۔ اپنے کھانے پینے کے سامان کو محفوظ بنایا اور پھر وہا ں سے بھاگ کھڑا ہوا۔
پھر آیا 24جولائی۔ 6دن میں آگ کے شعلے ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔ یہ آگ Esquiline hillپہنچ کر خود ہی ٹھنڈی پڑ گئی۔ ٹھوس پتھریلی چٹانوں اور عمارتی ملبے نے اس آگ کو وہیں روک لیا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس آگ کو بجھانے کے لیے لوگوں نے خود ہی اپنے مکانات کو گرادیا یا وہاں پر ملبے کے ڈھیر جمع کیے۔
26جولائی کو بجھی ہوئی آگ پھر بڑھک اٹھی اس مرتبہ یہ آگ نیرو کے اپنے محل میں لگی۔ جو Tigellinusکہلاتا ہے۔ یہ آگ 3دن تک بھڑکتی رہی اس آگ نے روم کے 14میںسے 10اضلاع کو راکھ کا ڈھیر بنادیا جبکہ 3اضلاع کا تو نام و نشان ہی باقی نہ رہا۔ صرف ایک ہی علاقہ محفوظ رہا اور وہ تھا Transtiberimیہ علاقہ ٹرایبل آئر لینڈ میں واقع ہے اور کیمپس مارتھیس کے جنوب میں ہے۔اگست 64ءسن عیسوی میں Severusنامی آرکیٹکٹ اور Celerنامی انجینئر نے شہر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ سب سے پہلے نیرو نے اپنا محل بنانے کا خوا ب دیکھا۔ جسے گولڈن ہاﺅس کہا جاتا ہے۔ یہی وہ ایک وجہ ہے جس کے لیے لوگ کہتے ہیں کہ آگ نیرو نے خود لگائی۔ کیونکہ سب سے زیادہ فائدہ نیرو کو پہنچا۔ آرکیٹکٹ اور انجینئر پہلے سے تیار تھے۔ چند ہفتوں کے اندر اندر محل کی تعمیر شروع ہو گئی۔ یہ محل تباہ حال جلے ہوئے مکانات کے ملبے پر بنایا گیا۔ نیرو نے اپنے محل کو اسی طرح چھوڑ دیا تھا ۔یہ ایک اور محل تھا کہا جاتا ہے کہ نیرو نے ایک مذہبی فرقے کو مورد الزام ٹھہرایا۔ وہ کہتا ہے کہ عیسائیوں نے اپنے مقصد کے لیے شہر کو جلایا۔ نیرو نے گھروں کی تعمیر کے لیے نئے ڈیزائن کی منظور دی۔ اس نے چھتو ں کو فلیٹ بنانے کی ہدایت دی تاکہ ان پر چڑھ کر آگ کو دوسروں گھروں تک پہنچنے سے روکا جاسکے۔
آج انڈیا کا نیرو مقبوضہ کشمیر کو جلا رہا ہے اور اس کے وزیر وہاں کی عورتوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ان کی نسل کی کشی کی جارہی ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ آج 25دن ہو چکے ہیں کسی کو نہیں معلوم مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ وہاں پر نہتے لوگ ہیں اور ہاتھ میں جدید اسلحہ تھامے فوجی ۔ وہاں پر نہ میڈیا کو جانے کی اجازت ہے، نہ انڈین لیڈروں کو جانے کی اجازت ہے، نہ وہاں سے کوئی کسی سے رابطہ کر سکتا ہے نہ کوئی ان سے رابطہ کر سکتا ہے نہ جانے کتنے لوگ بغیر ادویات کے مر چکے ہوں گے۔ نہ جانے کتنے سسک رہے ہوں گے اور نہ جانے وہاں کیا ہو رہا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا آپ کا وزیٹنگ کارڈ ہے؟