Rana sana ullah waif

کیا پاکستان کے نظام عدل پر واٹس ایپ کے ذریعے فیصلے مسلط کیے جائیں گے:احسن اقبال

EjazNews

یکم جولائی کو اینٹی نارکوٹکس فورس نے نے سہ پہر 3 بج کر 24 منٹ پر رانا ثناء اللہ کی بلٹ پروف لینڈ کروزر گاڑی کو راوی ٹول پلازہ پر روکا، ن لیگی رکن قومی اسمبلی کے مسلح گارڈز بھی ایک اور گاڑی میں ان کے ساتھ سفر کررہے تھے، اے این ایف نے دعویٰ کیا کہ رانا ثناء اللہ کی گاڑی کی تلاشی کے دوران خفیہ خانوں میں موجود بیگز میں چھپائی گئی 15کلو ہیئروئن برآمد ہوئی۔اے این ایف کے مطابق رانا ثناءاللہ کے 5 ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا گیا جن میں محمد اکرم، سبطین حیدر، عثمان احمد، عامر رستم اور عمر فاروق شامل ہیں۔
سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے خلاف منشیات کیس کی سماعت انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج مسعود ارشد کررہے تھے۔ ان کی خدمات واپس لے لی گئی ہیں جس کے بعد یہ کیس نئے جج آکر دوبارہ سٹڈی کریں گے اور اس کے بعد دلائل سنیں جائیں گے۔
کاش اپنے دور حکومت میں کسی حکومت نے ایسے کام کیے ہوتے جس سے عدالتی معاملات کو بہتر کیا جاتا۔ عدالتوں میں ہزاروں مقدمات ایسے چل رہے ہیں جن کے کیسوں کے فیصلے ان کی پہلی نسلوں نے بھی نہیں سنے۔ میں بذات خود ایک جج صاحب کی عدالت میں بیٹھا تھا جہاں پر ایک مقدمے کی سماعت ہو رہی تھی اور مقدمہ گندم کے اٹھانے کا تھا۔ یقین کیجئے اس کیس کو ایک سال گزر چکا تھا اور ان کو مزید 3کے بعد کی تاریخ ملی تھی ۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں پر لوگ دعائیں مانگتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں تھانوں، ہسپتالوں اور عدالتوں سے بچانا ۔

رانا ثناء اللہ عدالت میں پیشی کے موقع پر آتے ہوئے

اسی حوالےسے مسلم لیگ کے رہنمائوں نے پریس کانفرنس کی ۔
پاکستان مسلم لیگ(ن) کے احسن اقبال اور مریم اورنگ زیب نے لاہور میں مشترکہ کانفرنس کی جس میں ان کا کہناتھا کہ وزارت قانون نے عدالتی نظام پر حملہ کیا ہے۔وزارت قانون کا کام ہے کہ قانون اور انصاف کی امین ہو لیکن وہ وزارت کو حکومت کے ذیلی محکمے کے طور پر چلارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین میں ایگزیکٹو اور عدلیہ کی آزادی کی بنیاد رکھی گئی اور آزاد عدلیہ کے کاموں میں کسی قسم کی مداخلت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔جبکہ آج انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے عدلیہ کی آزادی پر واضح حملہ کیا گیا ہے اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف تمام مقدمات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ اس حملے نے نظام عدل کے اوپر بہت بڑے سوالیہ نشان کھڑے کردئیے ہیں کہ کیا مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے لیے اس ملک میں شفاف اور آزاد ٹرائل کا حق موجود ہے یا نہیں، کیا مسلم لیگ(ن) کے کیسز میں عدالتی عمل سے آزادانہ طور پر فیصلے ہورہے ہیں یا اس میں حکومت کی مداخلت شامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج کے اس فیصلے نے ایک بار پھر ثبوت دیا ہے کہ یہ مسلم لیگ(ن) کے خلاف پورا عمل حکومت کی مرضی سے چلایا جارہا ہے۔جبکہ حکومت عدالتی نظام پر جو شب خون مارا ہے ہم امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس کا نوٹس لے کر اس فیصلے کو کالعدم قرار دیں گے تاکہ آزاد اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے ہوسکیں۔لیگی رہنما نے کہا کہ اس سے بڑھ کر واضح مثال نہیں ہوگی کہ حکومت احتساب کے عمل کو اثرانداز کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

احسن اقبال پریس کانفرنس کرتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ رانا ثنااللہ کے جج کا ٹرانسفر اور مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کے مقدمات سننے والے جج صاحبان کو ٹرانسفر کرکے حکومت نے عدلیہ کی آزادی پر حملہ کیا ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی من مانی سے ججز کو ٹرانسفر کرنے اور ٹرائل کے دوران ججز کی تقرری میں مداخلت کی گئی ہے نواز شریف کے ٹرائل کے دوران ایک ریٹائر ہونے والے جج کو اس بنیاد پر توسیع دی گئی تھی کہ کیس میں خلل نہ پڑے اور جج صاحب ہی اس مقدمے کا فیصلہ کریں۔ رانا ثنااللہ کے کیس میں حاضر سروس جج کو اس وقت واٹس ایپ میسج کے ذریعے ٹرانسفر کیا گیا جب وہ ریلیف کی درخواست پر فیصلہ کرنے لگے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک واٹس ایپ کے ذریعے چلایا جارہا ہے۔ اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا کہ پاکستان کے نظام عدل پر واٹس ایپ کے ذریعے فیصلے مسلط کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کی آزاد کشمیر میں تقریر کے چرچے چار سو دیکھے جارہے ہیں