seccurity

ہوشیار رہیے ،سوشل دنیا میں اپنا ڈیٹا آپ نے خود محفوظ رکھنا ہے

EjazNews

سرچ انجن کوئی بھی ہو یا سوشل میڈیا ہو، بند کمپیوٹر کے ذریعے سے بھی ڈیٹا چوری کرنے کا الزام ہے۔ ایسا ہی ایک مقدمہ فیس بک کیخلاف امریکہ میں دائرہوا تاہم امریکی جج نے یہ فیصلہ کچھ تکنیکی بنیادوں پر مسترد کر دیاتھا۔ درخواست گزار نے کہا کہ فیس بک اس کے بند کمپیوٹر پر بھی اس کے ڈینے کو چوری کر سکتا ہے ۔ اس لیے فیس بک کیخلاف فیصلہ سنایا جائے۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے کوئی ایک ایسا واقعہ نہیں بتایا کہ جس سے پتہ چل سکے کہ فیس بک نے اس کا ڈیٹا چوری کیا ہے۔
مزید یہ کہ درخواست دہندہ جب کسی بھی ویب سائٹ پر جا کر لائق کے بٹن پش کر تا ہے تو یہ گوگل کے ریکارڈ میں بھی چلا جاتا ہے اور فیس بک کے ریکارڈ میں بھی۔بند کمپیوٹر پر بھی یہ ادارے کسی کا بھی ڈیٹا معلوم کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسے بہت سے طریقے موجود ہیں جن سے درخواست دہندہ اپنے سسٹم کو محفوظ بنا سکتا ہے۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج ایڈورڈ ڈیولا کے مطابق کیلی فورنیا کا یہ شہری اپنے سسٹم کو خود محفوظ بنانے اور پرائیویسی کو قائم رکھنے میں ناکام رہا۔ وہ چاہتا تو اپنی پرائیویسی کو مختلف طریقوں کے ذریعے سے محفوظ بھی بنا سکتا تھا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس لیے درخواست مسترد کی جاتی ہے، خواتین و حضرات آپ بھی ہوشیار رہیے ۔ آپ کے ڈیٹے میں مداخلت ہو سکتی ہے۔ گوگل ماضی اور حال کی ہسٹری کا بھی پتا چلا سکتا ہے۔ اگر آپ اپنی پرائیویسی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو اپنی سکیورٹی کے انتظامات آپ کو خود ہی کرنے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کہکشاں سکڑ رہی ہے