well of madina

مدینہ منورہ کے بعض کنوﺅں کا بیان

EjazNews

مدینہ منورہ کے جن جن کنوﺅں کے پانی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا ہے اور اپنا بچا ہوا پانی اس میں ڈال کر مشرف فرمایا۔ ان کی تعداد بہت ہے۔ ذیل میں ہم چند کنوﺅں کا تذکرہ کرتے ہیں تاکہ زائرین مدینہ ان کنوﺅں کی زیارت سے محروم نہ رہیں۔
بیراریس:
یہ کنواں مسجد قبا کے متصل ہے اسی کنوئیں میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیر لٹکائے تشریف فرما تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ آئے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے جانب آپ کے پاس اس میں پیر لٹکا کر بیٹھ گئے ۔ پھر حضرت عمر ؓ حاضر ہوئے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب پیر لٹکا کر بیٹھ گئے۔ پھر حضرت عثمان ؓ آئے اور اس جانب نہ ہونے کی وجہ سے دوسری جانب پیر لٹکا کر بیٹھ گئے۔ (بخاری) اسی کنوئیں میں حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی گر گئی تھی جو تلاش کے باوجود نہیں ملی، پہلے اس کنوئیں کا پانی کھاری تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب مبارک ڈالا جس کی وجہ سے اس کا پانی میٹھا خوش ذائقہ ہو گیا۔ راقم کو بھی اس کے پانی پینے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ فللہ الحمد۔
بیر غرس:
یہ کنواں مسجد قبا سے شمال کی جانب نصف میل کے قریب واقع ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا سے شمال کی جانب نصف میل کے قریب واقع ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پانی سے وضو کیا اور بچا ہوا پانی اس میں ڈالا اور ایک مرتبہ اپنا لعاب دہن مبارک اور شہد بھی ڈالا تھا۔ آپ اس کے پانی کو استعمال فرماتے تھے۔
بیر بضاعہ:
شامی دروازہ سے باہر نکل کر دروازہ کے متصل باغ جمل اللیل میں یہ کنواں ہے۔ اس کے پانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ہے اور لعاب بھی ڈالا ہے۔ اس کا پانی باعث شفا ہے، آپ کے زمانہ میں جب کوئی بیمار ہو جاتا تو اس کے پانی سے غسل کر لیتا، اللہ کے حکم سے شفا یاب ہو جاتا۔ راقم الحروف کو اس کا بھی پانی پینے کا شرف حاصل ہوا ہے اور اس کو ناپا بھی ، تین گز عرض ہے تین ہاتھ گہرا ہے۔ 1369ھ میں تیرہ ہاتھ پانی تھا۔
بیر بیر حاء:
باب مجیدی کے سامنے شمالی فصیل سے باہر ہے۔ حضرت ابو طلحہ ؓ کا بیر حاءباغ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ میں اکثر تشریف لائے اور اس کنوئیں کا پانی نوش فرماتے ۔حضرت ابوطلحہؓ نے آیت لن تنالو البر الآیة کے نازل ہونے کے بعد اس باغ کو وقف فرما دیا تھا۔ یہ کنواں اب ایک مکان کے ایک گوشہ میں آیا ہوا ہے، برمے (نل) سے باہر پانی نکالا جاتا ہے۔
بیر بصہ:
جنت البقیع کے متصل شہر پناہ کے نیچے یہ کنواں ہے، ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو سعید خدری ؓ کے پاس تشریف لائے تھے، تو آپ نے اس کنوئیں کے پانی سے غسل کیا اور سرمبارک کو دھو یا۔ اس جگہ دو کنوئیں ہیں، ایک چھوٹا اور ایک بڑا۔ علماءکا اس میں اختلاف ہے کہ آپ نے کس کنوئیں سے غسل فرمایا اور بیر بصہ کونسا ہے ایسی حالت میں دونوں کنوﺅں کے پانی کو استعمال کرنا چاہئے۔
بیر رومہ:
مدینہ منورہ کے شمال وغرب میں وادی عقیق میں ہے، پہلے یہ ایک یہودی کا تھا اس کا پانی میٹھا اورصاف تھا۔ یہودی اس کا پانی بیچتا تھا، مسلمانوں کو پانی کی بڑی تکلیف تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اس کے خریدنے کی ترغیب دلائی۔ حضرت عثمانؓ نے اس کو خرید کر وقف فرما دیا۔
بیر عہن:
عوالی مدینہ کے ایک باغ میں یہ کنواں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پانی سے وضو کیا ہے۔ اب اس ا پانی شورہ ہے اس کو بیر الیسیرہ بھی کہتے ہیں۔ یہ سات کنوئیں ہیں ان کو آبار سبعہ کہتے ہیں-

یہ بھی پڑھیں:  دوران طواف مختصر تنبیہات

ان کے علاوہ اوربھی بہت کنوئیں جن کا پانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال فرمایا ہے ۔ لیکن اب کنوﺅں کا وجود نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔