madina-majid-nabvi

مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر اور اس کی اہمیت

EjazNews

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر جب مدینہ طیبہ تشریف فرما ہوئے تو ابتداءمیں قبا میں قیام فرمایا ، جہاں مسجد قبا کی بنیاد ڈالی گئی، پھر چند روز قیام کے بعد مدینہ منورہ رونق افروز ہوئے، ناقہ مبارک خود بخود مسجد نبوی کے مقام پر بیٹھ گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہی قیام گاہ ہے۔ انشاءاللہ تعالیٰ۔
پھر حضرت ایوب انصاریؓ کے مکان میں قیام فرمایا، یہ جگہ دو یتیموں کی ملک تھی۔ آپ نے اس کو خرید فرمایا اور حکم ربانی اور وحی الٰہی سے مسجد کی تعمیر خام اینٹ سے شروع ہوگئی۔ صحابہ کرام ؓؓ نے اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تعمیر کرنے میں شریک ہوئے۔ آپ اینٹیں اٹھا اٹھا کر لاتے تھے اور صحابہ کرام کی تسلی اور تشفی اور دل بڑھانے کے لئے یہ دعا فرماتے:
ترجمہ: یا اللہ نہیں عیش مگر آخرت کا عیش پس تو انصار و مہاجرین پر رحم فرما۔ (بخاری)
اس وقت مسجد ستر ہاتھ لمبی اور ساتھ ہاتھ چوڑی تھی۔ مسجد کی دیوار سات ہاتھ اونچی تھی کھجور کے تنے کے ستون تھے اور چھت کھجور کی شاخوں سے پاٹی گئی تھی۔ مسجد میں دوبارہ توسیع کی ضرورت محسوس ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبر کے بعد 7ھ میں توسیع کا ارادہ فرمایا اور ایک انصاری سے جو مسجد کے قریب رہتے تھے ارشادفرمایا کہ بہشت کے ایک گھر کے عوض یہ جگہ ہمارے ہاتھ فروخت کر دو۔ انہوں نے عذر کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں غریب عیال دار آدمی ہوں اور اس کے سوا میرے پاس کوئی جگہ نہیں، آپ نے ان کے عذر کو قبول فرمایا۔ حضرت عثمان غنیؓ کو جب اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے دس ہزار درہم میں اس جگہ کو خریداا ور گارہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کو بہشت کے گھر کے عوض فروخت کرنا چاہتا ہوں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قیمت پر خرید کر اس زمین کو مسجد میں داخل کیا اور از سر نو مسجد کی تعمیر فرمائی۔ بنیاد میں پہلی اینٹ ا پنے دست مبارک سے رکھی۔اور دوسری حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اور تیسری اور چوتھی حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت عثمان غنی ؓ سے رکھوائی۔ یہ تعمیربھی صحابہ کرام کے ہاتھوں ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی تعمیر کرانے میں حصہ لیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام اینٹ اٹھا کر لارہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ اینٹ لارہے تھے ایک بار میری نگاہ پڑی تو دیکھا کہ آپ نے بہت ساری اینٹیں شکم مبارک سے سینہ مبارک تک بھر کر اٹھائی ہیں میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دے دیجئے میں لے چلوں، ارشاد فرمایا، اینٹ بہت پڑی ہیں تم بھی اٹھا لاﺅ اور یہ مجھے لے جانے دو، پھر ارشاد فرمایا ”ابوہریرہ عیش آخرت ہی کا عیش ہے) اس مرتبہ بھی تعمیر کچی اینٹ سے ہوئی پہلے کی طرح چھت پڑی اور مسجد کو طول و عرض میں بڑھایا گیا،اب مسجد سو ہاتھ طویل اور سو ہاتھ عریض ہو گئی۔ (تجلیات)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ خلیفہ ہوئے تو آپ نے مسجد نبوی میں کوئی اضافہ یا تغیر نہ فرمایا ، ہاں بعض ستون جو بوسیدہ ہو گئے تھے ان کی جگہ پر نئے ستون کھجور نبوی کے تنے ہی نصب کر دئیے۔ لیکن امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں 17ھ میں طول میں چالیس ہاتھ اور عرض میں بیس ہاتھ اضافہ فرمایا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ کی سمت اضافہ کا ارادہ تھا۔ اس لئے اس جانب اضافہ کیا گیا ۔ اگر آپ کا ارادہ نہ ہوتا تو میں ہرگز اس کا ارادہ نہ کرتا۔ نیز فرمایا اگر اس مسجد کو ذوالحلیفہ تک بڑھا دیا جائے ، تب یہ مسجد نبوی شمار ہوگی۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ تم مسجد کو بڑھانا اس لئے میں نے بڑھائی۔ ورنہ میں ہرگز مسجد نبوی میں تغیر نہ کرتا۔ جتنی چاہے لوگوں پر تنگی ہوتی۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے بھی مسجد کو کچی اینٹ سے تعمیر کرایا اور کھجور کے تنوں کے ستون نصب کئے اور کھجور کی شاخوں سے چھت کو پاٹا اور قبلہ کی جانب اور مغرب کی جانب میں اضافہ کیا، مشرق کی جانب میں امہات المومنین کے حجرے تھے۔ ان کو بدستور باقی رکھا، اب مسجد نبوی شمال و جنوب میں ایک سو چالیس ہاتھ ہو گئی اور مشرق و مغرب میں ایک سو بیس ہاتھ۔
خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جمعہ کے دن لوگوں کو جگہ کی بہت تنگی ہوئی آپ نے صحابہ کرام کو جمع کیا اور ان سے مشورہ فرمایا، جب سب متفق الرائے ہو گئے تو آپ ممبر پر چڑھے اور خطبہ میں لوگوں کو مسجد کی توسیع کی ضرورت اور ذی رائے صحابہ کا اس پر اتفاق رائے ظاہر فرما دیا اور اس کے جواز اور استحسان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور حضرت عمر فاروق کے قول اور عمل سے استدلال فرمایا جب سب مطمئن ہو گئے تو معماروں کو بلا کر تعمیر کا کام شروع کر ایا۔ خود بھی رات کو شب بیداری کرتے اور دن کو روزہ رکھتے اورتمام دن مسجد میں رہتے اور اپنے ہاتھ سے تعمیر کا کام کرتے۔ ربیع الاول 29ھ میں از سر نو تعمیر شروع ہوئی اور اوائل محرم 20ھ میں اختتام کو پہنچی۔ اس مرتبہ دیواریں بجائے خام اینٹ کے پتھر کی بنائی گئیں ۔ کھجور کے تنے کی جگہ پھولدار پتھر کے ستون لگائے گئے اور چھت ساج اور آبنوس کی لکڑی سے تیار کی گئی۔ (بخاری)
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل
اس مبارک مسجد کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس ہاتھوں نے رکھی جیسا کہ اس کا بیان تم اوپر پڑھ آئے ہو۔ یہی اس مسجد کے افضل ہونے کے لئے کافی شافی ہے۔ لیکن اس کے علاوہ قرآن و حدیث میں اس کی بڑی تعریف آئی ہے۔ قرآن مجید میں اس کو مسجد اُسس علی التقوی کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: البتہ جس مسجد کی نبوی پہلے ہی دن پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے۔ وہ بہت حقدار ہے کہ آپ اس میں نماز کے لئے کھڑے ہوں ۔ (التوبہ)
مسلم، ترمذی، مسند احمد وغیرہ میں یہ مشہور واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ مسجد اسس علی التقوی کے مصداق کے بارے میں دو صحابیوں کے بارے میں اختلاف ہوگیا۔ ایک کہتے تھے دونوں کا مصداق مسجد قبا ہے۔دونوں نے اپنے دعوﺅں اور دلیلوں کو بیان کیا۔ آپ نے سننے کے بعد فرمایا کہ اس مسجد سے میری مسجدی نبوی مراد ہے اور مسجد قبا میں بھی بہت بھلائی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے۔ “
مسجد نبوی میں چالیس نمازیں با جماعت مسلسل پڑھنے سے دوزخ اور نفاق سے بری ہو گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص میری مسجد میں چالیس نماز پڑھے، درمیان میں کوئی نماز نہ چھوٹنے پائے تو اس کے لئے دوزخ سے برات لکھی جاتی ہے اور عذاب سے اور نفاق سے بھی برات لکھی جاتی ہے۔ (احمد ، ترغیب)
اور ابن ماجہ کی روایت میں فرمایا کہ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے سے 50ہزار نمازوں کے برابر ثواب ملتا ہے۔
جنت الفردوس کا باغیچہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ شریف اور ممبر نبوی کے درمیان حصہ کو روضة الجنة (جنت کا باغیچہ کہتے ہیں۔)
رسول االلہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا حصہ باغیچہ ہے۔ جنت کے باغیچوں میں سے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔ “(بخاری)
بعض روایتوں میں ہے کہ میری قبر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اس حدیث کے معنی میں علماءکرام کے مختلف اقوال ہیں، بعض فرماتے ہیں کہ نزول رحمت اور حصول سعادت اور خیرو برکت میں مسجد نبوی کا یہ حصہ روضہ جنت کے مشابہ ہے بعض کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اس حصہ میں عبادت کرنا روضہ جنت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ بعض یہ فرماتے ہیں کہ در حقیقت یہ جنت کا باغیچہ ہے اس کو جنت سے منتقل کر کے یہا ں لایا گیا ہے۔ اور پھر جنت میں اس کو منتقل کر دیا جائے گا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
منبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
روضہ جنت کی طرح منبر نبوی کو بھی خاص فضیلت حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ”میرا منبر میرے حوض پر ہے اورایک روایت میں ہے ”میرا منبر جنت کی سیڑھیوں میں سے کسی سیڑھی پر ہے۔ یعنی جنت کے دروازے پر ہے۔ “ (احمد)
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ستونوں کی فضیلت
جنتی باغیچہ میں جس قدر ستون ہیں وہ خاص خاص برکات رکھتے ہیں۔ اتباع سنت کی نیت سے نماز و دعا وغیرہ میں مشونا ہونا باعث خیرو برکت ہے ان میں بعض ستون خاص طور پر قابل ذکر ہیں جن کو ذیل میں بیان کیا جاتا ہے۔
(۱) اسطوانہ جنانہ:
اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔ اس جگہ ایک کھجور کا تنا تھا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر بننے سےپہلے سہارا لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ جب منبر تیار ہوا تو آپ نے اس منبر پر خطبہ دینا شروع کر دیا۔ اور اس جگہ کو چھوڑ دیا تو اس فراق کی وجہ سے اس تنہ سے رونے کی آواز آئی جس کو سبہیوں نے سنا آپ اس کے پاس تشریف لائے اور اس پر دست مبارک رکھا، تب اس کا رونا بند ہوا۔ آپ نے فرمایا: ”اس کے پاس جو ذکر الٰہی ہوتا تھا اب منبر بن جانے کی وجہ سے وہ اس سے محروم ہوگیا اس کے رونے کی وجہ سے اس کو حنانہ کہتے ہیں۔ حنانہ کے معنی رونے والی اونٹنی کے ہیں۔ اس میں کوئی چیز لگ گئی تھی۔ اس کو خوشبو مل دی گئی ۔ اس لئے مخلقہ بھی کہتے ہیں یعنی خوشبو ملا ہوا ستون۔ حضرت امام مالک فرماتے ہیں، مسجد نبوی میں نماز کے لئے یہ جگہ سب سے افضل ہے۔ اسی جگہ محراب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے محرا ب بنا دی گئی ہے۔ جو آپ کے زمانہ تھی۔
(۲)اطوانہ توبہ:
اس کو اسطوانہ ابو لبابہ بھی کہتے ہیں۔ حضرت ابو لبابہ ؓ سے ایک لغزت ہو گئی تھی جس کی سزا میں انہوں نے ایک زنجیر سے اپنے آپ کو اس ستون میں کس دیا تھا اور توبہ قبول ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے کھولا آیت ”یا ایھاالذین امنو تخونو االلہ والروسول و تخونوا (الانفال) انھیں کی شان نزول میں نازل ہوئی ہے۔ محمد بن کعب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ستون کے پاس نفلی نماز پڑھتے تھے اور فجر کی نماز کے بعد اس جگہ تشریف رکھتے تھے اور طلوع آفتاب تک غرباءاور مساکین اور مہمانوں اور اصحاب صفہ سے باتیں کرتے تھے اور جس قدر رات کو قرآن نازل ہوتا وہ ان کو سناتے اور احکام الٰہی کی ان کو تعلیم دیتے۔ آپ نے اس کے پاس اعتکاف کیا تھا۔ (وفاءالوفا)
اسطوانہ مہاجرین:
تحویل قبلہ کے بعد سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی جگہ نماز پڑھائی تھی۔ پھر نماز کے لئے اس جگہ کو منتخب فرمایا جہاں محراب نبوی ہے۔ مہاجرین کی اکثریت نشست اسی جگہ رہتی تھی۔ اسی لئے اس کو اسطوانہ مہاجرین کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مسجد میں ایک جگہ ایسی ہے کہ اگر لوگوں کو اس کی فضیلت معلوم ہو جائے تو قرعہ اندازی کی نوبت آجائے ، لوگوں نے دریافت کیا آپ نے کسی مصلحت کی وجہ سے انکار کر دیا۔ بعد میں حضرت عبداللہ ابن زبیر ؓ کے اصرارپ ر بتایا اسی مناسبت سے اس کو اسطوانہ عائشہؓ اور اسطوانہ حرس، اسطوانہ جبرئیل، اسطوانہ تہجد وغیرہ ان سب کی پوری تفصیل وفاءالوفاءباخبار دیار المصطفیٰ میں ہے۔
مسجد نبوی میں ایک سایہ دار جگہ تھی وہاں غرباءو مساکین صحابہ رہا کرتے تھے اسی سائبان کو صفہ اور وہاں کے رہنے والوں کو اصحاب صفہ کہتے ہیں۔ ان کا شمار ستر تھااور کبھی کم و زیادہ ہو جاتے تھے، یہ سب علم کتاب و سنت حاصل کرتے تھ ے، وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہوتے تھے۔ آپ کو ان سے خاص تعلق تھا یہ لوگ خدا کے رسول کے بہت محبوب تھے ان لوگوں کے بارے میں آیت کریمہ ”واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم “(الکھف)۔ نازل ہوئی ، یعنی آپ اپنے نفس کو روکے رکھو۔ ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے رب کو پکارا کرتے ہیں۔ الخ۔
روضہ مقدس:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے اور مسجد نبوی کو تعمیر فرمایا تو مسجد کے شرق میں اپنے لئے دو حجرے بھی تعمیر کرائے ایک حضرت عائشہ کے لئے اور دوسرا حضرت سودہ ؓ کے لئے ، اس وقت یہ دونوں ازواج مطہرات تھیں۔ اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ کے جنوب میں متفرق اوقات میں دیگر ازدواج مطہرات کے حجرے تعمیر ہوئے، ابتداءمیں یہ سب حجرے کچی اینٹ سے بنے ہوئے تھے۔ مہاجرین کے اکثر مکانات بھی مسجد نبوی کے چوگردنبے ہوئے تھے اور اکثر کے دروازے مسجد کی جانب تھے۔ آپ نے حضرت ابوبکر ؓ کے دروازے کے سوا سب کو بند کروادیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 12ربیع الاول 11ھ یوم دو شنبہ حضرت عائشہؓ کے حجر ہ شریف میں انتقال فرمایا۔ اور اسی حجرہ میں آپ دفن کئے گئے۔ آپ کا سر مبارک بجانب غرب اور روئے مبارک بجانب جنوب ہے۔ زمین کا یہ ٹکڑا جتنا بھی اپنی ابدی سعادت پر ناز کرے بجا ہے۔ 22جمادی الاول 13ھ حضرت ابوبکر ؓ کی وفات ہوئی آپ آنحضرت کے مقابل یعنی قریب ایک فٹ نیچے سرکا ہوا ہے۔ پھر 27ذی الحجہ 23ھ کو بدھ کے دن حضرت عمر ؓ کی شہادت ہوئی۔ آپ بھی حضرت عائشہ ؓ کی اجازت سے وہیں دفن ہوئے ۔ آپ کا سر حضرت صدیقؓ کے شانہ کے مقابل یعنی ذرا نیچے سرکا ہوا ہے۔
جنت البقیع
مسجد نبوی سے کچھ فاصلہ پر مدینہ منورہ کا مشہور قبرستان ہے جہاں ہزاروں اصحاب کرام اور اولیائے عطام مدفونہیں۔ حدیث میں ہے کہ ا س قبرستان سے قیامت کے دن ستر ہزار آدھی ایسے اٹھیں گے جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی مانند چمکتے ہوں گے۔ اور وہ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ آپ یہاں زیارت کے لئے تشریف لاتے اور ان کے حق میںدعا فرماتے ”اے اللہ تو بقیع الغر قد والوں کی مغفرت فرماد ے ۔ “
ازدواج مطہرات، امہات المومنین و بنات ؓ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عثمان غنی اور حضرت حلیمہ سعدیہ و حضرت امام مالک اور دیگر شہدائے و صحابہ کرام و صلحائے عظام رضی اللہ عنہم کی نورانی پر سکون مزاروں پر نہ کوئی گنبد ہے اور نہ کوئی مجاور وزیب زینت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بیت اللہ شریف کے اندر داخل ہونے کی فضیلت