imran-khan-kashmir

ہندوستان کی حکومت نے تکبر میں وہ تاریخی غلطی کر دی جس سے کشمیریوں کو آزادی کا موقع مل گیا:وزیراعظم پاکستان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے کہا قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج میں صرف کشمیر پر بات کرنا چاہتا ہوں، کشمیر کی صورتحال کیا ہے اور ہم نے اب تک کیا کیا اور آگے کیا کرنے جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہوگئے ہیں، جہاں پاکستان کی کشمیر پالیسی کا فیصلہ کن وقت آگیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ پوری پاکستانی قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔
وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو ہماری پہلی کوشش تھی ملک میں امن پیدا کریں تاکہ ہم لوگوں کے لیے روزگار، تجارت بڑھائیں کیونکہ ہمارے مسئلے وہی ہیں، جو بھارت کے ہیں وہاں پر بھی بے روزگاری ہے، مہنگائی ہے، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دونوں ممالک کو مشکلات کا سامنا ہوگا اس لیے ہماری کوشش تھی کہ سب سے دوستی کریں۔ افغانستان میں ہم نے قیام امن کے عمل کی کوشش کی کہ وہاں کے مسئلے کا پُرامن سیاسی حل ہوجائے اور یہ سلسلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ہم نے حکومت میں آتے ہی بھارت کو کہا کہ آپ ایک قدم بڑھائیں ہم آپ کی طرف 2 قدم بڑھائیں گے اور کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرلیں گے لیکن شروع سے ہی مسئلے شروع ہوگئے، بھارت سے مذاکرات کی بات کرتے تو وہ کوئی اور بات شروع کردیتے تھے اور کسی نہ کسی طرح پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے کے موقع ڈھونڈتے تھے، ہم نے سمجھا کہ بھارت میں انتخابات قریب ہیں، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مسلم اور پاکستان مخالف مہم چل رہی تھی تو ہم پیچھے ہٹ گئے اور اس کے بعد پلوامہ کا واقعہ ہوگیا۔پلوامہ سے متعلق بھی ہم نے بتایا کہ کشمیر میں ظلم کی وجہ سے کشمیری نوجوان نے خود کو دھماکے سے اڑادیا تھا لیکن بھارت نے اس واقعے کا جائزہ لینے کے بجائے پاکستان کے اوپر انگلی اٹھائی اور موقع ڈھونڈا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم سے دنیا کی نظر ہٹ جائے اور سارا بوجھ پاکستان پر ڈالا جائے۔ بھارت نے یہی کیا جبکہ ہم نے کہا کہ اگر کوئی ثبوت فراہم کریں تو ہم کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ دنیا میں کوئی کھڑا ہو یا نہ ہو پاکستانی ہر صورت کھڑے ہیں اور حکومت پاکستان اور پاکستانی قوم نے سب کو بتانا ہے کہ اس مشکل مرحلے میں ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اور کشمیرپر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  طالبعلم کے ہاتھوں استاد کا قتل لمحہ فکریہ ہے:میاں شہباز شریف

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے کہا ہے کہ قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے باہر آئیں اور بتائیں کہ ہم سب ان کے ساتھ ہیں۔کشمیر کے لوگ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں اور ہم نے ان کو بتانا ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ہمارے سکول ، یونیورسٹیاں، کالج،آفس ،گھروں میں موجود لوگ سب نے آدھے گھنٹے کے لیے نکلنا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس ہفتے 12بجے سے لے کر 12:30بجے تک جہاں بھی آپ ہیں کشمیر کے لیے باہر نکلیں اور ہر ہفتے کیا ایونٹ کرنا ہیں قوم کو بتایا جائے گا۔ہمیں کشمیریوں کو بتانا ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں جب تک ان کو آزادی نہیں ملے گی ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جب تک نیو یارک میں اجلاس نہیں ہوتا اس وقت تک ہم سب نے باہر نکلنا ہے۔ ہم نے دنیا کو بتانا ہے کہ کشمیرپر کیا ظلم ہو رہا ہے اور کشمیریوں کو بتانا ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔انشاء اللہ وقت ثابت کرے گا کہ ہندوستان کی حکومت نے تکبر میں آکر کشمیر کے لوگوں کو آزادی کا موقع دے دیا ہے اس سے آگے وہ کچھ نہیں کر سکتے اب جو کرنا ہے ہم نے کرنا ہے اور کشمیر کے عوام نے کرنا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہٹلر اور نپولین کی حکومتیں تکبر کی وجہ سے ختم ہو گئیں۔ تکبر کی وجہ سے نریندر مودی نے تاریخی غلطی کر لی ہے۔ ان کا ایک منصوبہ تھا،کشمیریوں پر اتنا ظلم کریں گے کہ وہ چپ کر کے بیٹھ جائے گے اور دنیا کچھ نہیں کہے گی۔اور دوسرا ان کا پلان تھا کہ کہیں گے آزاد کشمیر سے اسلامک ٹیرارسٹ آرہے ہیں اس لیے ہم مجبور ہیں یہاں پر دہشت گرد مارنے کیلئے۔ ہمیں ساری معلومات مل چکی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  سعودی عرب میں پاکستانی میاں بیوی کے سر قلم

انہوں نے یہ بھی پلان کیا تھا جیسا بالاکوٹ میں حملہ کیا تھا ایسا کرنے کی کوشش ۔ ہم نے پوری دنیا میں مسئلہ کو اجاگر کیا۔ یونائیٹڈ نیشن کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلانے سے کشمیر کا ایشو انٹرنیشنل ہو گیا۔ تیسری انٹرنیشنل میڈیا کو ہم نے بار بار بتایا اور انہوں نے بھی اس کو اٹھایا جبکہ نریندر مود ی کی حکومت سمجھ رہی تھی نہیں ہوگا۔ ہمیں معلومات مل چکی تھیں کہ یہ کچھ کرنا چاہتے ہیں ہماری فوج پوری طرح تیار ہوگئ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں پاکستانی میڈیا کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے 5اگست کے بعد جس طرح یہ مسئلہ اٹھایا ہے اس سے انٹرنیشنل میڈیا کو بھی موقع ملا اس میں آپ کا بھی بہت رول ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی اور پوری دنیا کرفیو کے اٹھنے کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہاں پر کیا ظلم و ستم ہو رہا ہے۔
وزیراعظم نے یو این او کے ہونے والے اجلاس کے بارے میں حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس ہونے والے اجلاس تک دنیا بھر کے مسلمان یو این او کی جانب دیکھ رہے ہیں کیونکہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کو ان کا حق دلائیں گے۔ اب یو این او کا فرض بنتا ہے کہ وہ آگے آئے۔کشمیر پر جو ظلم ہو رہا ہے اور جو ہونے جارہا ہے اب یونائیٹڈ نیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور کی مدد کریں گے یا نہیں۔اب تک بدقسمتی سے یونائیٹڈ نیشن طاقتوروں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ ایسٹ تیمور کو ریفرنڈم دیا گیا اور وہ انڈونیشیا سے آزاد ہوگیا۔میں یونائیٹڈ نیشن کو بتانا چاہتا ہوں کہ سواارب مسلمان آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ صرف پاکستانی اور کشمیری نہیں دیکھ رہے ۔ جو لوگ انسانیت پر اعتبار کرتے ہیں وہ بھی آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔کیا یونائیٹڈ نیشن ان کی مدد کرے گی یا پھر یہ بڑے بڑے ملک اپنی مارکیٹس کی طرف دیکھیں گے۔ایٹمی جنگ کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر جنگ ہوتی ہے یہ نہیں صرف یہاں تباہی مچے گی۔ یہ دنیا کے اوپر اثر جائے گا۔ اب دنیا کی ذمہ داری ہے بڑے بڑے ملکوں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اگر کوئی آئے یا نہ آئے پاکستان تو اب ہر سطح پر آخری سانس تک ان کے ساتھ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا
غلام اسحق خان انسٹی ٹیوٹ میں نئے اکیڈمک بلاک کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم، سپیکر قومی اسمبلی، وزیراعلیٰ کے پی کے

جبکہ اس سے قبل صوابی کے غلام اسحٰق خان انسٹی ٹیوٹ میں نئے اکیڈمک بلاک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ‘تعلیم ہماری حکومت کی ترجیح ہے، حکومت معیاری تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، اچھے تعلیمی ادارے کبھی معیار گرنے نہیں دیتے، بعض اوقات جامعات پر برا وقت آتا ہے لیکن وہ معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتیں۔انہوں نے خود کو ‘سفیر کشمیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘قوم سے وعدہ کرتا ہوں جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا ہر فورم پر آواز اٹھاؤں گا اور کشمیر کے لوگوں سے وعدہ ہے کہ دنیا بھر میں کشمیر کا کیس لڑوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نہ بنتا تو آج ہمارے ساتھ وہی ہوتا جو مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے، پاکستان مخصوص وجہ سے بنا تھا اور پاکستان بنا کر دنیا کو بتانا تھا کہ اسلام کیا ہے، قائد اعظم نے بروقت ہندو انتہا پسندوں کی سوچ کو سمجھ لیا تھا، جبکہ بھارت کی انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا نظریہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا ہے۔ان کا کہنا تھا انسان کی ویژن اسے بڑا انسان بناتی ہے، انسانوں کے لیے کام کرنے والوں کو تاریخ یاد رکھتی ہے لیکن جو صرف اپنے لیے کام کرتے ہیں انہیں کوئی یاد نہیں رکھتا، جو پیسہ بنانے کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے اس کی زندگی میں سکون نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘کسی انسان کے آگے بڑھنے میں خوف سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی کو دہشت گرد قرار دیا سب نے ڈرایا اب نہیں بچوں گا لیکن میں خوفزدہ نہیں ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ‘ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں اداروں کو مضبوط بنانا ہے، ان اداروں کو آگے بڑھنے میں تھوڑا وقت لگے گا، ہمارے پاس معدنیات، شیل گیس اور تھر کول کے وسیع ذخائر ہیں جبکہ ہم صرف سیاحت سے خسارے کو پورا کر سکتے ہیں۔