Spinch

سائنسدان Spinachکے پتے سے دل کی دھڑکن کا پتہ لگانےمیں کامیاب

EjazNews

سائنسدانوں نے spinachکے پتے کو دل کی دھڑکن میں بدلنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ ایک لیبارٹری میںسائنسدانوں نے انسانی ٹشو کی نشوونما میں کامیابی حاصل کر لی۔ لیکن یہ کامیابی کسی انسانی جسم میں نہیں ہوئی۔ بلکہ سپینچ کے پتوں میں گردش دے کر حاصل کی گئی۔ اسے کسی قابل استعمال عزو میں جزو کرنا ممکن نہ تھا۔ اس ٹشو کی نشوونمادوران خون ضروری تھا۔ خون ہی دراصل ٹشووں کو غذائی اجزاءمہیا کر کے ان کی نشوونما کرتا ہے۔ چنانچہ سائنسدانوں کے لیے اتنی باریک خون کی نالیاں بنانا ناممکن تھا۔ لیکن قدرت نے یہ کام سپینچ کے پتے کی شکل میں سائنسدانوں کے لیے آسان کر دیا۔ ہرپتے میں پانی کی سپلائی کے لیے باریک کی نالیوں کا ایک علیحدہ کوٹہ ہے۔اسی نالیوں کے ذریعے غذائی اجزاءاور پانی پتوں اور درختوں تک پہنچتے ہیں۔ سائنسدانوں نے پودوں کی نالیوں کو انسانی خون کی نالیوں کے متباد ل کے طور پر لیا اور وہ اس تجربے میںکامیاب رہے۔ سائنسدانوں نے سپینچ کا پتہ لے کر اس کی نالیوں میں سے تمام نباتاتی سیل خارج کر دئیے اور اسے اپنے ٹشووں پر تحقیق کے لیے استعمال کیا۔ سائنسدانوں کے مطابق اس تجربے کی کامیابی کے بعد بون ٹشو انجینئرنگ، بونڈہیلو ، cartlesyٹشو انجینئرنگ کو فرو غ حاصل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  برگر نہ لانے پر بیوی نے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کر دیا