madina masjid

مدینہ منورہ کی مسجدوں کی فضیلت

EjazNews

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں صرف چند مسجدیں تھیں۔ بعد میں جن جن مقامات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنا ثابت ہے وہاں یادگار طور کے طور پر تبرکاً مسجدیں بنا دی گئیں تھیں ان کی تعداد سینکڑوں کے قریب ہے۔ مورخین نے ان کا ذکر خیر نہایت بسط و شرح کے ساتھ اپنی اپنی کتابوں میں کیا ہے مگر اب اکثر مسجدوں کا وجود تاریخ کے اوراق میں رہ گیا ہے۔ سطح زمین پر ان کا نام و نشان باقی نہیں بعض مسجدوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اگر خدا توفیق دے تو مدینہ منورہ پہنچ کر زیارت کر کے ثواب دارین حاصل کرو۔
مسجد قبا:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے تو مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے کچھ دن مقام قبا میں قیام فرمایا۔یہاں ایک مسجد کے بنانے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ آپ نے اس مبارک مسجد کی بنیاد اپنے دست مبارک سے رکھی ۔ یہ دنیائے اسلام میں سب سے پہلی مسجد ہے جس کے متعلق قرآن مجید میں یہ آیت نازل ہوئی
ترجمہ: جس مسجد کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ اور پرہیز گاری پر رکھی گئی ہے وہ اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میںنماز کے لئے کھڑے ہوں ۔(التوبہ)
اس مسجد کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ترجمہ: جو پاک ہو کر اپنے گھر سے اور مسجد قبا میں جا کر دو رکعت نماز پڑھے تو اس کو عمرے کے برابر ثواب ملتا ہے۔نسائی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار یا پا پیادہ مسجد قبا تشریف لے جاتے اور وہاں دو رکعت نماز نفل ادا فرماتے۔ (بخاری و مسلم)
اس مسجد کے متصل حضرت سعد بن خثیمہ ؓ کا گھر ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور آرام فرمایا تھا۔ اسی کے قریب بیراریس ہے جہاں آپ اور اصحاب ثلثہ ایک مرتبہ تشریف فرماتھے۔ اور بعد میں اسی میں حضرت عثمان ؓ کی انگوٹھی گر گئی تھی۔
مسجد جمعہ :
اس مسجد کو مسجد وادی اور مسجد عاتکہ بھی کہتے ہیں یہ قبیلہ بنی سالم بن عوف کی مسجد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز قبا سے روانہ ہوئے اور جب قبیلہ ابن سالم بن عوف میں پہنچے تو جمعہ وقت ہوگیا اسی جگہ آپ نے جمعہ کی نماز ادا فرمائی اسلام میں سب سے پہلا جمعہ یہیں پڑھا گیا۔ (وفاءالوفاءباخبار دیار المصطفیٰ)
مسجد فضیخ:
اس کو مسجد شمس بھی کہتے ہیں۔ مسجد قبا کے قریب پورب کی طرف اونچی زمین پر بغیر چھت کا احطاہ ہے، بنی نضیر یہودیوں کے محاصرہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ اس کے قریب نصب کیا گیا تھا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ روز تک نمازادا فرمائی تھی۔
جب شراب کی حرمت نازل ہوئی اور اس کی خبر انصار کو پہنچی اس وقت وہ فضیخ شراب پی رہے تھے۔ ان کے مشکوں میں یہ شراب بھری ہوئی تھی۔ حرمت کی خبر پا کر فضیخ شراب کو لوگوں نے پھینک دیا۔ اسی لئے اس مسجد کا نام مسجد فضیخ ہوگیا۔ (وفاءالوفا ء )
مسجد بنی قریظہ:
یہ مسجد باغات کے منتہی پر حرہ شرقیہ کے قریب مسجد شمس کے شرق میں واقع ہے۔ یہود بنی قریظہ کے محاصرہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ آرام فرما ہوئے اورنماز بھی ادا فرمائی۔ (وفا الوفاءباخبار دیار المصطفیٰ)
مسجد ماریہ قبطیہ:
اس مسجد کو مسجد ام ابراہیم بھی کہتے ہیں، مسجد بنی قریضیہ سے شمال کی جانب حرہ شرقیہ کے قریب نخلستان کے درمیان محض ایک چار دیواری ہے یہ ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا والدہ ماجدہ حضرت ابراہیم بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا باغ تھا جس میں ان کا قیام تھا۔ حضرت ابراہیم بھی یہیں پیدا ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیکھنے تشریف لے جاتے تھے اور اسی جگہ نماز بھی ادا فرمائی ہے۔ (وفاءالوفا باخبار دیار المصطفیٰ )
مسجد بنی قریظہ:
جنت البقیع سے پورب کی طرف واقع ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ صحابہ کے ہمراہ قبیلہ بنی ظفر میں تشریف لے گئے اورنماز ادا فرما کر ایک پتھر پر جلوہ افروز ہوئے اور ایک شخص کو قرآن پاک کی تلاوت کا حکم فرمایا ، جب قاری آیت فکیف اذا جئنا من کل امة بشھید وجئنا بک علی ھﺅلآشھیدا۔ (النسائ) ۔ پر پہنچا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے اور عرض کیا خدا وندا میں ان لوگوں پر گواہ ہوں جو میرے سامنے موجود ہیں اور جن لوگوں کو میں نے نہیں دیکھا۔ اس پر کس طرح گواہ بنوں ۔ (وفاءالوفاءباخبار دیار المصطفیٰ)۔
مسجد اجابہ:
بقیع سے شمال کی جانب بلندی پر واقع ہے۔ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب تشریف لے جارہے تھے آپ کا گزر اسی طرف ہوا تو آپ نے یہاں دو رکعت نماز نفل ادا فرمائی، آپ کے اتباع میں حاضرین نے بھی نماز پڑھی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دیرت ک دعا مانگی۔ جب وہاں سے واپس ہوئے تو ارشاد فرمایا کہ میں نے پروردگار عالم سے تین دعاکیں اول یہ کہ میری امت کو عمومی قحط میں ہلاک نہ فرما دوسرے یہ کہ عذاب غرق ان پر مسلط نہ فرمائے۔ تیسرے یہ کہ میری امت آپس میں قتال نہ کرے۔ حق تعالیٰ نے پہلی دو دعا کو قبول فرمایا اور تیسری دعا پر فرمایا کہ تیری امت کی ہلاکت باہم خونریزی سے ہوگی اس لئے اس کا نام مسجد اجابہ ہوگیا۔ (وفاءالوفا باخبار دیا ر المصطفیٰ)
مسجد نافلہ:
اس مسجد کو مسجد ابو ذر غفاریؓ بھی کہتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی کے ایک گوشہ میں پڑا ہوا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر تشریف لے جاتے ہوئے دیکھا۔ میں اٹھ کر پیچھے پیچھے ہو لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں تشریف لے گئے۔ وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی۔ اور ایک طویل سجدہ کیا حتیٰ کہ میں اس خیال سے کہ شاید آپ اس دار فنا سے رخصت ہو چکے، رونے لگا، پھر دیر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سے سر مبارک اٹھایا اورمجھ سے رونے کا سبب دریافت فرمایا۔ میں نے اپنے رونے کا سبب ظاہر کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور رب العزت کا یہ پیام لائے کہ جو شخص تجھ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت نازل کروں گا اور جو شخص تجھ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی بھیجوں گا۔پروردگار کی اسی نعمت پر میں سجدئہ شکر ادا کیا۔ (وفاءالوفا باخبار دیار المصطفیٰ)
مصلّٰی عید:
باب مصری کے قریب واقع ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ عیدین کی نماز اور استسقاءکی نماز ادا فرمئای اور نجاشی کی نماز جنازہ بھی یہاں پڑھی۔ (وفا ءالوفا ء )

یہ بھی پڑھیں:  مسجد الحرام کی فضیلت
اگر خدا توفیق دے تو مدینہ منورہ پہنچ کر زیارت کر کے ثواب دارین حاصل کرو

مسجد فتح:
یہ مسجد اور جو مساجد اس کے قریب ہیں سب مسجد فتح کہلاتی ہیں لیکن در حقیقت مسجد فتح وہ مسجدسلع سے پچھم کی جانب بلندی پر ہے اور مشرق و شمال کی جانب اس کی سیڑھیاں ہیں اس کو مسجد احزاب اور سجد اعلیٰ بھی کہتے ہیں۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کی لڑائی کے موقع پر مسجد فتح میں تین روز متواتر (دوشنبہ، سہ شنبہ، چہار شنبہ)دعا مانگی، چہار شنبہ کو اجابت کیدعا کی بشارت ہوئی جس سے سرور وفرحت کے آثار چہرے مبارک پر ظاہر ہو رہے تھے۔ حضرت معاذ بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد فتح اور ان مساجد میں جو اس کے متصل ہیں تنماز ادا فرمائی۔ ۔ پہلی مسجد اس کے پیچھے ہے اس کو مسجد علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اور جو پہاڑ کی جڑ میں قبلہ کی جانب سب سے چھوٹی مسجد ہے اس کو مسجد ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ غالباً ان حضرات نے غزوئہ خندق کے موقع پر ان مواضع میں قیام کیا ہوگا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبرکاً ہر جگہ نماز پڑھی ہوگی۔ جس کی یادگار میں یہ یہ مساجد تعمیر کی گئیں۔ (وفا ءالوفا ئ)
مسجد بنی حرام:
مسجد فتح کو جاتے ہوئے تقریباً نصف راستے پرجبل سلع کی گھاٹی میں واقع ہے یہاں ایک غار بھی ہے۔ ایام غزوئہ خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رونق بخشی اور بعض راتیں بھی اسی میں بسر فرمائیں۔ (وفاءالوفا ء )
مسجد قبلتین:
مسجد فتح سے پچھل کی جانب تقریباً نصف میل کے فاصلہ پر وادی عقیق اور بیر رومہ کے قریب واقع ہے۔ یہ بنی سلمہ کی مسجد تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نماز ظہر ادا فرماے رہے تھے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے تحویل قبلہ کی بشارت سنائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ہی میں بیت المقدس سے بیت اللہ کی جانب رخ کر لیا اور آخر کی دو رکعت بیت اللہ کی جانب منہ کر کے ادا فرمائی ہے۔ اسی لئے اس کو مسجد قبلتین کہتے ہیں۔ (وفاءالوفا ء )
مسجد ذباب:
اس کو مسجد رایہ بھی کہتے ہیں، شام کے راستہ پر ایک بلند جگہ پر واقع ہے۔ غزوئہ تبوک سے واپسی پر اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ مبارک نصب کیا گیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ نماز بھی پڑھی۔ (وفاءالوفا ء )
مسجد ذباب :
اس کو مسجد رایہ بھی کہتے ہیں، شام کے راستہ پر ایک بلند جگہ پر واقع ہے، غزوئہ تبوک سے واپسی پر اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ مبارک نصب کیا گیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ نماز بھی پڑھی ہے۔ (وفاءالوفا ء )
مسجد فسح:
مشہدامیر حمزہ رضی اللہ عنہ سے شمال کی جانب جبل اُحد کی جڑ میں واقع ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت یایھا الذین اٰمنو اذا قیل لکم تفسحو فی المجلس فافسحو (المجادلة ) اسی جگہ نازل ہوئی اور جنگ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر اور عصر اسی جگہ ادا فرمائی۔ (وفا الوفاء)

یہ بھی پڑھیں:  حج میں تاخیر کرنا