Ahmad Faraz-Death

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

EjazNews

محبت ایک ایسا بدیہی جذبہ ہے جو روح حیات ہے اور ہر ذی روح میں فطری طور پر کارفرما ہے ۔غزل کو آفاقی شہرت بخشنے والے شاعر احمد فراز کو جہان فانی سے کوچ کیے11برس بیت چکے ہیں مگر آج بھی ان کا شمار عصر حاضر کے مقبول ترین شعراء میں ہوتا ہے۔
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
دل منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسا
اور جب تجھ سے ملا ٹوٹ کے رویا کیسا
احمد فراز کا والدین سے ملا نام سید احمد شاہ تھا۔ 12جنوری 1931ء کو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید محمد شاہ برق بھی شاعر تھے ۔احمد فراز اردو ،فارسی اور انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری کے حامل تھے۔ ریڈیو پاکستان سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا، پشاور یونیورسٹی میں بطور لیکچرار بھی فرائض سرانجام دئیے۔ وہ اکادمی ادبیات پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل اور پاکستان نیشنل بک فائونڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے۔
احمد فراز کی عمومی شناخت رومانوی شاعری کے حوالے سے ہے۔ شعر کی رومانیت و جمالیت کیلئے ضروری ہے کہ اس میں وجدانی قوت اور خوش طبعی پائی جائے ۔
اس سے پہلے بھی محبت کا قرینہ تھا ہی
ایسے بے حال ہوئے ہیں مگر اس بار کہ بس
لوگ کہتے تھے فقط ایک ہی پاگل ہے فراز
ایسے ایسے ہیں محبت میں گرفتار کہ بس
وہ صرف رومانی شاعر نہیں تھے بلکہ انہوں نے ناانصافیوں کے خلاف ہر دور میں اشعار اور نظموں کے ذریعے صدائے احتجاج بلند کیا جس کی پاداش میں انہیں مختلف پابندیاں جھیلنی اور جلاوطنی بھی اختیار کرنی پڑی۔
آج ہم دار پہ کھنچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
احمد فراز کو ان کی ادبی خدمات کی وجہ سے ستارہ امتیاز ، ہلال امتیاز، آدم جی ادبی انعام، کمال فن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ لیکن وہ صرف شاعر نہیں تھے بلکہ ایک عمدہ انسان بھی تھے ۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں وہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ان سے ناراض تھے جس کا اظہار انہوں نے ہلال امتیاز کا ایوارڈ واپس کر کے کیا تھا۔
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
25اگست 2008ء کو احمد فراز اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔ لیکن وہ اپنی ادبی خدمات کی بنا پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

یہ بھی پڑھیں:  اللہ وسائی کا نورجہاں سے میڈم نور جہاں تک کا سفر