afgan taliban

اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے سب کی نظریں اسی پر ہیں

EjazNews

افغان حکومت، طالبان، پاکستان اور امریکہ اس کے فریق تھے جبکہ اب اس معاملے میں دیگر علاقائی طاقتیں اور جنگ جو گروپس بھی شامل ہو چکے ہیں، جنہوں نے افغانستان کی صورتحال کو مزید گھبیر بنا دیا ہے اور ظاہر ہے کہ افغانستان سے جتنے زیادہ ممالک کے مفادات وابستہ ہوں گے، ٹکرائو اتنا ہی بڑھے گا۔ افغانستان کے مسئلے میں چین ایک اہم عامل کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کی سرحدیں افغانستان، پاکستان اور وسط ایشیائی ممالک سے ملتی ہیں، جبکہ روس، ترکی، ایران اور بھارت بھی یہاں پہلے سے زیادہ فعال ہو چکے ہیں۔ افغان مسئلے پر ’’ہارٹ آف ایشیا کانفرنس‘‘ کے کئی ادوار ہو چکے ہیں، جن میں پاکستان، افغانستان اور افغان طالبان کے علاوہ ترکی اور چین بھی شریک ہوئے، جبکہ رُوس اور ایران کے بھی طالبان سے روابط کا ذکر وفتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے۔ تاہم، ابھی تک ان سفارتی کوششوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس سارے معاملے میں پاکستان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات افغانستان میں اس کے سب سے بڑے حریف، بھارت کا کردار ہے، جسے امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی، را، افغان خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر پاکستانی علاقوں، بالخصوص بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہی ہے اور بھارت، پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان اور بھارت کے درمیان خاصے پُرانے تعلقات ہیں، جو سوویت یونین کے خلاف جنگ اور مُلاعمر کے دور حکومت میں تعطّل کا شکار ہو گئے تھے، لیکن اب ایک مرتبہ پھر بھارت کی افغانستان میں دلچسپی خاصی بڑھ گئی ہے۔ بھارت اس وقت افغانستان کو مالی امداد بھی فراہم کر رہا ہے، وہاں ترقیاتی کام بھی کروا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی افغان اداروں اور سیکورٹی فورسز کو تربیت بھی فراہم کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب بھارت نے افغانستان کے ساتھ تجارت کی خاطر ایران کی چاہ بہار پورٹ میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے اور وہاں سے کابل تک ایک سڑک بھی تعمیر کروائی ہے، جو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہو گی۔ یہ سڑک اس سہ فریقی معاہدے کا حصّہ ہے کہ جو تہران میں ایران، افغانستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ افغان حکومت، بھارت کے کہنے پر پاکستان مخالف اقدامات کرتی ہے اور اس ضمن میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس کا بائیکاٹ مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جسے ماہرین بھی حقیقت قرار دیتے ہیں۔ امریکہ کی ترجیح افغانستان میں فتح حاصل کرنا ہے اور یہ حکمت عملی اس نے عراق میں فتح کے بعد تشکیل دی۔ پھر امریکہ ،چین اور روس کو افغانستان میں کسی سفارتی پیش رفت سے بھی روکنا چاہتا ہے، جبکہ پاکستان کا ماننا ہے کہ امریکہ، افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا ملبہ اس پر ڈالنا چاہتا ہے، حالانکہ وہ برسہا برس سے اس کا اتحادی ہے۔ اب امریکہ اور طالبات کے درمیان ون ٹو ون مذاکرات ہو رہے ہیں،البتہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ میدان جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابی بھی مذاکرات ہی کے ذریعے دیرپا اور مستحکم ثابت ہوتی ہے۔
گزشتہ روز امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرا ت کا ایک اور دور دورئہ ہوا جس میں امریکہ کا کہنا ہے یہ مذاکرات بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں۔یہ دوحا میں مذاکرات کا نواں دور ہے ۔طالبان کے ترجمان کی جانب سے بھی ایک بیان سامنے آیا کہ امریکہ سے مذاکرات کی کامیابی کے بعد افغان حکومت سے بھی مذاکرات کیے جائیں گے۔ اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے سب کی نظریں اسی پر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  طوفان سے پہلے 10لاکھ افراد کی نقل مکانی